- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت ام السائب کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو،بولیں بخار ہے اس کا ستیاناس ہو فرمایا بخارکو برا نہ کہو وہ تو انسان کی خطائیں ایسے دورکرتا ہے جیسےبھٹی لوہے کے میل کو ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أُمِّ السَّائِبِ فَقَالَ: “مَالَكِ تُزَفْزِفِينَ؟” . قَالَتِ: الْحُمّٰى لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا فَقَالَ: “لَا تَسُبِّي الْحُمّٰى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1543 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندہ بیمار یا مسافر ہوتا ہے تو اس کے وہی عمل لکھے جاتے ہیں جو وہ تندرسی اور گھر میں کرتا تھا ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهٗ بِمِثْلِ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيْماً صَحِيْحاً” رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1544 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ طاعون ہرمسلمان کی شہادت ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لكل مُسْلِمٌ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1545 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شہید پانچ ہیں ۱∞؎طاعون والا،پیٹ کی بیماری والا،ڈوبا ہوا،دب کر مرنے والا اور الله کی راہ کا شہید۔(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيْدُ فِي سَبِيْلِ اللهِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1546 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو حضورصلی الله علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے الله جس پر چاہے بھیجے ۱∞؎البتہ رب نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنادیا ایسا کوئی نہیں کہ جس کے شہرمیں طاعون پھیلے وہ وہاں صبرکرکے اجر کے لئے ٹھہرے یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی پہنچے گا جو الله نے اس کے لیئے لکھا مگر اسے شہید کا سا ثواب ہوگا ۲؎(بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي: “أَنَّهٗ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلیٰ مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللهَ جَعَلَهٗ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهٖ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يُصِيبُهُ الا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ الا كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ” . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1547 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طاعون ایک عذاب تھا جو بنی اسرائیل کے ایک ٹولہ پر یا تم سے پہلے والوں پربھیجا گیا ۱∞؎تو جب تم اسےکسی زمین میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اورجب وہاں پھیل جائے جہاں تم ہوتووہاں سے نہ بھاگو ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلیٰ طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلیٰ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدِمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1548 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالٰی فرماتاہے جب میں اپنےکسی بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں یعنی آنکھوں میں مبتلا کر دوں ۱∞؎پھر وہ صبرکر جائے تو میں انکے عوض اسے جنت دوں گا۔(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجنَّةَ " يُرِيد عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1549 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جوکسی مسلمان کی صبح کے وقت بیمار پرسی کرے مگر ستر ہزار فرشتے اسے شام تک دعائیں دیتے ہیں اور اگر شام کو بیمار پرسی کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعائیں دیتے ہیں اور اس کے لیئے جنت میں باغ ہوگا ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غَدْوَةً إِلَّا صَلّٰى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى یُمْسِيْ وَاِنْ عَادَهٗ عَشِيَّۃً اِلَّا صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهٗ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1550 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے میری آنکھ کے درد میں بیمار پرسی کی ۱∞؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ زَيْدِ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْعٍ كَانَ بِعَیْنِیْ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1551 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو اچھی طرح وضوکرے اورطلب ثواب کے لیئے اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کرے ۱∞؎تو ستر سال کے فاصلہ پر دوزخ سے دور رکھا جائے گا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَعَادَ أَخَاهُ الِمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيْرَةَ سِتِّينَ خَرِيفًا” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1552 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کرے تو سات بار کہہ دے ۱∞؎کہ میں عظمت والے اورعرش عظیم کے رب یعنی الله سے دعاکرتا ہوں کہ تجھے شفا دے مگر اسے شفا ہوگی لیکن یہ کہ اس کی موت ہی آگئی ہو۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا شُفِيَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَضَرَ أَجَلُهٗ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1553 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم انہیں بخار اور تمام دردوں کی یہ دعا سکھاتے تھے کہ کہیں کبریائی والے الله کے نام سے میں ہرخون سے بھری رگ اور آگ کی تپش کی شرارت سے عظمت والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے،صرف ابراہیم ابن اسمعیل کی حدیث سے پہچانی گئی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎
