حضور جانتے ہیں!(قسط:03)

علمِ غیب کی تعریف اور حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ کریم کی بارگاہ سے علمِ غیب عطا ہونے کا بیان قراٰنِ پاک کی آیات کی روشنی میں گزشتہ شمارے([1]) میں گزرا،آئیے! اب پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں پڑھئے اور اپنے دل ودماغ کو روشن و منوّر کیجئےچنانچہ

علمِ غیب کے چھ حروف کی نسبت سے چھ فرامینِ مصطفےٰ

(1)امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظمرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے درمیان کھڑے تھے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتّٰی کہ جنّتی اپنی مَنازِل پر جنّت میں داخل ہوگئے اورجہنمی جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔ (بخاری،ج2،ص375،حدیث:3192)حکیمُ الامّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:حضورِ اَنور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا یہ وعظ فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک تھا۔ درمیان میں سِوا ظہر و عصر کی نماز کے اور کسی کام کے لئے وعظ شریف بند نہ فرمایا۔ دن بھر میں ابتداسے انتہا تک بیان فرمادینا بھی حضورِ انور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا معجزہ ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السَّلام گھوڑے پر زِین کَستے کَستے پوری زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔ بعض روایات میں ہے کہ اس وعظ شریف میں پرندہ کا پر مارنا، قطرہ کا حرکت کرنا، ذرّہ کا جنبش فرمانا تک بیان فرمادیا، گزشتہ ماضی کے سارے حالات اور آئندہ مستقبل کا ایک ایک حال بیان کردیا۔ یہ ہے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کا علمِ غیب کلّی کی بڑی قوی دلیل اور یہ حدیث اِن آیات کی تفسیر ہے: ( وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-)یا رب کا فرمان: ( وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ) مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:اللّٰه تعالیٰ نے سارے غیب حضور صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کو بتائے حضور کو یاد بھی رہے، فرماتے ہیں:وَ تَجَلّٰى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ پھر حضورِ انور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے یہ سب کچھ صحابہ کو بتایا مگر ان میں سے کسی کو سارا یاد نہ رہا۔ یہ فرق ہے اُس تعلیم میں اور اِس تعلیم میں بعض کو زیادہ یاد رہا،بعض کو کم،بعض کو کچھ یاد نہ رہا۔غرضکہ رب نے اپنے محبوب کو سب کچھ سکھایا،حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے صحابہ کو سب کچھ وعظ میں بتایا جیسے حضرت آدم (علیہ السَّلام) کو رب نے سارے نام سکھائے( وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا )اور حضرت آدم علیہ السَّلام نے فرشتوں کو وہ سب نام سکھائے نہیں بلکہ بتائے(فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ )یہ فرق خیال میں رہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص563) (2)حضرت سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:میں نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی، فَتَجَلّٰى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ یعنی اُسی وقت مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔ (ترمذی،ج5،ص160،حدیث:3246) ترمذی شریف اور دیگر کتبِ احادیث میں موجود الفاظ فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ (یعنی زمین و آسمانوں میں جو کچھ تھا وہ میں نے جان لیا) کے تحت محقّق علی الاطلاق، شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کِنَایَۃٌ عَنْ حُصُولِ جَمِیْعِ الْعُلُوم یعنی یہ تمام عُلُوم کے حُصُول سے کنایہ ہے۔(لمعات التنقیح،ج2،ص478) پیارے اسلامی بھائیو! ان احادیثِ مبارکہ میں موجود الفاظ ”فَتَجَلّٰى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَ عَرَفْتُ“ اورفَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ“ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کلّی علمِ غیب کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

