Book Name:Jahannam Ke Azabat
مجھ گنہگار کی التجا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے
نارِ دوزخ سے مجھ کو اماں دے مغفرت کر کے باغِ جناں دے
کر دے رحمت مری التجا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہزار سالہ جہنمی کی بخشش کا جو واقعہ حدیثِ پاک کی روشنی میں ہم نے سُنا، اس کے ایک اور پہلو پر غور کیجیے! یہ تو اللہ پاک کی رحمت ہے کہ وہ بڑے سے بڑے گنہگار کی بخشش فرما دے۔
مگر سوچئے! اگر وہ نہ بخشے تو وہ جہنّم جو نافرمانوں کے لیے تیار کی گئی ہے، کتنی خطرناک ہے۔ یہ شخص ہزار سال تک جہنّم میں رہا، بیڑیوں میں جکڑا ہوا، سانپ بچھوؤں میں گِھرا ہوا، پِھر حضرت مالِک علیہ السَّلام کا وہ جواب بھی یاد کیجیے! آپ ایک ایک جہنمی کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے ماں اپنی اَوْلاد کو پہنچانتی ہے، لیکن جب حضرت جبرائیل علیہ السَّلام نے اُس شخص کو نکالنے کا کہا تو آپ نے جواب دیا: اے جبرائیل! اِس وقت جہنّم نے سانس لی ہے، اس وقت پتھر کو لوہے سے، لوہے کو پتھر سے جُدا کرنا بہت مشکل ہے۔
اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ...!! اللہ پاک کی پناہ! اللہ پاک کی پناہ! پیارے اسلامی بھائیو! جو پتھر اور لوہے کا فرق مٹا ڈالے، یہ کیسی شدید آگ ہو گی...!! آہ! ہم کمزور بدن والے، ہم مٹی کے بنے لوگ، ہم سے تَو جُون جُولائی کی گرمی برداشت نہیں ہوتی، جہنّم کی آگ کیسے برداشت کر پائیں گے، ہماری جلد کمزور، ہمارا گوشت کمزور، ہماری ہڈیاں کمزور،جو آگ