Share this link via
Personality Websites!
خیر! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حکمِ شاہِی پر عَمَل کیا،ثُمامَہ کی رسّیاں کھول دِیں، ثُمامَہ مسجد سے نکلے، قریب ہی ایک باغ تھا، وہاں گئے، کنویں پر غسل کیا اور نَہا دھو کر واپس مسجد میں آئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ ([1])
گِر کے قدموں پر وہ قرباں ہوگیا پڑھ لیا کلمہ مسلماں ہو گیا
کچھ دَیر پہلے تک جو اِسلام کا سخت دُشمن تھا، اب وہی ثُمامَہ صِرْف ثُمامَہ نہیں بلکہ حضرت ثُمامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہو چکے تھے یعنی اب درجۂ صحابیت پر فائِز ہو کر دُنیا بھر کے تمام اَوْلیائے کرام سے اُونچا رُتبہ پا چکے تھے۔ اب حضرت ثُمامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
یَا مُحَمَّدُ! وَاللہ مَا کَانَ عَلَی الْاَرْضِ وَجْہٌ اَبْغَضُ اِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ فَقَدْ اَصْبَحَ وَجْہُکَ اَحَبُّ الْوُجُوْہِ اِلَیَّ
ترجمہ: یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! خُدا کی قسم! مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ کسی چہرے سے نفرت نہیں تھی، آج سب سے مَحْبُوب چہرہ آپ ہی کا ہے۔
وَاللہ مَا کَانَ مِنْ دِیْنٍ اَبْغَضُ اِلَیَّ مِنْ دِیْنِکَ فَاَصْبَحَ دِیْنُکَ اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَیَّ
ترجمہ: خُدا کی قسم! مجھے سب سے زیادہ آپ کے دِین سے نفرت تھی، اب یہی دِین سب سے زیادہ مَحْبُوب ہے۔
وَ اللہ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ اَبْغَضُ اِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ فَاَصْبَحَ بَلَدُکَ اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَیَّ([2])
ترجمہ: خُدا کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ کسی شہر سے نفرت نہیں تھی، اب یہی شہر سب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami