Book Name:Jahannam Ke Azabat
پتھروں کو پگھلا ڈالے، وہ ہماری ہڈیوں کا کیا چھوڑے گی....؟ اللہ پاک فرماتا ہے:
كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا (پارہ:5،سورۂ نساء:56)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:جب کبھی ان کی کھالیں خوب جل جائیں گی تو ہم اُن کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے۔
اس آیت کے تحت حضرت امام حسن بصری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہر دن آگ ان کو 70ہزار مرتبہ جلائے گی،جب وہ ان کوجلا دے گی تو کہا جائے گا دو بارہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ جاؤ پس وہ پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے۔([1])
ہائے حُسنِ عمل نہیں پلے حشر میں میرا ہو گا کیا یارَبّ!
گرمیِ حشر، پیاس کی شِدَّت جامِ کوثر مجھے پلا یارَبّ!
خوف دوزخ کا آہ! رحمت ہو خاکِ طیبہ کا واسطہ یارَبّ!
میرا نازُک بدن جہنّم سے از طفیلِ رضا بچا یارَبّ!([2])
اے عاشقانِ رسول! بےشک جہنّم کوئی ایسی چیز نہیں کہ اُس سے غفلت برتی جائے، جہنّم کا عذاب انتہائی ہولناک ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(۵۰) (پارہ:13،سورۂ حجر:50)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور بیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