حضرت سیّدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ

غزوۂ خندق کے موقع پرایک رات سخت آندھی اور شدید سردی تھی، سیّدِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک جانثار کو دشمنوں کی خبر لانے کا حکم فرمایا اور دعا دی: اے اللّٰہ! تو اس کی حفاظت فرما سامنے سے اور پیچھے سے، دائیں سے اوربائیں سے، اوپر سے اور نیچے سے۔ وہ جانثار صحابی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ دعائے نبوی کے بعد گویا مجھ سے سردی بالکل جاتی رہی، ہر ہر قدم پر یوں معلوم ہو رہا تھا کہ گرمی میں چل رہا ہوں۔ دشمنوں کا جائزہ لے کر رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حالات گوش گزار کئے تب سردی کا احساس ہوا۔ پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے مجھے اپنے قریب کیا اور قدمین مبارکہ کے پاس سونے کے لئے جگہ دے دی پھر اپنی بابرکت چادر کا کنارہ مجھ پر ڈال دیا یہ کرم نوازی دیکھ کر میں اپنا پیٹ اور سینہ سرکار مدینہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے بابرکت قدموں سے باربار مَس کرتا رہا، صبح ہوئی تو دشمن بھاگ چکا تھا۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج 12،ص278تا 280ملخصاً) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! روزِ قیامت معیتِ رسول کی سند پانے والے، رحمتِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے قدموں سے لپٹ کر خوب برکتیں لینے والے وفادار اور جانثار بلند مرتبہ صحابیِ رسول، ایران کے سابقہ پایۂ تخت مدائن کے گورنر حضرت سیّدنا حُذَیفہ بن یَمان انصاری رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما تھے۔ لقب، کنیت و مقامِ پیدائش آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی کنیت ابوعبداللّٰہ جبکہ لقب ”صاحبُ سرِّ رسول اللہ“ ہے یعنی رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے رازدان۔ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے والد ماجد کا نام حضرت حِسْل یا حُسَیْل تھا مگر ”یَمان“ کے لقب سے مشہور ہوئے، مکۂ مکرمہ کے قبیلہ عَبْس سے تعلق تھا کچھ وجوہات کی بناپر مکہ چھوڑ کر مدینے میں رہائش اختیارکرلی اور یہیں شادی کی، یوں حضرت حذیفہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی پیدائش مدینے میں ہوئی (زرقانی علی المواہب،ج 4،ص557) اسی وجہ سے حضرت حذیفہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنا شمار گروہِ مہاجرین میں کروں یا انصار میں، تَو میں نے گروہِ اَنصار کو پسند کیا۔ (معجم کبیر،ج 3،ص164، حدیث: 3011) والدِ ماجد کی شہادت جنگ اُحد میں کفار شکست کھا کر بھاگ چکے تھے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کررہے تھے کہ کفار نے پلٹ کر یکدم پھر حملہ کردیا، چونکہ مسلمان صف بندی کی حالت میں نہ تھے، اس لئے کفار سے لڑتے ہوئے کچھ مسلمان بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئےان شہدا میں حضرت سیّدنا حذیفہ کے والد گرامی حضرت سیّدنا یمان رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی تھے۔(زرقانی علی المواھب،ج 2،ص412) خصوصی تعلیم آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ منافقین اور علاماتِ نفاق کی خوب پہچان رکھتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ غیب کی خبریں بتانے والے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنے قریب بلایا اور ایک ایک منافق کا نام بتایا۔ (معجم کبیر،ج3،ص164، حدیث:3010) جنازے میں شرکت یہی وجہ تھی کہ جب بھی جنازہ آتا تو امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ معلوم کرواتے کہ حضرت حذیفہ جنازے میں شامل ہیں یا نہیں، اگر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ شامل ہوتے تو حضرت سیدنا عمر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نمازِ جنازہ پڑھا دیتے ورنہ خود بھی شریک نہ ہوتے۔ (اسد الغابۃ،ج 1،ص573) فتنہ باز لوگوں کی خبر رکھنے والے ایک مقام پر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے ہیں یا جانتے ہوئے اَنجان بن رہے ہیں۔ وَاللّٰہ! دنیا کے خاتمہ تک جتنے بھی ایسے فتنہ پَرْوَرْ لوگ آئیں گے جن کے پیروکار تین سو یا اس سے زائد ہوں گے ان سب کا نام، ان کے باپوں کا نام، ان کے قبیلوں کا نام رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ہمیں بتا دیا ہے۔ (ابوداود،ج 4،ص129، حدیث:4243) بارگاہِ فاروقی میں مقام حضرت سیّدنا عمر فاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ جب کسی شخص کو کوئی عہدہ سپرد فرماتے تو وہاں کے لوگوں کے نام یہ تحریر دیتے کہ جب تک یہ تمہارے درمیان عدل کریں تو تم ان کی اطاعت کرنا، لیکن آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو مدائن کے گورنر کا عہدہ عطا کرنے کے بعد تحریر فرمایا: لوگو!ان کی اطاعت کرنا اور جو کچھ یہ طلب کریں، وہ انہیں دے دینا۔ گورنر کی سادگی آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نہایت سادہ طبیعت تھے اور تکلُّفات (Formalities) میں پڑنے سے بچتے تھے چنانچہ دراز گوش (یعنی گدھے) پر سوار ہو کر بڑی بے نیازی سے دونوں پاؤں ایک جانب لٹکائے ہوئے شہر مدائن میں گورنر کی حیثیت سے داخل ہوگئےجبکہ شہر کے لوگ منتظر ہی رہے اور اندازہ بھی نہ لگا پائےکہ نیا گورنر کون ہے؟ صرف دو وقت کا کھانا بعد میں معلوم ہوا تو دوڑ کر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی روٹی اور ایک بوٹی تناول فرما رہے تھے۔ لوگوں نے ضروریات کے بارے میں دریافت کیاتو آپ نے فرمایا: اپنے لئے کھانا اور گدھے کے لئے چارا دن میں صرف 2 مرتبہ چاہئے۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 12،ص286،ماخوذاً) مال و دولت جمع نہ کیا حضرت عمر فاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو جب آپ کی واپسی کی اطلاع ملی تو مدینے آنے والے راستے پر آپ کا انتظار کرنے لگے تاکہ آپ کی پہلے والی اور موجودہ حالت کو ملاحظہ فرمائیں جب آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کوپہلی حالت پر دیکھا (یعنی خالی ہاتھ ہی تھے )تو (خوش ہوکر )آپ کو گلے سے لگالیا اور فرمایا: تم میرے بھائی اور میں تمہارا بھائی ہوں۔(الزہد لاحمد،ص200) کسی کو مت بتانا آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نماز خشوع و خضوع سے ادا فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز میں ہچکیاں بندھ گئیں۔ فارغ ہوئے تو قریب ہی ایک شخص کو موجود پایا، ارشاد فرمایا: جو کچھ دیکھا ہے کسی کو ہرگز نہ بتانا۔ خدا خوفی اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے اس خواہش کا اظہار کرتے کہ دروازہ بند کرکے بیٹھ جاؤں اور کسی سے نہ ملوں یہاں تک کہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو جاؤں۔ (صفۃ الصفوۃ،ج 1،ص312) مجاہدانہ کارنامے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے غزوۂ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت کی، دورِ فاروقی میں نَہاوَنْد کی جنگ میں امیر لشکر حضرت سیدنا نعمان بن مُقَرِّن رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا، 22ہجری میں ہمدان، رَے اور دینور کی فتوحات کا سہرا آپ کے سر پر سجا۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 12،ص287، الاستیعاب،ج1،ص394) وصال مبارک بَوقتِ انتقال بہت زیادہ رو رہے تھے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا: اس لئے نہیں رو رہا کہ دنیا چھوٹ رہی ہے کیونکہ موت مجھے محبوب ہے لیکن (رونے کی وجہ یہ ہے کہ ) میں نہیں جانتا کہ جب مجھے آگے پیش کیا جائے گا تو اللہ مجھ سے راضی ہوگا یا ناراض؟ (تاریخ ابن عساکر،ج 12،ص296) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا وصال مبارک خلیفہ ثالث حضرت سیّدنا عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد (غالباً 28) محرم الحرام 36ہجری کو مدائن (سلمان پاک) میں ہوا، یہیں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا مزارِ پُراَنوار ہے۔(بغیۃ الطلب،ج 5،ص2176، مراٰۃ المناجیح،ج 1،ص80) جسم سلامت رہا وصال کے سینکڑوں سال بعد غالباً 20ذو الحجۃ الحرام 1351 ہجری کےدن قبر میں نمی آجانے کے باعث حضرت سیّدنا حذیفہ اور حضرت سیّدنا جابر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما کے اَجسا مِ مبارکہ کی منتقلی ہوئی تو پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں زائرین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دونوں اصحاب ِ رسول رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما کے اجسامِ مقدّسہ اور پاکیزہ کفن یہاں تک کہ داڑھی مبارَک کے بال تک بالکل صحیح سلامت تھے۔ اجسامِ مقدسہ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید انہیں رحلت فرمائے ہوئے دو تین گھنٹے سے زائد وقت نہیں گزرا۔ (قبر کھل گئی، ص 14،15ملخصاً)

