- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر ہوا تو اسے ایک شخص نے گالی دی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اسے برا نہ کہو یہ تو گناہوں کو ایسے دورکرتاہے جیسےبھٹی لوہے کے میل کو ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْحُمّٰى عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَسُبَّهَا فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خُبْثَ الْحَدِيدِ”.رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1583 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی تو فرمایا تجھے بشارت ہو کہ الله تعالٰی فرماتا ہے بخار میری آگ ہے ۱∞؎اسی لئے میں اپنے مؤمن بندے پر دنیامیں اسی لئے مسلط کرتا ہوں کہ قیامت کےدن اس کی آگ کاحصہ(بدلہ)ہوجائے ۲؎(احمد،ابن ماجہ، بیہقی ،شعب الایمان )
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ: " أَبْشِرْ فَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلیٰ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكَوُنَ حَظَّهٗ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَابْنُ مَاجَهْ والْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1584 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم جسے بخشنا چاہوں گا تو اسے دنیا سے نہ نکالوں گا حتی کہ اس کی گردن سے سارے گناہ جسمانی بیماری اور رزق میں تنگی کے ذریعہ نکال دوں گا ۱∞؎(رزین)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّبَّ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى يَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أُخْرِجُ أَحَدًا مِنَ الدُّنْيَا أُرِيد أَغْفِرَ لَهٗ حَتّٰى أَسْتَوْفِيَ كُلَّ خَطِيئَةٍ فِي عُنُقِهٖ بِسَقَمٍ فِي بَدَنِهٖ وَإِقْتَارٍ فِي رِزْقِهٖ ". رَوَاهُ رَزِيْنٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1585 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت شقیق سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الله ابن مسعود بیمار ہوئے ہم نے بیمار پرسی کی تو وہ رونے لگے کسی نے انہیں ملامت کی ۲؎تو بولے کہ میں بیماری سے تو نہیں روتاکیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بیماری کفارہ ہے۳؎میں تو اس پر روتا ہوں کہ مجھے بڑھاپے کے ضعف میں بیماری آئی قوت کے زمانہ میں نہ آئی کیونکہ بندہ جب بیمار پڑتا ہے تو اس کے اعمال وہ لکھے جاتے ہیں جو وہ بیماری سے پہلے کرتا تھا جس سے بیماری نے اسے روک دیا۴؎(رزین)
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: مَرِضَ عَبْدُ الله ِبْنِ مَسْعُودٍ فَعُدْنَاهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَعُوتِبَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَبْكِي لِأَجْلِ الْمَرَضِ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “الْمَرَضُ كَفَّارَةٌ” وَإِنَّمَا أبْكِي أَنه أَصَابَنِي عَلیٰ حَالِ فَتْرَةٍ وَلَمْ يُصِبْنِي فِي حَالِ اجْتِهَادِ لِأَنَّهٗ يَكْتُبُ لِلْعَبْدِ مِنَ الْجَرِّ إِذَا مَرِضَ مَا كَانَ يُكْتَبُ لَهٗ قَبْلَ أَنْ يَمْرَضَ فَمَنَعَهٗ مِنْهُ الْمَرَضُ. رَوَاهُ رَزِينٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1586 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیمار کی عیادت نہ کرتے مگر تین دن کے بعد ۱∞؎(ابن ماجہ)بیہقی، شعب الایمان۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1587 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ تو اسے اپنے لیئے دعا کے لیئے کہو کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلْتَ عَلیٰ مَرِيضٍ فَمُرْهُ يَدْعُو لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهٗ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1588 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بیمار کے پاس کم بیٹھنا اورکم شورکرنا سنت ہے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس صحابہ کی آوازیں اور اختلاف بڑھ گیا تو فرمایا ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ ۲؎(رزین)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ تَخْفِيفُ الْجُلُوسِ وَقِلَّةُ الصَّخَبِ فِي الْعِيَادَةِ عِنْدَ الْمَرِيضِ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَ لَغَطُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ: “قُومُوا عَنِّي” رَوَاهُ رزين
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1589 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بیمار پرسی اونٹنی دوہنے کے وقفے کے بقدر ہے ۱∞؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اَلْعِيَادَةُ فَوَاقَ نَاقَةٍ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1590 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
اور سعید ابن مسیب کی مرسل کی روایت میں ہے کہ بہترین عیادت جلد اٹھ جانا ہے ۱∞؎(شعب الایمان،بیہقی)
وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: “أَفْضَلُ الْعِيَادَةِ سُرْعَةُ الْقِيَامِ” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1591 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی تو فرمایا تیرا دل کیا چاہتا ہے وہ بولا گیہوں کی روٹی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو وہ اپنے اس بھائی کو بھیج دے ۱∞؎پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رؤف و رحیم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا بیمار کچھ چاہے تو اسے کھلا دو ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا فَقَالَ لَهٗ : “مَا تَشْتَهِيْ؟” قَالَ: اِشْتَهِيْ خُبْزَبُرٍّ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ كَانَ عِنْدَهٗ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلٰى أَخِيهِ” . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا اشْتَهٰى مَرِيْضُ أَحَدَكُمْ شَيْئاً فَلْيُطْعِمْهُ “ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1592 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک وہ شخص فوت ہوگیا جو وہاں ہی پیدا ہوا تھا ۱∞؎اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور فرمایا کاش یہ پیدائش کی زمین کے سوا کہیں اور فوت ہوتا لوگوں نے کہا یارسول الله یہ کیوں فرمایا کہ بندہ جب غیر ولادت گاہ میں مرتا ہے تو اس کی ولادت گاہ سے آخری نقش قدم تک ناپ کر جنت سے دیا جاتاہے ۲؎(نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ ك تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلّٰى عَلَيْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “يَا لَيْتَهٗ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهٖ” . قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ:”إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهٖ قِيسَ لَهٗ مِنْ مَوْلِدِهِ الٰى مُنْقَطَعِ أَثَرِهٖ فِي الْجَنَّةِ”.رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1593 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سفر کی موت شہادت ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1594 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو بیمار ہوکر مرا وہ شہید ہوکر مرا اور عذاب قبر سے بچایا گیا اورصبح و شام اس پر جنت کا رز ق پیش ہوتا رہے گا ۱∞؎(ابن ماجہ،بیہقی ،شعب الایمان )
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهٖ مِنَ الْجَنَّةِ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1595 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ شہید اور اپنے بستروں پر مرنے والے الله عزوجل کی بارگاہ میں ان کے متعلق جھگڑتے ہیں جو طاعون میں فوت ہوئے ۱∞؎شہید تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح یہ بھی قتل ہوئے اور ویسے مرنے والے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے بستروں پر ہماری طرح فوت ہوئے رب فرماتاہے کہ ان کے زخم دیکھو اگر ان کے زخم مقتولوں کی طرح ہوں تو یہ ان ہی سے ہیں ان ہی کے ساتھ ہیں دیکھاتو ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہیں۲؎(احمد،نسائی)
عَن الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلیٰ فُرُشِهِمْ إِلٰى رَبنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوْا كَمَا قُتِلْنَا وَيَقُول: اَلْمُتَوَفُّوْنَ عَلیٰ فُرُشِهِمْ إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلیٰ فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا فَيَقُولُ رَبنَا: انْظُرُوا إِلٰى جَرَاحَتِهِمْ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جَرَاحَهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قد أَشْبَهَتْ جَرَاحُهُمْ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1596 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا طاعون سے بھاگنے والا،جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے اور طاعون میں صابرکو شہید کا ثواب ہے ۱∞؎(احمد)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهٗ أَجْرُ شَهِيدٍ” . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1597 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان