Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

کو بھاری بیڑیاں پہنائی جائیں گی،جہنمی جہنم کی تنگ وادیوں میں چیخیں گے اور اس کے گہرے گڑھوں میں لگاموں میں جکڑے ہوں گے۔ جہنمیوں پر ہنڈیا کی طرح جوش مارتی آگ ڈالی جائے گی وہ واویلا کرتے، آہ وزاری کرتے چِلّاتے پھریں گے، جہنمی جب بھی موت کو پکاریں گے ان کے سَروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا  جو ان کی کھال اور پیٹ کے اندر کا سب کچھ پگھلا دے گا،جہنمیوں کے لیے لوہے کے گُرْز ہوں گے جو اُن کی پیشانیوں کو چُورا چُورا کر دیں گے اور ان کے منہ سے خون ملی پیپ نکلے گی، شدتِ پیاس سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے، ان کی آنکھوں کے ڈھیلے گالوں پر بہہ جائیں گے اور رخساروں کا گوشت جھڑ جائے گا، ان کے اعضاء سے بال بلکہ کھال تک گِر جائے گی، جب جب ان کی جلد خراب ہو گی تو دوسری جلد سے بدل دی جائے گی۔ آہ! اَہْلِ جہنّم کی ہڈیاں گوشت سے خالی رہ جائیں گی ان کی روحیں انکی رگوں اور پٹھوں میں اٹکی ہوں گی اوران کی رگیں جہنم کی آگ سے خشک ہو جائیں گی۔ وہ موت کی تمنا کریں گے مگر انہیں موت نہ آئے گی۔([1])

جہنّم سے چھٹکارا دِلانے والے اعمال

اے عاشقانِ رسول! یقیناً جہنّم کے عذابات برداشت کرنا ہم میں سے کسی کے بَس کی بات نہیں ہے۔ ابھی ہم زِندہ ہیں، ہماری سانسیں چل رہی ہیں، ابھی موقع ہے، آئیے! نیک کام کریں، جنّت میں لے جانے والے، اللہ و رسول کی رضا دِلانے والے کام کریں۔

آئیے! جہنّم سے نجات دِلانے والے چند اَعْمَال اس نیت سے سُنتے ہیں کہ انہیں باقاعدہ اپنی زِندگی کا حِصّہ بنائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!  


 

 



[1]...احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، القول  فی صفۃ جہنم...الخ، جلد:4، صفحہ:642 و643۔