Book Name:Jahannam Ke Azabat
آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِیْ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَحَبَّنِیْ كَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم :اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ دُعَا مؤمِن کا ہتھیار ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول ! دعا مانگنا سُنَّتِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہے *ہمارے پیارے آقا، دو عالم کے داتا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کثرت سے دعائیں مانگا کرتے تھے *بعض مُحَدِّثین نے سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک دُعاؤں کے مُتَعَلِّق پُوری پُوری کتابیں بھی لکھی ہیں، مثلاً اِن کتابوں میں کھانا کھانے کی دُعا، پانی پینے کی دُعا، سوتے وقت کی دُعا، نیند سے اُٹھ کر پڑھنے کی دُعا، دُودھ پینے کی دُعا، کپڑا پہننے کی دُعا۔ غرض ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم روز مَرَّہ کے کاموں سے پہلے بھی دُعائیں پڑھا کرتے تھے *آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا کَثْرت سے مانگا کرتے تھے: ([3])
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً (پارہ:2،سورۂ بقرۃ: 201)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں