Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

دائیں بائیں وہی دُنیا، وہی دُنیا کے مکر

دیکھ سجدے سے اُٹھانا نہیں سَر آج کی رات

غافِلوں میں وہ کہیں نام نہ لکھ لیں تیرا

غول آئے ہیں ملائِک کے اُتر آج کی رات

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

ہزار سالہ جہنمی کی بخشش

پیارے اسلامی بھائیو! ایک حدیث شریف میں ہزار سالہ جہنمی کا واقعہ ذِکْر ہوا ہے، بڑا سبق آموز، رحمت سے بَھرپُور اور خوفِ جہنّم سے تڑپا دینے والا واقعہ ہے۔

حدیثِ پاک کی کتاب مسندِ امامِ اعظم میں صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہ عنہ  سے روایت ہے: ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور پوچھا: یارسول اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! کیا اَہْلِ اِیْمان میں سے کوئی شخص جہنّم میں بچ جائے گا(یعنی ویسے تو جہنّم کفّار ہی کے لیے ہے، البتہ! گنہگار مؤمن بھی جہنّم میں جائیں گے اور اپنے گُناہوں کی سزا بھگت کر جنّت میں آجائیں گے،  صحابئ رسول کا سوال یہ تھا کہ یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا ایسا بھی ہے کہ کوئی ہو تو مؤمن، اپنے گُنَاہوں کی وجہ سے جہنّم میں جائے، پِھر وہیں رِہ جائے؟)

آپ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: ہاں! ایک شخص ہو گا، وہ جہنّم کی گہرائی میں کسی گڑھے میں ہو گا اور دَرْد و تکلیف سے تڑپ تڑپ کر پُکار رہا ہو گا: یَاحَنَّانُ! یَامَنَّانُ!

حضرت جبرائیل امین  علیہ السَّلام  اس شخص کی پُکار سُن کر حیران رہ جائیں گے کہ یہ کون ہے جو اتنے دَرْد کے ساتھ اللہ پاک کو پُکار رہا ہے۔ آپ سے رہا نہ جائے گا، فورًا عرشِ اِلٰہی کے