Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى(۱۲۷) (پارہ:16،سورۂ طٰہٰ:127)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے شدید اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

*-*-*

گناہگار ہوں میں لائقِ جہنَّم ہوں                                                        کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ!

بُرائیوں پہ پَشَیماں ہوں رَحم فرمادے                          ہے تیرے قَہر پہ حاوی تری عطا یاربّ!

پہاڑ زمین میں دھنس جائیں

ایک مرتبہ حضرت جبریلِ امین  علیہ السَّلام  بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، ان کا رنگ بدلا ہوا تھا، رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے پوچھا: جبریل! کیا بات ہے؟ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا دیکھ رہا ہوں حضرت جبریلِ امین  علیہ السَّلام  نے عرض کیا: یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! اس وقت اللہ پاکنے جہنّم کو دَہْکانے کا حکم دیا ہے۔ رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: جبریل! مجھے جہنّم کے بارے میں بتاؤ! حضرت جبریلِ امین  علیہ السَّلام  نے عرض کیا: یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! اللہ پاک نے جہنّم کو حکم دیا تو اس کی آگ 1 ہزار سال تک دَہْکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی، پھر اسے 1ہزار سال تک دَہْکایا گیا، یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی، پھر اسے 1 ہزار سال تک بھڑکایا گیا، یہاں تک وہ بالکل سیاہ ہو گئی، اب جہنّم کی آگ بالکل سیاہ ہے، نہ اُس میں چنگاری روشن ہوتی ہے، نہ اُس کا بھڑکنا ختم ہوتا ہے، نہ ہی اُس کے شعلے بجھتے ہیں۔ اُس ذات کی قسم! جس نے آپ کو سچّا نبی بنا کر بھیجا، اگر سوئی کے ناکے کے برابر بھی جہنّم کو کھول دیا جائے تو تمام اَہْلِ زمین فنا