Book Name:Jahannam Ke Azabat
اَہْلِ جہنّم کے عذابات کی مختصر جھلک
حُجَّۃُ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ عذاباتِ جہنّم کا نقشہ کھینچتےہوئے لکھتے ہیں: اَہْلِ جہنّم کو جہنّم میں گِرا کر ایسے گھر میں قید کر دیا جائے گا کہ جس کے کنارے تنگ ہوں گے، راستے تاریک ہوں گے، اس جہنّم میں ہلاکت کے اسباب ہوں گے، آہ! جہنّم کی آگ بھڑکائی جائے گی، اَہْلِ جہنّم کو پینے کے لیے کھولتا پانی دیا جائے گا، عذاب کے فرشتے انہیں گُرزوں سے ماریں گے، جہنمیوں کےپاؤں پیشانی کے بالوں سے باندھ دئیے جائیں گےاورگناہوں کی کالک سے ان کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے،اَہْلِ جہنم دوزخ سے چِلّائیں گے اور دوزخ پر مُقَرَّر فرشے حضرت مالِک علیہ السَّلام کو یُوں پُکارتے پھریں گے:اے مالک! ہم پر عذاب کا وعدہ سچا ہو چکا،اے مالک!بیڑیاں ہم پر بہت بھاری ہیں،اے مالک! ہماری جِلدیں پک چکی ہیں،اے مالک! اب ہمیں اس سے نکال د ے ہم دوبارہ بُرے اعمال نہیں کریں گے۔ دوزخ کے فرشتے جواب دیں گے:ہائے افسوس! امان کا وقت جا چکا، اب تمارے لیے جہنّم سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں! پڑے رہو اسی میں دُھتکارے ہوئے اور کلام مت کرو، اگر تمہیں ایک بار اس سے نکال بھی دیا جائے تو تم دوبارہ وہی کرو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے۔
اب اَہْلِ جہنّم نا امید ہو جائیں گے اور اپنے گُنَاہوں پر افسوس کریں گےمگر اب یہ ندامت کچھ کام نہ آئے گی، نہ ہی افسوس فائدہ دے گا۔ اَہْلِ جہنّم کو طوق پہنا کر منہ کے بل ڈال دیا جائے گا، ان کے اوپر،نیچے، دائیں بائیں ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی، وہ آگ کے اندر غرق ہوں گے، آگ ہی ان کا کھانا ہو گی، آگ ہی پہناوا ہو گی اور آگ ہی ان کا بچھونا ہو گی، جہنمیوں کو تارکول کا لباس پہنایا جائے گا،جہنمیوں کو گُرزمارے جائیں گے، جہنمیوں