Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

پتا چلا؛ ہماری اُمِّید نہیں ٹوٹنی چاہئے۔ اللہ پاک کی رحمت بہت وسیع ہے، اتنی وسیع ہے کہ ہم اس کا تَصَوُّر تک نہیں کر سکتے ہیں۔

بندو! مایُوس نہ ہونا

اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-

(پارہ:24، سورۂ زُمر:53)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم فرماؤ! اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ پہلی ہم کلامی

حضرت مُعَاذ بن جبل  رَضِیَ اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ روزِ قیامت بندوں اور اللہ پاک کے درمیان سب سے پہلا کلام کیا ہو گا؟ فرمایا: اللہ پاک فرمائے گا: (اے اَہْلِ ایمان!) کیا تم میری بارگاہ میں حاضِری کا شوق رکھتے تھے؟ بندے عرض کریں گے: جی ہاں مالِک! ہم تیری ملاقات کا شوق رکھتے تھے۔ اللہ پاک فرمائے گا:کیوں؟ کس سبب سے شوق رکھتے تھے۔ بندے عرض کریں گے: مولیٰ! ہمیں اُمِّید تھی کہ تُو ہماری بخشش فرما دے گا۔ اللہ پاک فرمائے گا: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي تحقیق تمہارے لیے میری بخشش واجب ہو گئی۔([1])

مغفرت کا ہُوں تجھ سے سُوالی            پھیرنا اپنے دَرْ سے نہ خالی


 

 



[1]...الزہد لابن مبارک، باب ذکر الموت، صفحہ:115، حدیث:276۔