ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں                آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِبیت/اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور                نجم ہیں اور  ناؤ ہے عِترت رسولُ اللّٰہ کی

محرمُ الحرام کے مقدس مہینے کی مناسبت سے صحابہ و اہلِ بیت رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین کی مدح و ثناء پر مشتمل دو اشعار ضَروری وضاحت کے ساتھ پیشِ خدمت ہیں۔ پہلا شعر شہنشاہِ سُخن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان جبکہ دوسرا امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے نعتیہ دیوان سے لیا گیا ہے۔

ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِبیت (ذوقِ نعت،ص71)

شرح اہلِ بیتِ اطہار کی شان و عظمت کا اظہار قراٰنِ کریم کی آیتِ تطہیر سے بھی ہوتا ہے جس میں اللہ پاک نے اہلِ بیت سے گناہوں کی آلودگی دور کرکے انہیں خوب پاک کرنے کو بیان فرمایا ہے۔آیتِ تطہیر ( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳))ترجمۂ کنزالایمان:اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (پ22،الاحزاب:33)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)اہلِ بیت سے مراد کون؟ اہلِ بیت میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  کے ازواجِ مطہرات اور حضرت خاتونِ جنّت فاطمہ زہراء اور علیِ مرتضیٰ اور حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہم سب داخل ہیں، آیات واحادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔(خزائن العرفان، پ22،الاحزاب،تحت الآیۃ:33، ص 780) اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن اہلِ بیت کی شان میں فرماتے ہیں:

آبِ تطہیر سے جس میں پودے جمے اس ریاضِ نَجابَت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش،ص 309)

اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عِترت رسولُ اللہ کی(حدائقِ بخشش،ص 153)

الفاظ و معانی بیڑا/ناؤ:کشتی۔ نجم:ستارہ۔ عِتْرَت:اولاد۔ شرح اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اہلِ سنّت و جماعت کامیاب ہوں گے اور ان کی کشتی بخیر و عافیت منزلِ مقصود پر پہنچ جائے گی کیونکہ یہ اہلِ بیتِ اطہار کی مقدّس کشتی میں سوار ہیں اور آسمانِ ہدایت کے ستارے یعنی صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان منزل یعنی جنت کی طرف ان کی راہنمائی فرما رہے ہیں۔ اس شعر میں ان دو فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف اشارہ ہے: (1)اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّھِمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(مشکاۃ المصابیح، جزء3،ج 2،ص414، حدیث:6018) (2)مَثَلُ اَہْلِ بَیْتِیْ مَثَلُ سَفِیْنَۃِ نُوْحٍ مَنْ رَکِبَہَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْہَا غَرَقَ میرے اہلِ بیت کی مثال کشتیٔ نوح کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہا ہلاک ہوگیا۔(مستدرک،ج 3،ص81، حدیث:3365) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری کا بھی کہ جہاز ستاروں کی راہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں، اسی طرح اُمّتِ مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیتِ اطہار کے بھی محتاج ہیں اور صحابۂ کبار کے بھی حاجت مند۔ (مراٰۃ المناجیح،ج8،ص345) گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔ اَلْحَمْدُ! اہلِ سنّت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص494)

صحابہ ہیں سب مِثلِ انجم دَرَخْشاں

سفینہ ہے اُمّت کا عِترت نبی کی(قبالۂ بخشش،ص172)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code