وَعَنْه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمّٰى وَمِنَ الأَوْجَاعِ كُلِّهَا أَن يَقُولُوا: “بِسْمِ اللهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَعَّارِ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيْثِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1554 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو کچھ بیمار ہویا اس کا بھائی بیماری کی شکایت کرے تو کہے ہمارا رب وہ الله ہے جو آسمان میں ہے ۱∞؎تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان و زمین میں ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہےیوں ہی اپنی رحمت زمین میں کر۲؎ہمارے گناہ و خطائیں بخش دے تو پاکوں کا رب ہے۳؎ہم پر اپنی رحمتوں سے کوئی رحمت اتار اور اپنی شفا میں سے شفا اس درد پر اتارتو وہ اچھا ہوجائے گا۔(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكٰى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهٗ فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاء وَالْأَرْض كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلیٰ هٰذَا الْوَجَعِ. فَيَبْرَأُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1555 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کو جائے تو یوں کہے الٰہی اپنے بندے کو شفادے وہ تیری راہ میں تیرے دشمن کو زخمی کرے گا یا کسی جنازے میں جائیگا ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُوْدُ مَرِيضاً فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلٰى جِنَازَةٍ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1556 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت علی بن زید سے وہ امیہ سے راوی ۱∞؎کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے رب کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ خواہ تم اپنے دل کی باتیں ظاہرکرو یا چھپاؤ الله تم سے اس کا حساب لے گا اور اس کے فرمان کے بارے میں جو کوئی گناہ کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا ۲؎آپ بولیں کہ جب سے میں نے اس کے بارے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا مجھ سے یہ کسی نے نہ پوچھا۳؎حضور نے فرمایاکہ یہ الله کا بندوں پرعتاب ہے کہ جو اسے بخار یا مصیبت پہنچ جاتی ہے حتی کہ جو مال اپنی قمیص کی آستین میں رکھے پھر اسےگم پائے تو اس سےگھبرا جائے یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے پیلا سونابھٹی سے نکل کر۴؎(ترمذی)
عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَعَنْ قَولِ اللهِ تبَارك وَتَعَالٰى: (إِن تُبْدُوْا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ) وَعَنْ قَوْلِهٖ: (مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهٖ ) فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “هٰذِهٖ مُعَاتَبَةُ اللهِ العَبْدُ فِيمَا يُصِيبُهٗ مِنَ الْحُمّٰى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى البِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي يَدِ قَمِيصِهٖ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتّٰى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهٖ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيْرِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1557 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بندے کومصیبت یا اس سے کم و بیش تکلیف گناہ کے بغیرنہیں پہنچتی ۱∞؎اورجوکچھ رب معاف کردیتا ہے وہ بہت ہے اور آیت یہ تلاوت کی جو مصیبت تمہیں پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سےتھی رب تو بہت معافی دیتاہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُصِيبُ عَبْدًا نَكْبَةٌ فَمَا فَوْقَهَا أَوْ دُونَهَا إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللهُ عَنْهُ أَكْثَرُ وَقَرَأَ: (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوْ عَنْ كَثِيْرٍ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1558 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندہ عبادت کے اچھے رستہ پر ہوتا ہے ۱∞؎پھر بیمار ہوجاتا ہے تو اس پرمقرر شدہ فرشتہ سے کہاجاتاہے تو اس کے تندرستی کے زمانہ کے برابر اعمال لکھ یہاں تک کہ میں اسے شفادے دوں یا اپنے پاس بلالوں۲؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلیٰ طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهٖ : اكْتُبْ لَهٗ مِثْلَ عَمَلِهٖ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتّٰى أَطْلِقُهٗ أَوْ أَكْفِتَهُ اليّ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1559 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو فرشتہ سے کہاجاتا ہے کہ تو اس کی وہی نیکیاں لکھ جو یہ پہلے کرتا تھا ۱∞؎پھر اگر رب اسے شفا دیتا ہے تو اسے دھو دیتا ہے اورپاک کردیتا ہے اور اگر اسے وفات دیتا ہے تو اسے بخش دیتا ہے اور رحم کرتا ہے۲؎یہ دونوں حدیثیں شرح سنہ میں ہیں۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ابْتُلِيَ الِمُسْلِم بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهٖ قِيلَ لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهٗ صَالِحَ عَمَلِهِ الذِي كَانَ يَعْمَلُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَّلَهٗ وَطَهَّرَهٗ وَإِنْ قَبَضَهٗ غَفَرَ لَهٗ وَرَحِمَهُ".رَوَاهُمَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1560 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کی راہ میں مارے جانے کے سوا سات شہادتیں اوربھی ہیں ۱∞؎طاعون والا شہید ہے،ڈوبا ہوا شہید ہے،ذات الجنب کی بیماری والا شہید ہے،پیٹ کی بیماری والا شہید ہے ۲؎آگ والا شہید ہے،دب کر مرنے والا شہید ہے، عورت ولادت میں مرجائےتوشہیدہے۳؎(مالک،ابوداؤد، نسائی)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى القَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ : الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدٌ ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1561 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سخت مصیبت والے کون ہیں فرمایا انبیاء پھر ترتیب وار افضل لوگ ۱∞؎انسان اپنی دینداری کے مطابق مبتلا ہوتا ہے اگر اس کے دین میں سختی ہے تو اس کی بلائیں بھی سخت ہوں گی ۲؎اور اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو اس پر آسانی کی جائے گئی ایسا ہی ہوتا رہے گا حتی کہ وہ زمین پر بے گناہ ہوکر چلے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: “الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلیٰ حَسَبِ دِينِهٖ فَإِنْ كَانَ فِي دِيْنِهٖ صُلْباً اِشْتَدَّ بَلَاؤُهٗ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهٖ رِقَّةٌ وَ هُوِّنَ عَلَيْهِ فَمَا زَالَ كَذٰلِكَ حَتّٰى يَمْشِيَ عَلَی الأَرْضِ مَالہ ذَنْبٌ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1562 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان