اجیر کا آگے کسی اور سے اُجرت پر کام کروانا کیسا؟

اجیر کا آگے کسی اور سے اُجرت پر کام کروانا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے آج کل ایک انداز یہ بھی اپنایا جارہاہے کہ ایک کمپنی ہے جو خدمات فراہم کرتی ہے لیکن وہ خود براہِ راست خدمات فراہم نہیں کرتی بلکہ آگے کسی اور سے کام لیتی ہے،مثال کے طور پر میسن کا  کام ہے یا کسی بہت بڑے پلازے یا ہوٹل کی صفائی ستھرائی کا معاملہ ہے تو یہ کام وہ کمپنی خود نہیں کرتی بلکہ آگے کسی چھوٹے ٹھیکیدار کو کم ریٹ میں یہ کام دے دیتی ہے اس سے پرافٹ حاصل ہوتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:جی ہاں! یہ جائز ہے۔ بنیادی طور پر یہاں کام کا اِجارہ ہوتا ہے اور جس کام کا اجارہ کیا ہے وہ کام کمپنی کے مالکان خود تو نہیں کریں گے بلکہ ظاہر ہے ملازمین سے ہی کروائیں گے جب ملازمین سے کرواسکتے ہیں تو کسی اورکمپنی یا ٹھیکیدار سے بھی کرواسکتے ہیں۔ ایسا کرنا بالکل جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال ہے۔بہارِ شریعت میں ہے: ”اگر یہ شرط نہیں ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرے گا دوسرے سے بھی کراسکتا ہے اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اُجرت پر کرائے سب صورتیں جائز ہیں۔“(بہارِ شریعت،ج 3،ص119)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

واپسی کی شرط کے ساتھ چیز خریدنا اور بیچنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری دکان پر آ کر ایک شخص کہتا ہے کہ یہ موبائل میں آپ کو 2500 روپےمیں فروخت کرتا ہوں، اس شرط پر کہ ایک دو ماہ بعد میں 500 روپے اضافی دے کر 3000 روپے میں آپ سے خرید لوں گا۔ میں اس سے موبائل خرید کر اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور اس کے بدلے 2500 روپے اسے دے دیتا ہوں، ایک ڈیڑھ مہینے بعد وہ شخص واپس آکر مجھے 3000 روپے دیتا ہے اور میں اس کا موبائل اسے واپس کر دیتا ہوں۔ کیا میرا اس سے موبائل خرید کر رکھنا اور بعد میں وہی موبائل نفع لے کر اسی کو بیچنا جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کا موبائل کے مالک سے کسی قسم کا نفع حاصل کرنا، جائز نہیں۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کی بیان کردہ صورت حقیقت میں رَہْن ہے کیونکہ آپ کے پاس آنے والے کو اپنی چیز بیچنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ عارضی طور پر پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شخص آپ کے پاس موبائل گِروی رکھوا کر آپ سے قَرْض لے کر چلا جاتا ہے اور بعد میں واپس آکر آپ کو اصل قرض کے ساتھ 500 روپے اضافی دیتا ہے جو کہ قرض پر نفع ہےاور حدیثِ پاک کے مطابق قرض پر نفع لینا سود ہے۔ جیسا کہ نبیِّ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کل قرض جر منفعۃ فھو رباترجمہ:ہر وہ قرض جو نفع لے کر آئے وہ سود ہے۔(کنزالعمال، جز6،ج3 ،ص 99، حدیث:15512) لہٰذا آپ کا سوال میں مذکور عَقْد کرنا جائز نہیں۔

اگر بالفرض اسے خرید و فروخت مان لیں، تب بھی یہ عقد جائز نہیں ہوسکتا کیونکہ بیع جائز ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں کوئی ایسی شرط نہ رکھی جائے جو عقد کے تقاضے کے خلاف ہو اور اس میں بیچنے یا خریدنے والے کا فائدہ ہو۔ بیان کردہ صورت میں رقم واپس کرنے پر موبائل واپس کرنے کی شرط عقد کے تقاضے کے خلاف ہے اور اس میں کم از کم ایک فریق کا فائدہ ہے لہٰذا یہ شرط عقد کو فاسد کردے گی۔

نیز شریعت میں خرید و فروخت کا مقصد یہ ہے کہ خریدنے والا اس چیز کا مالک ہونے کے بعد اس میں جو تَصَرُّف کرنا چاہے، کر سکے جبکہ آپ کی بیان کردہ صورت میں آپ اس موبائل میں تصرف کرنے یعنی اسے بیچنے، کسی کو گفٹ کرنے وغیرہ کے مَجاز نہیں کیونکہ عقد (Deal) کے مطابق آپ کو وہی موبائل کچھ عرصے بعد اسی شخص کو واپس کرنا لازم ہے اور یہ بات مقاصدِ شریعت کے خلاف ہے لہٰذا یہ صورت جائز بیع کی نہیں ہو سکتی۔ الغرض سوال میں ذکر کی گئی صورت کسی بھی شرعی عقد کے اعتبار سے جائز نہیں، اگر کبھی ایسا ہو چکا ہو تو جتنی رقم اضافی وصول کی ہو وہ مالِ خبیث ہے لہٰذا بِلانیتِ ثواب وہ نفع صدقہ کردیا جائے۔

صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرَّحمہ بیع میں شرط لگانے سے متعلق لکھتے ہیں: ”جو شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں بائع یا مُشتری یا خود مبیع کا فائدہ ہو (جب کہ مبیع اہلِ استحقاق سے ہو) وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے۔“(بہارِ شریعت،ج 2،ص702)

سوال میں ذکر کردہ صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”بیعُ الوفا۔۔۔اس کی صورت یہ ہے کہ اس طور پر بیع کی جائے کہ بائع جب ثَمَن مشتری کو واپس کر دے گا تو مشتری مَبِیع کو واپس کر دے گا۔۔۔بیعُ الوفا حقیقت میں رہن ہے۔۔  لہٰذا  رَہْن کے تمام احکام اس میں جاری ہوں گے اور جو کچھ منافع حاصل ہوں گے، سب واپس کرنے ہوں گے۔۔۔ فقیر نے صرف اس قول کو ذکر کیا کہ یہ حقیقت میں رہن ہے کہ عاقِدَین کا مقصود اسی کی تائید کرتا ہے اور اگر اس کو بیع بھی قرار دیا جائے جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے اور خود عاقدین بھی عموماً لفظ بیع ہی سے عقد کرتے ہیں تو یہ شرط کہ ثمن واپس کرنے پر مبیع کو واپس کرنا ہوگا، یہ شرط بائع کے لیے مفید ہے اور مقتضائے عقد کے خلاف ہے اور ایسی شرط بیع کو فاسد کرتی ہے جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے، اس صورت میں بھی بائع و مشتری دونوں گنہگار ہوں گے۔“(بہارِ شریعت،ج2،ص834، 835)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

_______________________

٭…مفتی محمد علی اصغر عطاری مدنی    

٭…دارالافتاء اہل سنت نور العرفان ،کھارادر ،کراچی   


Share

Articles

Comments


Security Code