Book Name:Jahannam Ke Azabat
پربےہوشی طاری تھی، حضرت ثابت بنانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دیکھا کہ حالتِ بےہوشی میں حضرت مُطَرَّف رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے نُور کی 3 شُعَائیں بُلند ہو رہی ہیں، ایک سَر سے، دوسری پیٹ سے اور تیسری پاؤں کی جانب سے۔ فرماتے ہیں: یہ دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو ہم نے عرض کیا: ہم نے آپ کے سَر، پیٹ اور پاؤں کی جانب سے نُور کی شُعَائیں بلند ہوتی دیکھی ہیں۔ حضرت مُطَرَّف رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: کیا واقعی تم نے ایسا ہی دیکھا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! اس پر حضرت مُطَرَّف رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: یہ سورۂ حٰم السَّجدہ کی تلاوت کی برکت ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی 30 آیتیں ہیں، ابتدائی 10 آیتیں سَر کی جانب سے، درمیانی 10 آیتیں، درمیان سے اور آخر کی 10 آیتیں پاؤں کی جانِب سے بلند ہوتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ میری شفاعت بھی کرے گی۔([1])
سیفُ الدِّین بَلْبَان کا بیان ہے کہ میں نے قبرستان میں ایک شخص دیکھا، وہ ایک قبر کے پاس بیٹھا رَو رَو کر تلاوت کر رہا تھا، میں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:یہ میرے دوست کی قبر ہے، اس نے میری آنکھوں کے سامنے تلاوت کرتے ہوئے دَم توڑا تھا، تدفین کے بعد میں نے اسے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے بتایا کہ جب تم لوگ مجھے قبر میں رکھ کر چلے گئے تو ایک غضبناک کُتَّا میری طرف بڑھا،قریب تھا کہ وہ مجھ پر حملہ کردیتا مگر ایک انتہائی خوبصورت وپاکیزہ بزرگ وہاں تشریف لے آئے اور کتے کو وہاں سے بھگا دیا اور میرے پاس بیٹھ گئے ، ان کی صحبت سے مجھے بہت سکون ملا ، میں نے ان سے پوچھا : آپ کون