Book Name:Jahannam Ke Azabat
اُس کی پیشانی قدموں کے ساتھ بندھی ہو گی، ہاتھ گردَن میں بندھے ہوں گے، اُلٹے مُنہ جہنّم کے گڑھے میں پڑا ہو گا، جہنّم کے سانپ بچھو اُس پرجمع ہوں گے اور وہ دَرْد و تکلیف کی شِدَّت میں اللہ پاک کو پُکار رہا ہو گا۔ حضرت مالِک علیہ السَّلام اس شخص کو اُٹھائیں گے، اُس کی بیڑیاں کھول دی جائیں گی، سانپ بچھودُور ہٹا دئیے جائیں گے۔ اب حضرت جبرائیل علیہ السَّلام اُسے لے کر اللہ پاک کے حُضُور حاضِر ہوں گے۔ اللہ پاک اُس گنہگار بندے سے فرمائے گا: * اے بندے! کیا میں نے تمہیں اچھی شکل و صُورت پر پیدا نہیں کیا تھا؟ بندہ عرض کرے گا: کیوں نہیں مالِک! تُو نے مجھے بہت اچھی صُورت عطا فرمائی * حکم ہو گا: کیا تمہاری ہدایت کے لیے رسول نہیں آئے تھے؟ بندہ عرض کرے گا: کیوں نہیں میرے مالِک! رسول آئے تھے* حکم ہو گا: کیا تجھ تک میری کتاب نہ پہنچی؟ بندہ عرض کرے گا: مولیٰ! پہنچی تھی۔ اللہ پاک فرمائے گا: پِھر تُو نے فُلاں، فُلاں گُنَاہ کیوں کیے ؟ کیوں میری نافرمانیوں میں پڑا رہا؟
بندے کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہو گا، بَس ہاتھ باندھ کر عرض کرے گا: اے میرے مالِکِ کریم! میں نے خُود پر ظُلْم کیے ، گُنَاہ کر کے اپنی جان کو جہنّم کا حقدار بناتا رہا، اے رَبِّ حنَّان و مَنَّان! میں اپنے گُنَاہوں کے سبب ایک ہزار سال تک جہنّم میں رہا، اس کے باوُجُود تیری رحمت سے اُمِّید نہیں توڑی،میری پُکار سُن لی جائے گی، تیری رحمت جوش پر آئے گی، اس اُمِّید پر میں تجھے پُکارتا رہا، اے میرے عظمت والے رَبّ! اب فضل فرمایا ہی ہے، جہنّم سے نکال ہی لیا ہے تو مجھ پر رحم فرما، محض اپنی رحمت کے صدقے میری بخشش فرما دے۔