DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ash Shura Ayat 34 Translation Tafseer

رکوعاتہا 5
سورۃ ﳫ
اٰیاتہا 53

Tarteeb e Nuzool:(62) Tarteeb e Tilawat:(42) Mushtamil e Para:(25) Total Aayaat:(53)
Total Ruku:(5) Total Words:(983) Total Letters:(3473)
33-35

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ(۳۳)اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘(۳۴)وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَاؕ-مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ(۳۵)
ترجمہ: کنزالعرفان
اگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے تو کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں ،بیشک اس میں ضرور ہر بڑے صبرکرنے والے، شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں ۔ یا (اگر اللہ چاہے تو)ان کشتیوں کو لوگوں کے گناہوں کے سبب تباہ کردے اور بہت سے گناہوں سے درگزرفرمادے۔ اور ہماری آیتوں میں جھگڑنے والے جان جائیں کہ ان کیلئے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ: اگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگراللہ تعالیٰ چاہے تو اس ہوا کو روک دے جوکشتیوں  کو چلاتی ہے تو تمام کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں  اور چل ہی نہ پائیں ،یا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو مخالف سمت سے ہوا بھیج کر بعض کشتیوں  کو اس میں  سوار لوگوں  کے گناہوں  کے سبب غرق کردے اور بہت سے لوگوں  کے گناہوں  سے درگزرفرمادے کہ اُن پر عذاب نہ کرے اور انہیں  ڈوبنے سے محفوظ رکھے۔بیشک اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کشتیوں  کے چلنے اور رکنے میں  ضرورہر بڑے صبرکرنے والے، شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں  ہیں ۔

            یہاں صابر شاکر سے مخلص مومن مراد ہے جو سختی و تکلیف میں  صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں  شکراور مقصد یہ ہے کہ مومن بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دلائل سے کسی طرح غافل نہ ہو کیونکہ مومن بندہ یا تو سختی اور تکلیف میں  مبتلاء ہو گا یا راحت و عیش میں  ہو گا،لہٰذااسے چاہئے کہ اگر اس پر سختی اور تکلیف آئے تو وہ صبر کرے اور نعمتیں  ملیں  تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۳، ۸ / ۳۲۴، تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۳، ۹ / ۶۰۲، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۹۸، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۱۰۹۰، ملتقطاً)

شکرکے 15 فضائل:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے شکر کے 15 فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…شکر ادا کرتے ہوئے کھانے والے کا اجر صبر کرتے ہوئے روزہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔( مستدرک، کتاب الاطعمۃ، الطاعم الشاکر مثل الصائم الصابر، ۵ / ۱۸۸، الحدیثـ ۷۲۷۷)

(2)…اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں  کو اس کا صلہ دے گا۔( اٰل عمران:۱۴۴)

(3)…شکر کرنے سے بندہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔( النساء:۱۴۷)

(4)…شکر کرنے سے نعمتوں  میں  اضافہ ہوتا ہے۔( سورۃ ابراہیم:۷)

(5)…اللہ تعالیٰ اپنی حمد و شکر کئے جانے کو پسند فرماتا ہے۔( معجم الکبیر، الاسود بن شریع المجاشعی، ۱ / ۲۸۳، الحدیث: ۸۲۵)

(6)…شکر کرنے والا دل بندے کے ایمان پر مددگار ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ التوبۃ، ۵ / ۶۵، الحدیث: ۳۱۰۵)

(7)…شکر گزار دل دین و دنیا کے اُمور پر مددگار ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۴، الحدیث: ۴۴۳۰)

(8)…عطا پر شکر کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں  داخل ہونے کا سبب ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۵، الحدیث: ۴۴۳۲)

(9)…وہ خیر جس میں  کوئی شر نہیں  ،عافِیَّت کے ساتھ شکر کرنا ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۶، روایت نمبر: ۴۴۳۶)

(10)…آسانی میں  شکر کرنے والا زاہد ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۶، روایت نمبر: ۴۴۳۸)

(11)…شکر ایمان کا نصف حصہ ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۹، روایت نمبر: ۴۴۴۸)

(12)…اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا دنیا کی تمام نعمتوں  سے بہتر ہے۔( ابن عساکر، محمد بن عبد اللّٰہ بن محمد بن عبید اللّٰہ بن ہمام۔۔۔ الخ، ۵۴ / ۱۶)

(13)…قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے افضل ترین بندے وہ ہوں  گے جو بہت شکر گزار ہوں  گے۔( معجم الکبیر، عبد الرحمٰن بن مورق العجلی عن مطرف، ۱۸ / ۱۲۴، الحدیث: ۲۵۴)

(14)…شکر ادا کرنے سے بندہ زوالِ نعمت سے بچ جاتا ہے۔( مسند الفردوس، باب الحاء، ۲ / ۱۵۵، الحدیث: ۲۷۸۳)

(15)…جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کر دیتا اور انہیں  شکر کا اِلہام فرماتا ہے۔( مسند الفردوس، باب الالف، ۱ / ۲۴۶، الحدیث: ۹۵۳)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ہر حال میں  اپنا شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

{وَ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا: اور ہماری آیتوں  میں  جھگڑنے والے جان جائیں ۔} یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں  کو سمندر میں  غرق کردے اور قرآنِ پاک کو جھٹلانے والے جان جائیں  کہ ان کیلئے اللہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں ۔( جلالین، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۴۰۴، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴ / ۹۸، ملتقطاً)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links