کیا مرچوں سے نظر اتارنا اِسراف ہے؟

(1)دوسرے ملک میں غیرقانونی طور پر رہنا اور کاروبار کرنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی دوسرے ملک میں غیر قانونی طور پر یعنی چُھپ کر جانا کیسا،نیز کوئی شخص غیرقانونی طریقے سے جاکر وہاں جو کاروبار کر رہا ہے اس  کی کمائی جائز ہے یا نہیں؟سائل:محمد نفیس (سیالکوٹ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

غیر قانونی طور پر دوسرے ملک جانا شرعاً ناجائز و گناہ ہے کیونکہ یہ  اپنے آپ کو ذلت و رسوائی پر پیش کرنا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ہےکہ پکڑے جانے کی صورت میں شدید ذلت و رسوائی اٹھانی پڑتی ہے بلکہ بعض اوقات ایسے لوگوں پر دوسرے ملک کی فوج فائرنگ بھی کردیتی  ہےجس سے مرنے والوں کی اطلاعات اخبارات وغیرہ میں آتی رہتی ہیں،اور شریعتِ مطہرہ نے اس کام سے منع فرمایا ہے جو ہلاکت اور ذلت و رسوائی کا باعث ہو۔

جہاں تک کمائی کا تعلق ہے تو اگر وہ کاروبار  فی نفسہٖ جائز ہے تو اس کی کمائی بھی جائز  اور اگر کاروبارفی نفسہٖ حرام ہے تو اس کی کمائی بھی حرام ہے۔البتہ وہ کمائی  اگرچہ جائز بھی ہو مگر اس میں خیر و برکت کی امید کیسے کی جاسکتی ہے جس کے حصول میں اللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ و صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی کی گئی ہو۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــہ

مفتی محمد ہاشم خان عطاری

 (2)کیا مِرچوں سے نظر اتارنا اِسراف ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نظر اتارنے کےلیے منظور (یعنی جس شخص کو نظر لگی ہو اس)پر مرچیں پھیر کر جلائی جاتی ہیں۔اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ اسراف کے زُمْرے میں آئے گا؟سائل:محمد بلال(لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نظراتارنے کےلیےمنظور(یعنی جس شخص کو نظر لگی ہو اس)پر مِرچیں پھیر کر جلانا جائز ہے، کیونکہ  عوام میں مشہور ٹوٹکے جو خلافِ شرع نہ ہوں،وہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں بھی  درست ہوتے ہیں۔ نیز مرچوں سے نظر اتارنے کا عمل  اِسراف کے زمرے میں نہیں آتا کہ یہ عمل انسان کے فائدے کے لیے کیا جاتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام  اشیاء انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں،لہٰذا قابلِ اِنْتِفاع اشیاء کو انسان کے نفع کے لیے  صَرْف کرنا اِسراف نہیں۔ البتہ یہ  یاد رہے کہ ماثورہ دعاؤں سے نظر کا علاج کرنا افضل ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــہ

مفتی محمد ہاشم خان عطاری

 (3) پروڈکٹس کی تشہیر کے لئے اجارہ کرنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک کمپنی سے یہ مُعاہَدہ کیا کہ میں اس کی جائز پروڈکٹس کی تشہیر (Advertisement)کروں گااور اس کے لئے روزانہ مثلاً دو سو ای میل، دو سو میسیجز اور ایک سو واٹس ایپ کروں گا،اور ایڈز (ADS.)کے مواد کی مقدار بھی طے کر لی، اور یہ کہ میں اس کی اتنی اُجرت لوں گا۔کیا میرا یہ اِجارہ کرنا جائز ہے؟ جبکہ مجھے کمپنی کی پروڈکٹس کی تشہیر کے لئے ایڈ تیار کرنے اور پھر مذکورہ ذرائع سے عام کرنے میں میرا وقت اور کچھ رقم بھی صرف ہوتی ہے۔سائل:محمد شفیق (اقبال ٹاؤن، لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جائز چیزوں کاجائز طور پر ایڈ تیار کرنا اور پھر اسے جائز ذرائع سے عام کرنا ایک قابلِ اِجارہ کام ہے۔ لہٰذا سوال میں مذکور آپ کا اِجارہ شرعاً جائز ہے کہ جس میں کمپنی کی جائز پروڈکٹس کی تشہیر کا ایک طے شدہ کام اور اس کی معلوم اُجرت مقرر (Fix) ہے، جبکہ وہ اُجرتِ مِثْل (یعنی جو عام طور پر ایسے کا م کی اُجرت ہوتی ہے، اس) سے زائد نہ ہو، اور ایڈ کے مواد (Content) وغیرہ کی بھی ایسی مقدار (Quantity)طے کر لی کہ جس میں کسی طرح کا نِزاع نہ ہو۔ جیسا کہ فقہائے کرام نے تحریر و کاغذ وغیرہ کی مقدار طے ہونے کی صورت میں وَثِیقہ نَوَیسی اور مکتوب وغیرہ تحریر کرنے کی اُجرتِ مِثْل جائز قرار دی ہے۔

اِشکال:یہاں یہ بات باعثِ تردد ہے کہ میسیجز کرنے وغیرہ میں بہت کم مشقت ہے کہ یہ کام اسمارٹ فون یا کمپیوٹر کے ذریعے بیٹھے بٹھائے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اتنی کم مشقت پر اجارہ جائز نہیں ہونا چاہیے۔

جواب:اُجرت کا مدار مشقت پر ہی نہیں بلکہ اس عمل کی اہمیت و ضَرورت اور اس میں کی جانے والی کاریگری پر بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں اگرچہ مشقت کم ہو اس پر اجرت کا استحقاق ہے۔ اسی وجہ سے علّامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس میں بقدرِ مشقت اجرت کے بجائے اجرتِ مثل مقرر رکھی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مجیب مصدق

محمد نور المصطفیٰ عطاری  مدنی مفتی محمد ہاشم خان عطاری

 (4)مَردوں کا کڑھائی والے کپڑے پہننا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مَردوں کے لیے قمیص کی سامنے والی پٹی، بین، کف اور کالر پر سادہ دھاگے کی معمولی کڑھائی کروانا اور اسی طرح شلوار کے پائنچے پر کچھ کڑھائی کرواناشرعا ًدرست ہے یانہیں؟سائل:محمدخالدحسن مدنی(ضلع پاکپتن شریف)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مَردوں کے لیے قمیص کی سامنے والی پٹی، بین، کف، کالر اور شلوار کے پائنچے پر سادہ دھاگے سے معمولی کڑھائی کروانا شرعاً درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تو ریشم کے اتنے کام کی بھی اجازت دی ہے کہ کسی مقام پرچارانگل سےزائدنہ ہولیکن سوال کی صراحت کے مطابق یہ کام ریشم کانہیں بلکہ سادہ دھاگے کاہے تواس میں چار انگل کی بھی قیدنہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مجیب مصدق

محمدعرفان مدنی مفتی محمد ہاشم خان عطاری

Share

Articles

Comments


Security Code