نماز میں چیکٹ کے بٹن کھلے ہون تو؟

(1)حُضورِاکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد افضل نبی کون؟

سوال:پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کون سے نبی کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے؟

جواب:حضرت سیّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کو۔([1])(مدنی مذاکرہ،11ربیعُ الآخِر1439ھ)

(2)نماز میں جیکٹ کے بٹن کھلے ہوں تو؟

سوال:نماز میں جیکٹ یا جرسی وغیرہ کی زِپ یا بٹن کھلے ہوئے ہوں تو  کیا نماز ہوجائے گی؟

جواب:جی ہاں! ہوجائے گی۔(مدنی مذاکرہ،3ربیعُ الآخِر1440ھ)

(3)شانِ صدّیقِ اکبر بزبانِ محبوبِ ربِّ اکبر

سوال:کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر بھی ہیں؟

جواب:حضرت سیّدتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک چاندنی رات میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰ لہٖ وسلَّم سے میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! کیا آسمان کے تاروں کے برابر بھی کسی کی نیکیاں ہوں گی؟ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ہاں عمر (رضی اللہ عنہ) کی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےعرض کی:(میرے والد حضرت) ابوبکر (صدّیق رضی اللہ عنہ)کی نیکیاں کہاں گئیں؟ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:عمر کی ساری نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے (غار والی) ایک نیکی کی طرح ہیں۔([2])(مدنی مذاکرہ،3ربیعُ الآخِر1440ھ)

(4)دوسروں کے موبائل چیک کرنا کیسا؟

سوال:بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسروں کے موبائل چیک کرتے اور میسج (SMS) پڑھتے ہیں، ان کا ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب:ناجائز ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:جو اپنے بھائی کے خط کو بغیر اجازت دیکھتا ہے گویا وہ آگ میں دیکھتا ہے۔([3]) نیز لوگوں کے موبائلز میں کئی راز ہوتے ہوں گے، جیسے محارِم کی تصاویر اور ان سے کی گئی پرسنل باتیں وغیرہ جن کا کسی اجنبی کو بِلا اجازتِ شرعی دیکھنا پڑھنا جائز نہیں ہے، جس نے اس طرح کیا ہے تو اسے توبہ کرنی چاہئے۔اگر آپ کسی کو موبائل دیں تو اسے تاکید کردیں کہ آپ چاہیں تو کال وغیرہ کرلیں مگر اس میں کچھ اور نہ دیکھیں۔(مدنی مذاکرہ، 4ربیعُ الآخِر1439ھ)

(5)پتھروں میں تاثیر

سوال:کیا پتھروں میں بھی کوئی تاثیر ہوتی ہے؟

جواب:جی ہاں! پتھروں میں بھی تاثیر ہوتی ہے اور اللہ پاک نے ہی ان میں تاثیر رکھی ہے، کیونکہ مؤثرِ حقیقی اللہ کریم ہی کی ذات ہے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی پتھروں کی تاثیر کا ذِکر ملتا ہے، جیساکہ حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عقیق کا نگینہ بہت مبارک ہے،حدیث شریف میں ہے:تَخَتَّمُوْا بِالْعَقِیْقِ فَاِنَّہٗ مُبَارَکٌ (یعنی عقیق کی انگوٹھی پہنو کہ وہ مبارک (یعنی برکت والی) ہے) ([4])مزید فرماتے ہیں:چاندی([5]) کی انگوٹھی (میں) عقیقِ سیاہ کا نگینہ بہت اعلیٰ ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ پیلے یاقُوت کی انگوٹھی طاعون سے محفوظ رکھتی ہے۔ بعض میں ہے کہ عقیق کی انگوٹھی فقیری (یعنی غربت) دُور کرتی ہے۔([6]) فیضُ القدیر میں ہے: عقیق کے نگینے والی انگوٹھی پہننے والے کو ہر قسم کی بھلائی ملے گی اور فرشتے اس سے محبت کریں گے۔اس کے خَواص (یعنی خاصیتوں میں) سے ہے کہ دل جھگڑے کے وقت سُکون میں رہتا ہے اور نکسیر پھوٹنا ختم ہوجاتا ہے۔([7])(مدنی مذاکرہ، 15ربیعُ الآخِر1440ھ)

(6)عشا کی نماز سے پہلے سونا

سوال:اگر کوئی عشا کی نماز سے پہلے سو جائے تو  کیا وہ رات میں اٹھ کر کسی بھی وقت نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب:عشا  کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اگر صبح صادق سے پہلے پہلے رات کو اٹھ کر کسی بھی وقت نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی، البتّہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور بغیر کسی شرعی مجبوری کے جماعت چھوڑنا گناہ ہے۔ نیز عشا کی نماز سے پہلے سونے سے منع کیا گیا ہے اور یہ سنّت بھی نہیں ہے، حدیثِ پاک میں ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عشا کی نماز سے پہلے سونے کو ناپسند فرماتے تھے۔([8]) یعنی ایسے سونے کو ناپسند فرماتے کہ جس کی وجہ سے جماعت چھوٹ جائے یا نماز قضا ہوجائے۔([9])(مدنی مذاکرہ،22رجب المرجب1440ھ)

(7)خود کشی کرنے والے کے لئے دُعائے مغفرت کرنا

سوال:کیا خود کشی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرسکتے ہیں؟

جواب:خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی اور اس کے لئے دعائے مغفرت بھی کرسکتے ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 9ربیعُ الآخِر1440ھ)

(8)جھوٹ بولنے والے کی نَماز کا حکم

سوال:اگر کوئی شخص جھوٹ بولتا ہو اور نَماز بھی پڑھتا ہو تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟

جواب:جھوٹ بولنا گناہ و حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے، اس سے توبہ کرنی ضَروری ہے، البتّہ کوئی جھوٹ بولتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔(مدنی مذاکرہ،10ربیعُ الآخِر1440ھ)



([1])منح الروض الازھر، ص336

([2])مشکاۃ المصابیح، جز4،ج 2،ص423، حدیث: 6068،مراٰۃ المناجیح،ج8،ص391

([3])مستدرک للحاکم،ج 5،ص384، حدیث:7779

([4])شعب الایمان،ج 5،ص201، حدیث:6357

([5])جب کبھی انگوٹھی پہنئے تو اِس بات کا خاص خیال رکھئے کہ صِرف ساڑھے چار ماشے ( یعنی چار گرام 374 ملی گرام) سے کم وَزْن چاندی کی ایک ہی انگوٹھی پہنئے۔ ایک سے زیادہ نہ پہنئے اور اُس ایک انگوٹھی میں بھی نگینہ ایک ہی ہو، ایک سے زیادہ نگینے نہ ہوں، بِغیر نگینے کی بھی مت پہنئے۔ نگینے کے وَزْن کی کوئی قید نہیں۔ چاند ی کا چَھلّا یا چاندی کے بیان کردہ وَزْن وغیرہ کے علاوہ کسی بھی  دھات کی انگوٹھی یا چھلّا مرد نہیں پہن سکتا۔(نماز کے احکام، ص 444تا 445)

([6])مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص131

([7])فیض القدیر،ج 3،ص235، تحت الحدیث:3263

([8])بخاری،ج 1،ص208، حدیث:568

([9])عمدۃ القاری،ج 4،ص93، تحت الحدیث:568

Share

Articles

Comments


Security Code