پل صراط کی حقیقت

پُل صراط کا منظر نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جہنَّم پر ایک پُل ہے جو بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، اس پر لوہے کےکُنڈے اور کانٹے ہیں جسے اللہ پاک چاہے گا یہ اُسے پکڑیں گے۔ لوگ اُس سے گزریں گے، بعض پلک جھپکنے کی طرح، بعض بجلی کی طرح، بعض ہوا کی طرح، بعض بہترین اور اچھے گھوڑوں اور اُونٹوں کی طرح (گزریں گے) اور فِرشتے کہتے ہوں گے: ’’رَبِّ سَلِّمْ، رَبِّ سَلِّمْ‘‘ (یعنی اے پَروَردگار سلامتی سے گزار، اے پروَر دگار سلامتی سے گزار ) بعض مسلمان نجات پائیں گے، بعض زخمی ہوں گے، بعض اَوندھے ہوں گے اور بعض منہ کے بل جہنَّم میں گِر پڑیں گے۔ (مسنداحمد،ج9،ص415،حدیث:24847) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی  فرماتے ہیں: ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا جیسا عمل، جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار۔ یہاں اَشِعَّۃُ اللَّمۡعَات نے فرمایا کہ اعمال سببِ رفتار ہیں اور حضور صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قُرْب زیادہ اتنی رفتار تیز۔ (مراۃ المناجیح،ج7،ص474)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے پُل صراط ہر ایک کے لئے بال سے زیادہ باریک نہیں ہو گا بلکہ جس کے لئے اللہ کریم چاہے گا اُس کے لئے وسیع و عریض وادی کی طرح ہو گا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا سَعید بن ابو ہِلال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: میرے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے روز پُل صراط بعض لوگوں پر بال سے بھی زیادہ باریک ہوگا اور بعض کے لئے کُشادہ وادی کی طرح ہوگا۔(الزہد لابن المبارک، ص122،حدیث:406)

عقیدہ”صِراط“ حق ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب (شرح الصاوی علی جوہرۃ التوحید،ص389) اور اِس کا انکار گمراہی ہے۔ (المعتقد مع المعتمد،ص335) اس پُل سے گزرے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا کیونکہ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،ج 2،ص15)

پُل صراط سے سب گزریں گے پُل صراط سے ہر ایک کو گُزرنا ہے جیسا کہ قراٰنِ مجید میں ہے:(وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱)) ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے ربّ کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔ (پ16، مریم: 71)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) حضرت سیّدنا عَبداللّٰہ بن مَسعود، حضرت سیّدنا حسن اور حضرت سیّدنا قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنھم سے روایت ہے کہ جہنم پر وارد ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو کہ جہنم کے اوپر بچھایا گیا ہے۔(تفسیر البحر المحیط، مریم، تحت الآیۃ:71،ج 6،ص197)

سب سے پہلے گزرنے والے سب سے پہلے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیاء و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی۔ (بہارِ شریعت،ج1،ص147)

سب سے تیز رفتار لوگ اللہ کریم نے حضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا: اے داوٗد! کیا تم جانتے ہو پل صراط پر سب سےتیزی سے گزرنے والے کون ہوں گے؟ وہ جو میرے فیصلے پر راضی رہے اور ان کی زبانیں میرے ذکر سے تَر رہیں۔ (حلیۃ الاولیاء،ج4،ص70، رقم:4783 مختصراً)

سب سے آخر میں گزرنے والا  پُل صراط سے گُزرنے والا آخری شخص پیٹ کے بَل گِھسَٹ گِھسَٹ کر گزرے گا، وہ اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کرے گا: یا اللہ مجھے اتنی دیر کیوں لگی؟ اللہ کریم ارشاد فرمائے گا: تجھے میں نے دیر نہیں کروائی بلکہ تجھے تیرے اعمال نے دیر کروائی ہے۔(التذکرۃ للقرطبی، ص318 مختصراً)

پل صراط سے گزرنے والے جنَّتیوں پر انعام ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الاَحْبار علیہ رحمۃ اللہ الغفَّار نے سورۂ مریم کی یہی آیت (وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) تلاوت کی: پھر فرمایا: تم جانتے ہو کہ دوزخ پر لوگوں کا گزرکس طرح ہوگا؟ پھر خود ہی فرمانے لگے: جہنم لوگوں پر ایسےظاہر ہو گا گویا چربی کی تَہ جمی ہے، جب نیک و بد کے قدم اس پر جَم جائیں گے تو ایک منادی ندا دےگا: اے جہنم! اپنے اصحاب پکڑلے اور میرے اصحاب چھوڑ دے پھرجہنم میں جانےوالےاس میں گرنے لگیں گےوہ انہیں اس طرح پہچان لےگاجیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے، مؤمن اسےاس طرح پار کر لیں گے کہ ان کے کپڑوں پر کوئی نشان نہیں ہوگا۔ (حلیۃالاولیاء،ج 5،ص403،رقم: 7527) جنَّتیوں پر یہ انعام بھی ہو گا کہ اُنہیں جہنم کی ہلکی سی آواز بھی سُنائی نہیں دے گی چنانچہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ( لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۲)) (پ17،الانبیآء:102) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ (صراط الجنان،ج6،ص380)

پُل صراط کی مسافت پُل صراط کی مسافت کتنی ہے اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:

(1)بہت سے علماء و مفسرین نے حضرت سیِّدنا امام مجاہد اور حضرت سیّدنا امام ضحّاک رَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی سے نقل فرمایا کہ پُل صراط کا سفر تین ہزا ر سال کی راہ ہے، ایک ہزار سال اوپر چڑھنے کے،ہزار سال نیچے اُترنے کے اور ہزار سال اس کی سطح پر چلنے کے۔(عمدۃ القاری،ج 13،ص482، تفسیر قرطبی، پ 30، البلد:11،ج 10،ص47)

(2)حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض  رَحمۃُ اللہ تعالٰی عَلیہِ  سے منقول ہے: پُل صراط کاسفر پندرہ ہزا ر سال کی راہ ہے، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال(اس کی پشت پر)چلنے کے۔ اس پر سے وہ گزرسکے گا جو خوفِ خدا کے باعث ناتوان وکمزور ہوگا۔(البدور السافرۃ، ص334،مختصراً)

ہمارے نبی کی دُعا اور فرشتوں کی نِدا فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: تمہارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صراط پر کھڑے رَبِّ سَلِّمْ رَبّ سَلِّم دُعا کر رہے ہوں گے۔ (مسلم، ص106،حدیث: 482ملتقطاً)اور فرشتے بھی اس پر کھڑے عرض کررہے ہوں گے: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سلامتی سےگزار، سلامتی سے گزار۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص310، رقم: 4054)

پُل صراط پر مؤمنوں کا شِعارنبیّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: پلِ صراط پر مؤمنین کا شِعَار ہو گا:رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ یعنی یااللہ! ہمیں سلامتی کے ساتھ گزار، سلامتی کے ساتھ گزار۔ (ترمذی،ج 4،ص195، حدیث:2440)

اللہ کریم ہمیں سلامتی سے پل صرط سے پار لگائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پل صراط کے بارے میں مزید جاننے کیلئے شیخ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ”پل صراط کی دہشت“ پڑھئے۔

یاالٰہی جب چلوں تاریک راہِ پُل صِراط

آفتابِ ہاشمی نورالہدیٰ کا ساتھ ہو

یاالٰہی جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے

ربِّ سلِّم کہنے والے غمزُدہ کا ساتھ ہو

(حدائق بخشش،ص133)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن مجلس المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code