Book Name:Jahannam Ke Azabat
نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھ سے فرمایا: نماز فجر کے بعد بات چیت کرنے سے پہلے یہ کلمات 7مرتبہ پڑھ لیا کرو؛ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِی مِنَ النَّار (اے اللہ! مجھے جہنّم سے بچا)۔ اگر تم اس دِن مر گئے تو اللہ پاک تمہارے لیے جہنّم سے امان لکھ دے گا۔ اسی طرح مغرب کی نماز کے بعد بات چیت کرنے سے پہلے یہی کلمات 7مرتبہ پڑھ لیا کرو؛ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِی مِنَ النَّار(اے اللہ! مجھے جہنّم سے بچا)، پھر اگر تم اسی رات مر گئے تو اللہ پاک تمہارے لیے جہنّم سے امان لکھ دے گا۔ ([1])
(2):تقویٰ اختیار کیجیے!
اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا (پارہ:16،سورۂ مریم: 72)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پھر ہم ڈرنے والوں کو بچالیں گے۔
اے عاشقانِ رسول! اس آیتِ کریمہ میں بتایا گیا کہ روزِ قیامت سب ہی کو جہنّم (یعنی پُل صراط) پر سے گزرنا ہے، اس وقت نجات وہ پائیں گے جو تقویٰ والے، پرہیز گار ہیں۔
معلوم ہوا؛ تقویٰ کی برکت سے جہنّم سے نجات ملتی ہے۔
تقویٰ گُنَاہوں سے بچنے کا نام ہے، حضرت سَہل بن عبد اللہ تستری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو شخص چاہتا ہے کہ اس کا تقویٰ درست ہو جائے، وہ تمام گُنَاہوں کو چھوڑ دے۔ ([2])
اے عاشقانِ رسول! تقویٰ والے یعنی گُنَاہوں سے بچنے والے بروزِ قیامت نجات پانے