Book Name:Jahannam Ke Azabat
سائے میں حاضِر ہوں گے، سَر سجدے میں رکھ دیں گے۔ حکم ہو گا: جبرائیل! سَر اُٹھائیے! تم نے کیا حیرانی کی بات دیکھی ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السَّلام عرض کریں گے: یا اللہ پاک! جہنّم کی گہرائیوں سے آواز گونج رہی ہے، کوئی دِلِ پُردَرْد سے، تڑپ تڑپ کر یَاحَنَّانُ! یَا منَّان! کی آوازیں لگا رہا ہے۔ حکم ہو گا: جبرائیل! جہنّم پر مقرَّر فرشتے مالِک کے پاس جاؤ! انہیں کہو کہ اس شخص کو باہَر نکالیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السَّلام فورًا جائیں گے، جنابِ مالِک کو حکمِ اِلٰہی سُنائیں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے آگے روایت کے الفاظ بڑی تَوَجُّہ کے ساتھ سنیے گا، پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جیسے ماں اپنے بچوں کو پہچانتی ہے، حضرت مالِک علیہ السَّلام جہنمیوں کی اس سے بھی زیادہ پہچان رکھتے ہیں مگر اُس یَاحَنَّان! یَامَنَّان! پُکارنے والے کو تلاش نہ کر پائیں گے۔ واپس آ کر کہیں گے: اے جبرائیل! جہنّم نے ابھی ابھی ایک سانس لی ہے، جس کی وجہ سے حالت ایسی ہو گئی ہے کہ لوہَے اور پتھر میں فرق مشکل ہو چکا ہے (ایسی حالت میں اُس بندے کو تلاش نہیں کیا جا سکتا)۔
یہ سُن کر حضرت جبرائیل علیہ السَّلام واپس عرشِ اِلٰہی کے سائے میں حاضِر ہوں گے، سر سجدے میں رکھ دیں گے۔ حکم ہو گا: جبرائیل! کیا ہوا؟ اس بندے کو کیوں نہیں لائے؟ آپ معاملہ عرض کریں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا: اے جبرائیل! وہ بندہ جہنّم کے فُلاں فُلاں گڑھے، فُلاں فُلاں کونے میں ہے۔ جاؤ! نکال لاؤ...!! حضرت جبرائیل علیہ السَّلام پِھر جہنّم کی طرف پہنچیں گے، جنابِ مالِک علیہ السَّلام کو اس شخص کا پتا بتائیں گے۔ اب حضرت مالِک علیہ السَّلام جہنّم کے اندر جائیں گے، اُس شخص کو ایک گڑھے کے اندر موجود پائیں گے،