Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

ہو جائیں، اُس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! اگر جہنّم کی زنجیروں کا ایک حلقہ دُنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو کر زمین میں دھنس جائیں۔ ([1])

خوف دوزخ کا آہ! رحمت ہو             خاکِ طیبہ کا واسطہ یاربّ!

میرا نازُک بَدن جہنَّم سے                  از طفیلِ رضا بچا یاربّ!

آہ! ہمارا کیا بنے گا...؟

پیارے اسلامی بھائیو! اِس روایت سے اندازہ لگائیے کہ جہنّم کس قدر ہولناکہے، اگر سُوئی کے ناکے کے برابر جہنّم کو کھول دیا جائے تو سب اَہْلِ زمین اس کی تپش اور گرمی کے سبب فنا کے گھاٹ اُتر جائیں۔

اللہ! اللہ! سُوئی کا ناکا ہوتا کتنا سا ہے؟ اُس میں اگر دھاگا ڈالنا ہو تو مشکل پیش آتی ہے، اتنا چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے۔ جب اتنے چھوٹے سے سُوراخ کے برابر جہنّم کو کھول دینے سے ایسی تباہی مچ سکتی ہے تو اندازہ کیجیے! وہ بدنصیب جنہیں اس جہنّم کے اندر ڈال دیا جائے گا، آہ! جہنّم کی شعلے مارتی، بھڑکتی ہوئی آگ ان کے جسموں سے لپٹ جائے گی، جسم کو اندر تک جَلا کر رکھ دے گی، آہ! جن کے سَر سے لے کر پاؤں تک جہنّم کی آگ ہی آگ ہو گی، غور تو فرمائیے! یہ ہولناک آگ ان کا کیا حال بےحال کر ڈالے گی۔

آئیے! مِل کر گنہگاروں کو بخشوانے والے آقا، جنّت دِلانے والے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں:

میں مجرم ہوں جہنّم میں اگر پھینکا گیا مجھ کو

ہلاکت ہو گی ہائے! کیا کروں گا یارسولَاللہ!


 

 



[1]...معجم الاوسط، جلد:2، صفحہ:78، حدیث:2583۔