Share this link via
Personality Websites!
شہروں سے بڑھ کر محبوب ہو گیا ہے۔
اُن کے جلووں میں ہیں وہ دلچسپیاں جو وہاں پہنچا، وہیں کا ہو گیا([1])
پیارے اسلامی بھائیو! رسولِ اکرم، نورِ مُجَّسَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَخْلاق، آپ کی عادات، آپ کے مبارَک انداز کیسے پیارے، کیسے نِرالے، کیسے دِل نشین تھے، حضرت ثُمامَہ بن اُثَال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے صِرْف آپ کی ادائیں دیکھیں، 3 دِن تک اَخْلاقِ کریمہ کو محض دُور کھڑے دیکھتے ہی رہے، اِسی کا اتنا اَثَر ہوا کہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔
کیا کشش تھی سرورِ عالَم کے حُسْنِ پاک میں
سینکڑوں کُفّار کو دَم میں مسلماں کر دیا
ہو گئی کافُور ظلمت، دِل مُنَوَّر ہو گئے
جس طرف بھی اُس نے اپنا رُوئے تاباں کر دیا([2])
الفاظ معانی: ظُلْمت کافُور ہونا: اندھیرا مٹ جانا۔ رُوئے تاباں: روشن، چمکدار، نُور برساتا چہرہ۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں ایک بڑی خوبصُورت اور ایمان افروز نکتے کی بات ہے، مُسَیْلِمَہکذّاب جو نبوت کا جھوٹا دعویدار تھا، اُس نے پیارے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری زندگی مبارَک ہی میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا۔ یہ کذّاب بھی یَمَامَہ کا رہنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami