سُنار کے ساتھ اِنویسٹمنٹ کی ایک نئے انداز کی صورت/بازار اور شیطان

سُنار کے ساتھ اِنویسٹمنٹ کی ایک نئے انداز کی صورت

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا سونے کا کاروبار ہے تو کچھ لوگ ہمارے پاس اِنویسٹمنٹ (Investment) کرنے آتے ہیں اور اِنویسٹ ا س حساب سے کرتے ہیں کہ مثلاً ہمیں ایک تولہ پرڈھائی ہزار روپے پرافٹ(Profit) ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے دس لاکھ روپے چھ ماہ کے لئے انویسٹ کرلیں، آپ خود سامان لائیں خود ہی بیچیں اور ہر ماہ پچیس سو کے حساب سے ہمیں نفع دے دیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شخص کو مہینے بعد پیسے واپس کر دیئے جائیں اور وہ دوبارہ ہمیں سامان لاکر دے تب اسے پرافٹ دیں؟یا ماہانہ ہم سامان لے آئیں اور ہر مہینے اس کو پرافٹ دیں ؟ اس کا جائز طریقۂ کار کیا ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: جو صورت سوال میں بیان کی گئی ہے یہ تو ناجائز طریقے پر مشتمل ہے لیکن اس کو نیچے بیان کئے گئے اصولوں کی روشنی میں درست کر لیا جائے تو جائز ہو جائے گی۔

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے پیسے نہیں لگے ہیں بلکہ آپ کی صرف محنت ہے اور پیسے دوسرے فریق کے لگے ہیں تو یہ صورت مُضاربت کی ہے کہ ایک کا پیسہ اور دوسرے کا کام، اگرچہ پوری دکان آپ کی ہے لیکن ان دس لاکھ روپے سے جو سونا آپ خریدکر بیچیں گے تو اس چھوٹے سے کام میں مضاربت کے طور پر دو افراد کا الگ سے کام کرنا پایاجائےگا۔

مضاربت کے ویسےتو بہت سارے اصول و ضوابط ہیں لیکن پوچھی گئی صورت کے تَناظُر میں کچھ اہم اصول ملاحظہ فرمائیں۔

پہلا اصول مضاربت کو مہینوں سے مؤقّت کیا جاسکتا ہے کہ چھ مہینے کے لئے ڈیل ہورہی ہے یا سال کے لئے ہورہی ہے اور اس سے پہلے ختم بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی آدمی مل کر کسی کے ساتھ کا م کرتا ہے تو حساب کتاب کرنا ان کے مابین انڈراسٹینڈنگ (Understanding) پرمنحصر ہوتا ہے کہ وہ ہر مہینے حساب کریں یا ہر ہفتے حساب کریں، جوٹائم طے کریں گے اس پر وہ حساب کریں گے۔بعض دفعہ ہر مہینے نفع ہونا ممکن ہوتا ہے بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ نفع ہی نہ ہو۔

دوسرا اصول پوچھی گئی صورت میں دکاندار کا اپنا بھی مستقل کام ہے لہٰذا یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اِنویسٹر (Investor،سرمایہ کار)کے پیسوں سے جو کاروبار ہوگا اس کی بُک الگ بننی چاہئے اور اس کا حساب دکان کے دیگر مال سے بالکل علیحدہ ہونا چاہئے۔بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اِنویسٹر سے رقم تو لے لیتے ہیں لیکن اس سے قرضے ادا کر دیتے ہیں یا اِدھر اُدھر کے کاموں میں لگا دیتے ہیں اور سامنے والے کو خوش کرنے کے لئے جیب سے نفع دے دیتے ہیں۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ انویسٹر کی رقم سےمال تو خرید لیتے ہیں لیکن نفع و نقصان کا حساب نہیں رکھتے اور اندازے سے اس کو ایک فِکْس نفع یا اپنی مرضی سے کم زیادہ کر کے نفع دے دیتے ہیں، یہ دونوں طریقے ناجائز ہیں۔

تیسرا اصول یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر انویسٹر کے ساتھ چھ ماہ کی مدّت مقرر کر کے مضاربت کی تب بھی اسے آگے بڑھا یا جاسکتاہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جب چھ مہینے پورے ہوں اس وقت تک مال دکان میں ہی موجود ہو، فروخت نہ ہوا ہو۔ لہٰذا آخری ڈِیل (Deal) کا جو مال ابھی فروخت نہیں ہوا، اس کے فروخت ہونے کا انتظار کیا جائے گا پھر آپ کلوزِنگ (Closing) کریں گے، مزید جاری رکھنا چاہیں تو جاری رکھیں ختم کرنا چاہیں تو ختم کر دیں۔

چوتھا اصول نفع تَناسُب کے اعتبار سے طے ہوگا کہ اتنے فیصد نفع دکاندار کا اور اتنے فیصد دوسرے کا۔سوال میں جو ذکر کیا گیا کہ ایک تولے پر پچیس سو کا نفع ہوجاتا ہےتو مضاربت میں یہ طے نہیں ہوگا کہ اتنے تولے پر اتنا نفع ملے گا بلکہ مُضارِب یعنی انویسٹ لے کر کام کرنے والے کی ذمہ داری ہے مال لانا اور اس کو بیچنا، اس تجارت پر جو نفع ہوگا اس میں سے جو تناسب دونوں فریق نے مقررکیا ہے اس کے مطابق دونوں اپنا نفع تقسیم کریں گے۔

بہت سارے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ نفع کیا ہوتا ہے اسی بنا پر مضاربت میں بعض اوقات انویسٹر دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ اسے کچھ نہیں مل رہا اور بعض اوقات کام کرنے والے کا شکوہ ہوتا ہے کہ اس کو گھر چلانا ہے اور آمدنی چاہیئے۔

مضاربت شروع ہونے کے بعد جب کام ہوگا، مال خریدا جائے گا، پھر وہ مال بکے گا تو اخراجات کو نکال کر دیکھا جائے گا کہ جتنے کا مال تھا اگر اس سے زیادہ رقم بن رہی ہےتو زائد رقم نفع کہلائے گی ، اگر اخراجات زیادہ ہوئے اور جتنے کا مال خریدا گیا اس کے برابر یا اس سے کم رقم بن رہی ہو تو نفع ہونا نہیں کہلائے گا۔

ایسے کاروبار میں ایک ایک چیز کا حساب رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کو سامنے رکھ کر نفع ہونے یا نہ ہونے کا تعیّن کیا جاسکے۔

پانچواں اصول اگر نقصان ہو تو اس کو نفع کی طرف پھیریں گے یعنی سَرمائے کو نقصان سے بچائیں گے حتّٰی کہ جو کچھ نفع دونوں فریق حاصل کر چکے ہوں،وہ واپس کریں گے تاکہ پہلے نفع سے نقصان پورا ہو۔ اگر نقصان زیادہ ہو کہ نفع سے بھی پورا نہ ہوسکتا ہو توپھر نقصان کو سَرمائے کی طرف پھیرا جائے گا اور اس مَرحَلے پر ظاہر ہے کہ مالی نقصان تنہا انویسٹر کو ہی برداشت کرنا ہوگاجبکہ کام کرنے والے کی محنت رائیگاں جائے گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

”یہ تو قیمتِ خرید بھی نہیں ہے“...یہ جملہ کہنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کاروبار کے دوران چیز بیچتے ہوئے یہ بولنا کیسا ہے کہ یہ میری خرید بھی نہیں حالانکہ اس کی خرید اس سے سَستی ہوتی ہے تو اس طرح چیز بیچنا جائز ہے یا ناجائز؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: یہ عمل جھوٹ پر مشتمل اور ناجائز ہے۔ اس طرح کی گئی تجارت میں اگر دھوکا نہیں پایا گیا مثلاً قیمتِ خرید میں جھوٹ تو بولا لیکن جو اس چیز کا مارکیٹ ریٹ ہے اسی ریٹ پر دیا ہےاور بیعِ مُرابَحَہ[1] بھی نہیں ہے تو خرید و فروخت جائز ہے اور آمدنی بھی حلال ہوگی البتہ جھوٹ بولنے کا قبیح عمل پایا گیا۔لیکن اگر دھوکا بھی پایا گیا جیسےیہ کہا کہ یہ چیز توہزار روپے کی ہے حالانکہ اس کی مارکیٹ ویلیو پانچ سو روپے کی ہو تو یہاں جھوٹ بھی ہے اور دھوکا بھی، اور دھوکے میں حقوقُ العباد کا معاملہ بھی آجائے گا اور آمدنی پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭دارالافتاءاہل سنت نور العرفان ،کھارا در ،باب المدینہ کراچی



[1] جو چیز جس قیمت پر خریدی جاتی ہے اور جو کچھ مصارف اُس کے متعلق کیے جاتے ہیں ان کو ظاہر کرکے اس پر نفع کی ایک مقدار بڑھا کر کبھی فروخت کرتے ہیں اس کو مرابحہ کہتے ہیں۔ (بہارشریعت،739/2)

Share

سُنار کے ساتھ اِنویسٹمنٹ کی ایک نئے انداز کی صورت/بازار اور شیطان

اگرچہ بازاروں میں رِزْق کی تلاش میں جانا بُزُرْگانِ دین کی عادتِ مُبارَکہ رہی ہے،مگر اکثر تاجر بازاروں میں غَلَط بیانی سے کام لیتے ہیں بلکہ جھوٹی قسمیں تک کھا لیا کرتے ہیں نیز دھوکا دہی، خِیانت، ملاوٹ وغیرہ نہ جانے طرح طرح کے غلط کام بازاروں میں عام ہیں، تاجروں کی اِنہی بدعنوانیوں کی وجہ سے احادیث میں بازار کو زمین کا بدترین ٹکڑا فرمایا گیا اور بے ضرورت بازار میں جانے کو بُرا بتایا گیا۔ بازار میں شیطان کی اطاعت و فرمانبرداری علّامہ نجمُ الدِّین محمد بن محمد غَزِّی شافِعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک نے بازار کو اِبلیس کی مسجد بنایا ہے جس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس میں شیطان کے لئے ایسے ہی سجدہ کیا جاتا ہے جیسے مخلص لوگ مساجد میں اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہاں (شیطان کے لئے) سجدے سے مراد پورے طور پر اطاعت و فرمانبرداری ہے کیونکہ بازار میں جھوٹ بول کر، جھوٹی قسمیں کھا کر، دھوکا اور چکمہ دے کر شیطان کی اطاعت کی جاتی ہے، اسی وجہ سے شیطان زیادہ تَر بازاروں میں ٹھہرا رہتا ہے جیسا کہ فرشتے اکثر مساجد میں قیام کرتے ہیں تَو جو مسجد سے چمٹا رہے اس کے ہم نشین فرشتے ہوتے ہیں اور جو بازار کے ساتھ جُڑا رہا یقیناً اس نے شیاطین کی صحبت اختیار کی۔ اگر چاہیں تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں: جو مسجد میں عبادت کے لئے داخل ہوا بلاشبہ اس نے اللہ پاک کی زیارت کی اور اس کا قُرب پایا اور جو بازار میں بے ضرورت داخل ہوا بے شک اس نے شیطان کی زیارت کی اور اس کا پڑوسی بنا۔ انسان کی خطا پر شیطان کی خوشی علّامہ نجمُ الدِّین مزید لکھتے ہیں: جس طرح شیطان بازار میں موجود ہوتا ہے اسی طرح ہر اس جگہ میں ہوتا ہے جہاں خرید و فروخت کا معاملہ ہوتا ہے اس امید پر کہ فریقین کو ورغلانے (دھوکا دینے) سے ان کے درمیان باطل (غیر شرعی) طریقے پر خرید و فروخت ہوجائے یا جھوٹ اور دھوکا دہی کا سلسلہ ہوجائے اور یوں اسے خوشی و مَسَرَّت حاصل ہو کیونکہ شیطان انسان کی خطا پر خوش ہوتا ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے: اے تاجروں کے گروہ! شیطان اور گناہ خرید و فروخت کے وقت موجود ہوتے ہیں لہٰذا اپنی خرید و فروخت کو صدقے کے ساتھ ملا دیا کرو (یعنی بعد میں صدقہ دے دیا کرو)۔ (ترمذی،ج 3،ص4، حدیث: 1212) اور اسی وجہ سے مسجد میں خرید و فروخت کی مُمانَعَت آئی ہے۔ (حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ،ج 6،ص96تا98) (مذکورہ حدیث شریف کا) مقصد یہ ہے کہ تجارت میں کتنی ہی احتیاط کی جائے مگر پھر بھی کچھ فضول بات، کچھ جھوٹ یا جھوٹی قسم منہ سے نکل ہی جاتی ہے اس لئے صدقہ و خیرات ضرور کرتے رہئے کہ صدقے سے غضبِ الٰہی کی آگ بجھ جاتی ہے۔ عمومًا تاجر لوگ فُقَراء کو پیسے دیتے رہتے ہیں خصوصًا جمعرات کو، اس عمل کا ماخذ یہی حدیث ہے (اور) ویسے بھی صدقہ اعلیٰ عبادت ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح،ج 4،ص245 ملخصاً) اس کا یہ مطلب نہیں کہ جھوٹی قسمیں کھاتے رہو، جھوٹ بولتے رہو، دھوکا دیتے رہو اور صدقہ کرلیا کرو کہ گناہ معاف ہوتے رہیں گے کیونکہ گناہ کرنے کی اجازت کسی صورت میں بھی نہیں ہے۔ شیطان بازار میں کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ منقول ہے کہ شیطان اپنے چیلے زَلَنْبُور سے کہتا ہے کہ تم اپنے لشکروں کو لے کر بازار والوں کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے جھوٹ، جھوٹی قسم، مکر و فریب اور خِیانت کو بنا سنوار کر پیش کرو اور اس شخص کے ساتھ رہو جو سب سے پہلے بازار میں داخل ہوتا اور سب سے آخر میں نکلتا ہے۔(حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ،ج6،ص102) اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ضرورت کے تحت اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ بازار جانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share