کلّی علمِ غیب کا مطلب اللّٰه پاک نے ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کلّی علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔ شیطان کہیں وسوسہ نہ ڈالے کہ اس کا تو مطلب ہے کہ اللّٰه کریم کا سارے کا سارا علم نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی حاصل ہے۔ اس شیطانی وسوسے کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمام معلوماتِ الٰہیہ کا احاطہ کرلیا ہے کیونکہ یہ تو مخلوق کے لئے محال ہے۔(الدولۃ المکیہ،ص64) غزالیِ زماں حضرت علّامہ سیّد احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اسی بات کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:یاد رکھئے! جب آپ ہمارے کلام میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ اَقْدَس کے متعلق لفظ ’’کُل‘‘ دیکھیں تو اس سے کُل غیر متناہی (Unlimited) نہ سمجھیں بلکہ کُل مخلوقات (جو متناہی (Limited) ہے([2]) اور اس کے علاوہ معرفتِ ذات و صفات کا علم کہ وہ بھی بالفعل متناہی (Limited) ہے ہماری مراد ہوگا، ورنہ علمِ الٰہی کی بہ نسبت حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کے علم کو کُل نہیں کہتے کیونکہ علمِ الٰہی مُحِیْطُ الْکُل اور غیر متناہی (Unlimited)ہے۔(مقالاتِ کاظمی،،ج2،ص117) (3)حضرت سیّدنا عَمرو بن اَخْطَب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ایک دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نمازِ فجر سے غروبِِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا، درمیان میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کوئی کام نہ کیا۔ حضرت عَمرو بن اَخْطَب فرماتے ہیں: فَاَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ یعنی جو کچھ ہو چکا تھا اور قیامت تک جو کچھ ہونا تھا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ سب کچھ بیان فرمادیا۔ ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے

جسے زیادہ یاد رہا۔(مسلم،ص1184،حدیث:7267) (4)حضرت سیِّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صلح حدیبیہ سے واپسی پر ایک جگہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے اونٹ مُنتَشِر ہوگئے، سب اپنے اپنے اونٹ واپس لے آئے لیکن نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اونٹنی نہ ملی، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا: وہاں سے اونٹنی لے آؤ، تو میں نے اونٹنی کو اسی حال میں پکڑ لیا جیسا مجھ سے رسولُ اللّٰه صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تھا۔(معجمِ کبیر،ج10،ص225،حدیث: 10548مختصراً) (5)حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:غزوۂ بدر کے موقع پر نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فر مایا:یہ فلاں کافر کے مر نے کی جگہ ہے (یہ کہتے جاتے تھے) اور اپنے ہاتھ کو زمین پر اِدھر اُدھر رکھتے تھے، پھر کوئی کافر حضور کی بتائی ہو ئی جگہ سے ذرّہ برابر بھی اِدھر اُدھر نہیں مرا۔ (مسلم،ص759،حدیث:4621) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور کو یہ بھی معلوم تھا کہ کون کب اور کہاں مَرے گا۔ (6)حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اَشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ایسے سوالات کئے گئے جو ناپسند تھے، جب زیادہ کئے گئے تو آپ ناراض ہو گئے، پھر لوگوں سے فرمایا: سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ یعنی مجھ سے جو چاہو پوچھ لو۔ ایک شخص عرض گزار ہوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ مَنْ اَبِی یعنی یارسول اللہ میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: اَبُوكَ حُذَافَةُ یعنی تمہارا باپ حُذافہ ہے۔پھر دوسرے آدمی نے کھڑے ہوکر عرض کی: یارسولَ اللّٰه! میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: سالم مولیٰ شَیبہ تمہارا والد ہے۔ جب حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرۂ انور کی حالت دیکھی تو عرض کی: یا رسولَ اللّٰه! ہم اللّٰه پاک کی طرف توبہ کرتے ہیں۔(بخاری،ج 1،ص51،حدیث:92)

علما و اولیا اور محدثین ِ کرام رحمہم اللہ السَّلام کے اقوال کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن مجلس المدینۃ العلمیہ،باب المدینہ کراچی



[1] ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ جُمادی الاُخریٰ 1440ھ

[2] غیرمتناہی:نہ ختم ہونے والا۔ متناہی:ختم ہونے والا

Share

Articles

Comments


Security Code