عیادت کی فضیلت

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت اور بیماری زندگی کا حصہ ہیں، کبھی انسان بھرپور صحت سے لطف اندوز ہوتا ہے تو کبھی بیماری میں مبتلا ہو کر صبرو شکر کرتے ہوئےگناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: مسلمان کو پہنچنے والا کوئی دُکھ، تکلیف، غم، ملال، اَذِیَّت اور درد ایسا نہیں، خواہ اس کے پیر میں کانٹا ہی چبھے مگر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ (بخاری،ج 4،ص3، حدیث:5641) دین ہمیں جس طرح خوشیوں میں دوسروں کا ساتھ دے کر ان کی خوشیاں بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے اسی طرح غم کی کالی اور تاریک گھٹاؤں میں دوسروں پر سائبان تاننے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے اور اس کا احساس کرنے کی حقیقی تصویر عیادت کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یقیناً ایک مسلمان کا دوسروں کی تکلیف کا احساس کرکے، دل جوئی اور دل داری کی خاطر اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر عیادت کےلئے جانے میں اُس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عملی اظہار ہوتا ہےکہ جس میں تمام مسلمانوں کو ایک عمارت کی مانند قرار دیا گیا ہے۔ (مسلم، ص1070، حدیث: 6585)

مریض کی عیادت پر مشتمل اسلامی تعلیمات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کسی بھی حال میں تنہا نہیں چھوڑا۔ پھر یہ دین کی پُر اثر تعلیمات ہی ہیں کہ جن میں عیادتِ مریض کو اخلاقیات میں اعلیٰ درجہ دینے کے ساتھ ساتھ اس میں کئی اُخْرَوِی فوائد بھی رکھے گئے۔

عیادت کی فضیلت پر 2 فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(1)مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک جنت کے پھل چننے میں رہا۔ (مسلم، ص1065، حدیث:6551) (2)جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کیلئے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے ہیں اور اس کیلئے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ (ترمذی،ج 2،ص290، حدیث: 971)

عیادت کے آداب مریض کی عیادت میں اسے تکلیف پر صبر کی تلقین کیجئے۔ یاد ہوں تو ایسی احادیث سنائیے جن میں یہ ذکر ہے کہ بیماری گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔ اس کو توبہ واستغفار اور اللہ پاک کو یاد کرنے کاکہئے اور حالتِ مرض میں نماز پڑھنے اور جو عبادات کر سکتا ہو اُن عبادات کی تلقین کیجئے۔ عیادت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ علاج کیلئے سبِ حیثیت کچھ رقم نذر کی جائے یہی اَنْسَبْ (زیادہ بہتر) ہے ورنہ مریض کے حال کے مناسب کچھ کھانے پینے کی چیزیں مثلاً پھل وغیرہ دیئے جائیں۔ مریض اپنے مرض کی وجہ سے جن دنیاوی کاموں اور ذمہ داریوں کو پورا نہ کر سکے، اس میں بھی حتّی المقدور تعاون کیا جائے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ عیادت میں اتنی دیر نہ بیٹھا جائے کہ مریض یا اس کے اہلِ خانہ تنگ ہوجائیں، دورانِ ملاقات مریض سےتسلی آمیز کلمات کہے جائیں اور ایسی باتیں کی جائیں جن سے وہ خوش ہو اور اس کا دل بہلے۔

حکایت ایک شخص مریض کی عیاد ت کو گیا اور کافی دیر بیٹھا رہا تو مریض نے کہا: لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں تکلیف ہوئی ہے، وہ آدمی کہنےلگا، میں اُٹھ کر دروازہ بند کردوں؟مریض نےکہا: ہاں! لیکن باہر سے۔(مرقاۃ المفاتیح،ج4،ص60)

اللہ کریم ہمیں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں مریض کی عیادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت ،المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code