Book Name:Jahannam Ke Azabat
مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴)(پارہ30،سورۂ قدر:4)
اور جبریل اپنے ربّ کے حکم سے ہر کام کے لیے اُترتے ہیں ۔
آخری نبی، مُحَمَّد عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : جب شبِ قدر آتی ہے تو اللہ پاک کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السَّلام ایک سبز جھنڈا لیے فرشتوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں اور اس سبز جھنڈے کو کعبہ شریف پر لہرا دیتے ہیں،([1]) ایک روایت کے مُطَابِق اُن فرشتوں کی تعداد رُوئے زمین کی کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے، یہ سب سلام ورحمت لے کر نازِل ہوتے ہیں۔([2]) ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: حضرت جبریل علیہ السَّلام کے 100 بازُو ہیں، جن میں سے 2 بازو آپ صِرْف اسی رات کھولتے ہیں، وہ بازو مشرق ومغرب میں پھیل جاتے ہیں، پھر حضرت جبریل علیہ السَّلام فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جو کوئی مسلمان آج رات نماز یا ذِکْرُ اللہ میں مَصْرُوف ہے اس سے سلام ومصافحہ کرو اور اُن کی دُعاؤں پر آمین بھی کہو! چنانچہ فرشتے آپ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور صبح تک یہی سلسلہ رہتا ہے۔([3])
سُستیاں چھوڑ دے اُٹھ باندھ کمر آج کی رات
آج تھکنا نہیں مغرب تا فجر آج کی رات
آنکھ لگتی نہیں عاشق کی تَو لمحہ بھر بھی
اور کب جاگے گا، جاگا نہ اگر آج کی رات