کچھ نیکیاں کمالے

رزق بڑھانے والی نیکیاں(قسط : 01)

*   محمد افضل عطاری مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

اللہ ربُّ العزّت کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے امّتیوں کے لئے کئی طرح سے رحمتوں اور وسعتوں کے دروازے کھولے ہیں ، احادیثِ مبارَکہ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ بظاہر چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بڑے بڑے ثوابوں کی بشارتیں ہیں ، اسی طرح کئی ایسے اعمال بھی ارشاد فرمائے کہ جن کا ثواب تو ہے ہی ساتھ ہی رِزق میں وُسعت ، برکت اور کشادگی بھی ملتی ہے ، چنانچہ (1)وہ تسبیح جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے : ایک صحابی ( رضی اللہ عنہ ) حُضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوئے اور (رزق کی تنگی کے بارے میں بتاتے ہوئے) عرض کی : دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی ہے۔ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں جو فرشتوں کی تسبیح ہےاور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے۔ طلوعِ فجر کے ساتھ سو بار کہا کر “ سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ “ دنیا تیرے پاس ذلیل و خوار ہو کر آئے گی ، وہ صحابی  رضی اللہ عنہ  چلے گئے اور پھر کچھ دن کے بعد حُضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے : یارسولَ اللہ! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی کہ میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں؟ اور کہاں رکھوں؟۔ ([i])

(2)رِزْق میں برکت کا بہترین ذریعہ : حضرت سیِّدُنا انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے : حُضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے زمانۂ اقدس میں دو بھائی تھے ، ایک بارگاہِ نبوی میں حاضر رہتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا ، کام کرنے والے نے حُضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے اپنے بھائی (کے کام نہ کرنے) کی شکایت کی تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : “ شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔ “ ([ii])

مُحَقِّق عَلَی الْاِطْلَاق ، شیخ عبدالحق محدّث دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : “ اس شخص نے حُضور نبیِّ کریم ، رؤفٌ رّحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سارا بوجھ مجھ پر ڈال دیا ہے اسے میری مدد کرنی چاہئے تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس شخص کو بھائی کی کفالت کرنے پر صبر و ہمت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کچھ تو کماکر اپنے بھائی پر خرچ کرتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ یہ سب رزق تجھے اسی کی برکت سے دیا جاتا ہو۔ حدیثِ مذکور اس بات پر واضح دلیل ہے کہ فُقَرا بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔ “ ([iii])

(3)آیۃُ الکُرسی : کسی چیز پر لکھ کر اس کا کَتَبَہ مکان میں کسی اونچی جگہ پر آویزاں کردیا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ اس گھر میں کبھی فاقہ نہ ہوگا۔ بلکہ روزی میں بَرَکت اور اضافہ ہوگا اور اس مکان میں کبھی چور نہ آسکے گا۔ ([iv])

نوٹ : ہمیشہ یاد رکھئے! بغیر وُضو قراٰن پاک چھونا اور لکھنا ناجائز ہے اس لئے آیۃُ الکُرسی لکھنے سے پہلے وُضو ضرور کیجئے اور مکمل دُرست لکھنا آتا ہو تو ہی لکھئے وگرنہ کسی اچھا لکھنے والے سے لکھوالیجئے۔                                                         

                                                                                                                                     بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔ ۔ ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   مجلس رابطہ بالعلماء والمشائخ ، پاکستان



([i])لسان المیزان ، 4 / 303 ، حدیث : 5100 ، ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص128 ملخصاً

([ii])ترمذی ، 4 / 154 ، حدیث : 2352

([iii])اشعۃ اللمعات ، 4 / 262 ملخصاً

([iv])جنتی زیور ، ص589ملخصاً۔

Share

Articles

Comments


Security Code