Share this link via
Personality Websites!
کام سُنّتِ مصطفےٰ بھی ہے، سُنّتِ انبیا علیہمُ السَّلام بھی ہے، حضرت آدم علیہ السَّلام سے لے کر سب سے آخری نبی، مُحَمَّد عربی صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک جتنے نبی تشریف لائے، سب کی آمد کا اَصْل مقصد نیکی کی دعوت عام کرنا ہی تھا۔
حدیثِ پاک میں ہے: کسی نے حُضُورِ انور، مکے مدینے کے تاجوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا: بہترین بندہ کون ہے؟ فرمایا: اللہ پاک سے ڈرنے والا، صلہ رحمی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرنے والا، اچھی باتیں بتانے اور بُرائیوں سے روکنے والا۔([1])
اللہ و رسول کا خلیفہ کون...؟
امام حَسَن بَصَرِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: جو اچھی باتوں کا حکم دے، بُرائیوں سے روکے، وہ اللہ پاک کا بھی خلیفہ ہے، اُس کے رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا بھی اور اُس کی کتاب (یعنی قرآنِ کریم) کا بھی خلیفہ ہے۔([2])
نیکی کی دَعْوَت چھوڑ دینے کے نقصانات
پیارے اسلامی بھائیو! جیسے نیکی کی دَعْوَت دینا بہترین عبادت ہے، ایسے ہی یہ دِینی کام چھوڑ دینا بدتَرِین جُرْم ہے۔ روایت میں ہے: اگر مسلمانوں نے تبلیغ چھوڑ دی تو اُن پر ظالِم بادشاہ مُسَلَّط ہوں گے اور اُن کی دُعائیں قبول نہ ہوں گی۔([3])
اللہ اکبر...!! اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہم سب کو نیکی کی دعوت عام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami