با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شدت موت دیکھنے کے بعد کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی ۱∞؎(ترمذی،نسائی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1563 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو وفات کی حالت میں دیکھا آپ کے پاس پانی کا پیالہ تھا آپ پیالے میں ہاتھ ڈالتے پھر چہرۂ انور پرپھیر لیتے ۱∞؎اورعرض کرتے الٰہی موت کی سختیوں یا دشواریوں پر میری مدد فرما ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهٗ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهٗ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهٗ ثُمَّ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلیٰ مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1564 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب الله تعالٰی کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر دنیا میں سزائیں دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کی برائی چاہتا ہے تو اس کی سزا مع گناہوں سےمحفوظ رکھتا ہے حتی کہ اسے قیامت کے دن پوری پوری دے گا ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا أَرَادَ اللهُ تَعَالٰى بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهٖ حَتّٰى يُوَافِيَهٗ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1565 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بڑا ثواب بڑی بلاءکے ساتھ ملتا ہے ۱∞؎الله تعالٰی جب کسی قوم سےمحبت کرتا ہے تو انہیں مبتلاکردیتا ہے جو راضی ہوتا ہے اس کے لیئے رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیئے ناراضی ہے۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1566 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن اور مؤمنہ کو اس کی جان و مال واولاد کی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں حتی کہ وہ رب سے اس طرح ملتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۱∞؎(ترمذی)مالک نے اس کی مثل،ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوِ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهٖ وَمَالِهٖ وَوَلَدِهٖ حَتّٰى يَلْقٰى اللهَ تَعَالٰى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوٰى مَالِكٌ نَحْوَهٗ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1567 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت محمد ابن خالدسلمی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۱∞؎راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندہ کے لیئے کوئی درجہ رب کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوجہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو الله اسے اس کےجسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلاکردیتا ہے پھر اسے اس پرصبربھی دیتا ہے حتی کہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو رب کی طرف سے اس کے لیئے مقدر ہوچکا۲؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهٗ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهٖ اِبْتِلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهٖ أَفِي مَالِهٖ أَوْ فِي وَلَدِهٖ ثُمَّ صَبَّرَهٗ عَلیٰ ذٰلِكَ يُبَلِّغُهُ المَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهٗ مِنَ الله”. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1568 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن شخیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انسان اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے آس پاس۹۹بلائیں ہیں ۱∞؎اگر ان سب بلاؤں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں پڑےگا حتی کہ مرجائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَخِّيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلٰى جَنْبِهٖ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتّٰى يَمُوتَ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1569 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جب بلاء والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام والے تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطٰى أَهْلُ الْبَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1570 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت عامر رام ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ مؤمن کو جب بیماری پہنچتی ہے پھر الله اسے آرام دے دیتا ہے تو یہ گزشتہ گناہوں کاکفارہ بن جاتی ہے اور آیندہ کے لیئے نصیحت ۲؎اورمنافق جب بیمار ہوتا ہے پھر آرام دیا جاتا ہے تو اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھ دیا پھرکھول دیا وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا ۳؎تو ایک شخص بولا یارسول الله بیماریاں کیا ہیں قسم رب کی میں تو کبھی بیمارا ہوا ہی نہیں تو فرمایا ہمارے پاس سے ہٹ جاؤ تم ہم میں سے نہیں ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَامِرِ الرَّامِ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ فَقَالَ: “إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَقْمُ ثُمَّ أَعْفَاهُ الله مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضٰى مِنْ ذُنُوبِهٖ وَمَوْعِظَةً لَهٗ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ. وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيْ كَانَ كَالْبَعِيْرِ عَقَلَهٗ أَهْلُهٗ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوْهُ وَلِمَ أَرْسَلُوهُ”.فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: “قُمْ عَنَّا فَلَسْتَ مِنَّا” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1571 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ حیات کی بات کرکے اس کا غم دور کرو ۱∞؎کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی اور اس کا دل خوش ہوجائیگا۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَی المَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهٗ فِي أَجَلِهٖ فَإِنَّ ذٰلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيَطِيْبُ بِنَفْسِهٖ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1572 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت سلیمان ابن صرد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے اس کے پیٹ نے مارا تو اسے عذاب قبر نہ ہوگا ۱∞؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ سُلَيْمَان بن صرد قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ قَتَلَهٗ بَطْنُهٗ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهٖ” رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1573 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا ۱∞؎وہ بیمار ہوگیا تو اس کی بیمار پرسی کے لیئے نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اسلام لے آ۲؎اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس تھا۳؎باپ بولا بیٹا حضور ابوالقاسم کی بات مان لو بچہ اسلام لے آیا نبی صلی الله علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے واپس ہوئے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اسے آگ سے بچالیا۴؎(بخاری)

عَن أنس قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهٖ فَقَالَ لَهٗ : “أَسْلِمْ” . فَنَظَرَ إِلٰى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهٗ فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ. فَأَسْلَمَ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: “الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَنْقَذَهٗ مِنَ النَّارِ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1574 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بیمار کی بیمار پرسی کرنے جائے تو آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے تو اچھا،تیرا چلنا اچھا،تو نے جنت میں گھر لے لیا ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَادٰى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1575 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی مرتضٰی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس سے آئے آپ کی اس بیماری میں جس میں وفات ہوئی لوگوں نے کہا اے ابو الحسن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صبح کیسی کی فرمایاالحمدللّٰہصحت میں صبح کی ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْعِهِ الذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ الله بَارِئًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1576 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں میں نے کہا ہاں ضرور فرمایا یہ کالی عورت ۲؎یہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور عرض کیا تھا یارسول الله میں مرگی میں گر جاتی ہوں۳؎اورکھل جاتی ہوں میرے لیئے الله سے دعا کیجئے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبرکر جنت تیرے لیئے ہے۴؎اگر توچاہے تو میں الله سے دعا کردوں کہ تجھے آرام دے۵؎وہ بولی میں صبرکروں گی پھر بولی کہ میں کھل جاتی ہوں الله سے یہ دعا کردیں کہ میں کھلا نہ کروں حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیئے دعا کی ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاسٍ رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلٰى. قَالَ: هٰذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادع الله تَعَالٰى لي. قَالَ: “إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالٰى أَنْ يُعَافِيَكَ” فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1577 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو موت آئی تو دوسرا آدمی بولا اسے مبارک ہو کہ بیماری میں مبتلا ہوئے بغیر فوت ہو گیا ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر افسوس ہے تمہیں کیاخبرکہ اگر الله اسے کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہ مٹا دیتا ۲؎(مالک مرسلًا)

وَعَنْ يَحْيٰى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: هَنِيْئًا لَهٗ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “وَيْحَكَ وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ فَكَفَّرَ عَنهُ مِنْ سَيِّئَاتِهٖ” . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسلا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1578 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس اور صنابحی سے ۱∞؎کہ وہ دونوں ایک مریض کی بیمار پرسی کے لیئے گئے انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے صبح کیسی کی وہ بولے الله کی نعمت میں صبح کی۲؎شداد نے فرمایا گناہوں کے مٹنے اور خطاؤں کے جھڑنے کی خوش خبری لو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی فرماتا ہے جب میں اپنے بندوں میں سےکسی مؤمن بندے کو مبتلا کردوں اور وہ اس مبتلا کرنے پر میری حمدکرے تو وہ اپنے اس بسترسے گناہوں سے یوں پاک اٹھے گا جیسے آج اسے ماں نے جنا۳؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے اپنے بندے کو قید کیا مبتلا کیا تو اس کے لیئے وہ ثواب جاری کرو جوتم اس کے تندرستی میں جاری کرتے تھے ۴؎(احمد)

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْس وَالصَّنَابِحِيِّ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلیٰ رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِهٖ فَقَالَا لَهٗ : كَيفَ أَصْبَحْتُ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَة. فَقَالَ لَهٗ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلیٰ مَا ابْتَلَيْتُهٗ فَإِنَّهٗ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهٗ فَأَجْرُوا لَهٗ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهٗ وَهُوَ صَحِيح ". رَوَاهُ احْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1579 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا تو الله اسے غم میں مبتلاکردیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹادے ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنهُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1580 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جوکسی مریض کی بیمار پرسی کرے تو وہ رحمت میں غوطے لگاتاہے ۱∞؎حتی کہ بیٹھ جائے جب بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے۲؎(مالک،احمد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتّٰى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اِغْتَمَسَ فِيْهَا” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1581 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو بخار آئے ۱∞؎تو بخار آگ کا ٹکڑا ہے اسے پانی سے بجھائے کہ جاری نہر میں غوطہ لگائے اس کے بہاؤ کی طرف منہ کرے پھر کہےبسم اللهالٰہی اپنے بندےکو شفا دے اور اپنے رسول کو سچا کردے یہ فجرکی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کرے تین دن تک تین غوطے لگایاکرے اگر اس میں تندرست نہ ہو تو پانچ دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو سات دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو نو دن بحکم الٰہی یہ بخار نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمّٰى فَإِنَّ الْحُمّٰى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطِفْئُهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ فِي نَهْرٍ جَارٍ وَلْيَسْتَقْبِلْ جِرْيَتَهٗ فَيَقُولُ: بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولك بعد صَلَاة الصُّبْح وَقبل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلْيَنْغَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمْسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٌ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهَا لَا تَكَادَ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1582 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان