حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذریعۂ معاش اور ان کی سخاوت

مختصر تعارف: حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیدُاللّٰہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد ہے۔ آپ اُن دس خوش نصیب صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں جن کے قطعی جنّتی ہونے کی بِشارت نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی زندگی ہی میں سُنادی تھی۔ آپ کا شمار اُن آٹھ افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا([1])اور سخی تو ایسے تھے کہ دربارِ نبوت سے غزوۂ اُحد کے دن طلحۃ ُالْخَیر، غزوۂ ذِی العَشِیرہ کے موقع پر طلحۃُ الفیّاض اور غزوۂ حُنین یا غزوۂ خیبر میں طلحۃُ الْجُود کے القابات عطا ہوئے۔([2]) آخرکار 10جُمادَی الاُخریٰ 36ھ کو جنگِ جَمَل کے دوران ایک تیر ٹانگ پر آکر لگا جس سے خون کی رَگ بُری طرح کٹ گئی اور کثرت سے خون بہنے لگا، اسی سبب سے تقریباً 60سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کیا۔([3])

ذریعۂ معاش:آپ بَزّاز (یعنی کپڑے کے تاجر) تھے۔([4]) آپ کے آزاد کردہ غلام کا بیان ہے کہ آپ کی یومیہ آمدنی (Daily Income) ایک ہزار وَافِی تھی۔([5]) آپ کے پوتے حضرت سیِّدُنا ابراہیم تَیْمی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ عراق سے آپ کو چار لاکھ دِرہم کی آمدنی ہوتی تھی اور ایک دوسری جگہ سے کم و بیش 10ہزار دِینار کی، نیز مدینے کی بستیوں سے بھی آپ کو آمدنی حاصل ہوتی تھی۔([6])

تجارتی سفر: آپ کے حالاتِ زندگی میں قبلِ اسلام تجارت (Trade) کی غَرَض سے  بُصریٰ([7]) کی طرف سفر کا ذِکْر ملتا ہے اور اسی سفر میں ایک  راہب نے آپ سے نبیِّ آخِرُالزَّمان   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظہور کے متعلق پوچھا تھا اور اس کی باتوں سے آپ کا دل اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا حتّٰی کہ سفر سے واپسی پر حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ  کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا۔([8])

مال کا جمع ہونا باعثِ پریشانی: آپ کی زوجہ حضرت سیّدَتُنا سُعْدیٰ بنتِ عَوْف رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے آپ کو پریشان دیکھ کر آپ سے پوچھا: کیا میری طرف سے آپ کو کوئی دُکھ پہنچا ہے کہ میں اسے دُور کرسکوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، آپ تو بہترین بیوی ہیں بلکہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میرے پاس مال جمع ہوگیا ہے اور سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کا کیا کروں؟ زوجۂ محترمہ نے کہا:کیا اس وجہ سے غمگین ہیں؟ آپ اسے اپنی قوم کے لوگوں میں تقسیم فرما دیجئے، چنانچہ آپ نے وہ  مال اپنی قوم پر تقسیم فرما دیا۔ زوجۂ محترمہ کا بیان ہے:میں نے جب آپ کے خزانچی سے تقسیم کئے جانے والے مال کی مقدار معلوم کی تو اس نے چار لاکھ دِرہم بتائی۔([9])

ساری رات جاگتے رہے: ایک بار سات لاکھ دِرہم میں زمین فروخت کی اور اس کے پیسے رات بھر آپ کے پاس رہے، ان پیسوں کے خوف سے وہ رات آپ نے جاگتے ہوئے گزاری یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی وہ سارا مال تقسیم فرما دیا۔([10])

بِن مانگے دیتے: تابعی بُزرگ حضرت سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن جابر رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: میں حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیدُاللّٰہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، میں نے آپ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو بِن مانگے لوگوں میں کثرت سے مال بانٹتا ہو۔([11])

حضرت سیِّدُنا طلحہ کی سَخاوَت کی چند جھلکیاں:٭آمدنی آنے پر ہر سال اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں دس ہزار (10،000) دِرہم پیش کرتے ٭اپنے قبیلے بنو تَیم کے کسی فرد کو محتاج دیکھتے تو اس کی ضَرورت پوری کردیتے اور اس کا قَرض ادا کردیتے۔ ایک مرتبہ ایک تَیمی شخص کا 30،000 دِرہم کا قرضہ ادا کیا۔([12]) ٭ایک بار کسی ذِی رَحم رشتہ دار نے تنگدستی کی شکایت کی تو اسے تین سو دِرہم عطا فرمائے ٭ایک دن ایک لاکھ دِرہم تقسیم فرمائے جس کے بعد حالت یہ تھی کہ اس دن آپ کے پاس مناسب لباس نہ تھا جسے پہن کر نَماز کے لئے تشریف لے جاتے۔([13])

اللہ پاک سے دُعا ہے کہ وہ  ہمیں رزقِ حلال کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

_______________________

٭…عبد الرحمٰن عطاری مدنی   

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی   



([1])تاریخ ابن عساکر،ج25،ص54

([2])سیر اعلام النبلاء،ج 3،ص19، معجمِ کبیر،ج 1،ص112، حدیث:197

([3])الاستیعاب،ج 2،ص320

([4])تلبیس ابلیس، ص345

([5])ایک وافی ایک دِرہم اورچار دانِق کے برابر ہوتا ہے اور ایک دانِق دِرہم کے چھٹےحصّے کو کہتے ہیں۔ (آسان الفاظ میں تقریباً 1666  درہم یومیہ آمدنی ہوئی ۔)

([6])سیر اعلام النبلاء،ج 3،ص21

([7])بُصریٰ صوبہ حَوْران کا ایک شہر ہے(جو) دِمَشق اور بَعْلَبَک کے درمیان(ہے) اور بَصْرہ دوسرا شہر ہے جو عراق میں ہے، بعض لوگ اسے (یعنی بُصریٰ کو ) بَصرہ سمجھتے ہیں یہ غلط ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج5،ص502ملقطاً)

([8])مستدرک،ج 4،ص449، حدیث: 5640

([9])معجمِ کبیر،ج1،ص112،حدیث:195

([10])الزھد للامام احمد، ص168، رقم:783

([11])حلیۃ الاولیاء،ج1،ص130،رقم:273

([12])سیراعلام النبلاء،ج 3،ص1

([13])فیض القدیر،ج4،ص357، تحت الحدیث:5274

Share