Book Name:Jahannam Ke Azabat
بندے کی ایسی عاجزانہ عرض پر رحمتِ اِلٰہی جوش پر آئے گی، حکم ہو گا: اِشْهَدُوا يَا مَلَائِكَتِي بِاَنِّي رَحِمْتُهُ اے میرے فرشتو!گواہ ہو جاؤ! میں نے اس پر رحم فرمایا (اور اسے بخش دیا)۔ ([1])
فضل کر، رحم کر، تُو عطا کر اور معاف اے خُدا ہر خطا کر
واسطہ پنجتن پاک کا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے
عفو و رحمت کا بخشش کا سائِل ہُوں نہایت گنہگار و غافِل
میرا سب حال تجھ پر کھلا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے
مجھ خطا کار پر بھی عطا کر بےسبب بخش دے رَبِّ اکبر
مجھ کو دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے
یاخُدا! ماہِ رمضان کے صدقے سچّی توبہ کی توفیق دیدے
نیک بن جاؤں جی چاہتا ہے یاخُدا! تجھ سے میری دُعا ہے([2])
رحمتِ اِلٰہی سے اُمِّید نہ ٹوٹے
پیارے اسلامی بھائیو! حدیثِ پاک جو ہم نے سُنی، اس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، سب سے پہلے تو اللہ پاک کی رحمت اور اُس بندے کی نہ ٹوٹنے والی اُمِّید پر غور کیجیے! بندہ گنہگار ہے، جہنّم میں ہے، زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، 1 ہزار سال تک سانپ بچھوؤں کے قابُو میں رہا، اس کے باوُجُود اُس کی اُمِّید نہیں ٹوٹی، وہ اللہ پاک کو پُکار رہا تھا، پُکارتا رہا، مسلسل، مایُوس ہوئے بغیر پُکارتا رہا۔ آخر اُس کی پُکار سُنی گئی اور وہ بخشا گیا۔