دَہن میلا نہیں ہوتا، بدن میلا نہیں ہوتا

خُدا کے پاک بندوں کا کفن میلا نہیں ہوتا

(پردے کے بارے میں سوال جواب، ص109)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭مدرس مرکزی جامعۃالمدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

حضرت سیّدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالٰی عنہ

امامُ العادلین، امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ جہاں دیگر بہترین اوصاف کے مالک تھے وہیں آپ کی اہلِ بیتِ اطہار سے عقیدت و محبت بھی مثالی تھی۔ اہلِ بیت ِکرام سے محبت کے چند مَظاہر ملاحظہ کیجئے:

حضور کے چچا سے عقیدت و محبت حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے دورِ خلافت میں حضرت سیِّدُنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سوار ہوکر نہیں ملا کرتے تھے، بلکہ اپنی سواری سے اُتَر کر ان کے ساتھ ساتھ چلتے یہاں تک کہ جب وہ اپنے گھر یا اپنی مجلس میں پہنچ جاتے تو حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ الگ ہوجاتے۔ (الصواعق المحرقۃ، ص178ماخوذاً)

مولا مشکل کُشا سے عقیدت و محبت ایک بار مولا مشکل کشا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم ایک ایسی مجلس میں تشریف لائے جہاں حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ جلوہ فرما تھے۔ جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں دیکھا تو سمٹ گئے اور عاجزی کرتے ہوئےان کیلئے جگہ کشادہ فرما دی۔ مجلس کے اختتام پر جب مولا علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم تشریف لے گئے تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا امیر المؤمنین! آپ کا مولا علی شیرِِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا جیسا انداز ہے ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ سُن کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ اس حُسنِ سُلوک سے کون سی چیز روک سکتی ہے۔ اللہ پاک کی قسم! بے شک یہ میرے مولا ہیں اور ہر مؤمن کے مولا ہیں۔

(تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص235 ملتقطا)

بی بی فاطمۃ الزہراء سے عقیدت امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خاتونِ جنت حضرت سیّدَتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہا: اے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شہزادی! اللہ پاک کی قسم! تمام مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں آپ کے والدِ گرامی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ محبوب ہو اور ان کے بعد آپ سے زیادہ ہمارے نزدیک کوئی پسندیدہ شخصیت نہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ،ج 8،ص572، حدیث:4،مختصراً)

حسنینِ کریمین سے عقیدت ومحبت حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں وظائف مقرر کرنے کیلئےاپنے اصحاب سے مشورہ لیا کہ سب سے پہلے کس کا وظیفہ مقرر کیا جائے؟ سب کہنے لگے: یاامیر المؤمنین! سب سے پہلے آپ اپنا وظیفہ مقرر کریں۔ مگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ساداتِ کرام سے آغاز کیا اور حضرت سیِّدُنا امام حسن امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہماکے لئے پانچ پانچ سو درہم وظیفہ مقرر کیا۔ (الریاض النضرۃ،ج1،ص341)

حسنین کریمین کے لئے یمن سے کپڑے منگوائے ایک مرتبہ یمن سے کچھ کپڑے آئے تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لوگوں میں تقسیم کردیئے۔لوگ وہ کپڑے پہن کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آ آ کر دعادینے لگے اس وقت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ انور اور منبرِ اقدس کے درمیان تشریف فرماتھے اچانک آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے شہزادیِ کونین کے کاشانۂ اقدس سے حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما باہر تشریف لائے، دونوں شہزادوں کے جسموں پر ان کپڑوں میں سے کوئی کپڑا نہیں تھا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ دیکھ کر غمزدہ ہو گئے، اور فوراً حاکمِ یمن کو خط لکھا کہ جلد از جلد حسنینِ کریمین کے لئے دو بہترین اور قیمتی حُلّے بھیجو۔ حاکم ِیمن نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور دو حُلّے بھیج دیئے۔ایک روایت میں ہے کہ یمن سے آئے ہوئے کپڑے حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے شایانِ شان نہیں تھے پھر یمن سے دوسرے کپڑے منگواکر انہیں پہنائے اور ارشاد فرمایا: اب میں خوش ہوگیا ہوں۔

(تاریخ ابن عساکر،ج 14،ص177، ماخوذاً)

شہادت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر 26 ذوالحجۃ الحرام کی صبح نماز کی حالت میں قاتلانہ حملہ ہواجس کے چند دن بعد آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، آپ کی تدفین یکم محرم الحرام 24 ہجری کو حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ اقدس میں خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں ہوئی۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج 44،ص464،467ماخوذاً)

اللہ پاک فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صدقے و طفیل ہمیں بھی اہلِ بیت ِاطہار سے محبت رکھنے اور ان کا ادب و احترام کرنے کی سعادت و توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code