Book Name:Jahannam Ke Azabat
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیّت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! آج اَلحمدُ للہ ! رمضان کریم 1447ھ کی 27 وِیں شب ہے، رحمتوں، برکتوں، عزّتوں اور سلامتیوں والی رات ہے۔ کثیر تعداد میں عُلَمائے کرام قرآن و سُنّت کے دَلائل کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ ماہِ رمضان کی 27 وِیں شب ہی شبِ قدر ہے۔([2]) علما فرماتے ہیں کہ یہ اُمّت محمد یہ کا خاصہ ہے کہ انہیں شبِ قدر کا تحفہ عطا فرمایا گیا ہے ۔([3])
لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) (پارہ30،سورۂ قدر:3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
یعنی اس رات میں نیک عمل ہزار راتوں کے عمل سے بہتر ہے۔ مزید ارشاد فرمایا:
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اس رات میں فرشتے