نبیرۂ برہانِ ملّت کے وصال پر تعزیت

نبیرۂ برہانِ ملّت کے وصال پر تعزیت

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے نعیم احمد صدیقی قادری، عظیم احمد صدّیقی قادری، شمیم احمد صدّیقی قادری، قیِّم احمد صدیقی قادری اور احمد رضا قادری کی خدمات میں!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

رکنِ شوریٰ حاجی امین عطّاری نے یہ خبر دی ہے کہ آپ کے والدِ محترم، نبیرۂ برہانِ ملّت عبدُالکلیم احمد صدّیقی قادری 27 ربیعُ الاوّل 1440ھ بعمر 79سال بابُ المدینہ کراچی میں وصال فرما گئے۔ (اس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعا فرمائی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے مدنی پھول ارشاد فرمایا:) فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس نے اللہ پاک کی رضا کے لئے مسجد بنائی اللہ پاک اس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔(بخاری،ج1،ص171،حدیث:450) میں مرحوم کے بھائیوں جناب نسیم احمد صدّیقی اور فہیم احمد صدّیقی سمیت تمام سوگواروں سے تعزیت کرتا ہوں۔ مرحوم کے ایصالِ ثواب کیلئے مدنی التجا ہے کہ اپنے پلّے سے مسجد بنام ”فیضانِ غوثِ اعظم“ تعمیر کرنے کی نیّت فرمالیجئے آپ کو بھی ثواب ملے گا اور اِنْ شَآءَ اللہ مرحوم کا بھی بیڑا پار ہوگا۔ بے حساب مغفرت کی دعا کا ملتجی ہوں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

حضرت شیخ گُل صاحب کے وصال پر تعزیت

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور سابق سینیٹر پیر حافظ

عبدالمالک قادری کی خدمت میں!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

سوشل میڈیا کے ذریعے خبر ملی کہ آپ جناب کے والدِ محترم پیرِ طریقت، حضرت شیخ گل قادری صاحب([1])دنیا سے پردہ فرما گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔(اس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعا فرمائی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے مدنی پھول ارشاد فرمایا:) امام نجمُ الدّین غزّی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ ابنِ عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: حضرت سیّدُنا خضر علیہ السَّلام نے حضرت سیّدُنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ علیہ السَّلام سے جدا ہوتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے موسیٰ! عمل کرنے کے لئے علم حاصل کرو فقط بیان کرنے کے لئے حاصل نہ کرو۔

(حسن التنبہ،ج2،ص542، تاریخِ ابنِ عساکر،ج 16،ص416)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

تعزیت و عیادت کے پیغام چند علمائے کرام کے نام شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے استاذُ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الخالق سکندری قادری المعروف بابا سائیں([2]) (شیخُ الحدیث و صدر مدرس جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ بابُ الاسلام سندھ) کے وصال پر ان کے صاحبزادگان استاذُ العلماء مفتی صاحب داد سکندری قادری صاحب، مولانا عبد الصمد سکندری قادری صاحب، محمد حسین سکندری قادری صاحب، محمد علی سکندری قادری صاحب، تقدس سکندری قادری صاحب اور کریم بخش سکندری قادری صاحب سے ٭شیخُ الحدیث و التفسیر حضرت علّامہ مولانا مفتی فضلِ رسول سیالوی صاحب([3]) (گلزارِ طیبہ سرگودھا) کے انتقال پر ان کے صاحبزادے پروفیسر ابرار صاحب سے ٭شیخُ الحدیث مفتی معین الدّین قادری صاحب([4]) (مہتمم جامعہ نقشبندیہ مجددیہ جماعتیہ رضویہ ڈسکہ ضلع ضیاء کوٹ سیالکوٹ) اور مفتی صاحب کی اہلیہ کے انتقال پر ان کے صاحبزادوں مولانا ضیاء الحق نقشبندی صاحب، حافظ فضلِ عثمان رضا نقشبندی صاحب، مولانا فضلِ حق رضا سلطانی صاحب اور حافظ عاصم رضا سلطانی صاحب سے ٭پیر سیّد اصغر شاہ صاحب (لکی مروت) کے انتقال پر ان کے صاحبزادگان سیّد محمد مدثر علی شاہ صاحب، سیّد ثوبان علی شاہ صاحب اور سیّد محمد احمد علی شاہ صاحب سے ٭پیرِ طریقت سیّد نظامُ الحسن نقشبندی کے انتقال پر ان کے صاحبزادے سیّد محمد علی سے تعزیت کی جبکہ حضرت علّامہ عبدالحق رضوی صاحب (مدرس الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، ہند) کے بیمار ہونے کی خبر ملنے پر ان سے عیادت فرمائی۔ اسی طرح مولانا انعامُ المصطفیٰ اعظمی صاحب (دارُالعلوم نوریہ رضویہ، بابُ المدینہ کراچی) کی والدۂ ماجدہ کے لئے دعائے صحّت فرماتے ہوئے صبر و ہمّت سے کام لینے کی ترغیب دلائی۔ مولانا انعامُ المصطفیٰ اعظمی صاحب نے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جانب سے دعائیہ پیغام ملنے پر جوابی پیغام میں آپ کا شکریہ ادا کیا۔

تعزیت و عیادت کے مختلف پیغامات شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ٭دارُالافتاء اہلِ سنّت (دعوتِ اسلامی) کے حافظ محمد شفیق عطّاری مَدَنی (بابُ المدینہ کراچی) سے ان کے ماموں ٭مدنی چینل کے مُبلّغ و نعت خوان حافظ اشفاق عطّاری مَدَنی سے ان کے بچّوں کے نانا حاجی مناف عطّاری (بابُ المدینہ کراچی) ٭محمد اسماعیل بدایونی سے ان کی والدہ (بابُ المدینہ کراچی) ٭احمد جمیل مَدَنی، حافظ رشید احمد اور محمد جمیل سعیدی سے ان کی والدہ (قادرپور) ٭محمد وسیم مَدَنی اور محمد ندیم عطّاری سے ان کے والد عبدالقادر (کوٹ سمابہ ضلع رحیم یار خان) ٭جامعۃُ المدینہ آن لائن کے مُدرّس محمد عثمان عطّاری مَدَنی سے ان کے والد محمد خالد (نواب شاہ، بابُ الاسلام سندھ)٭الحاج سیّد عبدالحمید عطّاری سے ان کے پوتے سیّد محبّ علی قادری (بابُ المدینہ کراچی) ٭محمد اختر، محمد اجمل اور اصغر سے ان کی والدہ (رحیم یار خان) ٭حافظ بشیر عطّاری (ٹنڈو الٰہ یار، بابُ الاسلام سندھ) سے ان کی والدہ ٭حاجی نظام علی خلجی (راجستھان، ہند) سے ان کے بیٹے رستم

(1) (2) (3) (4)

عطّاری ٭شوکت عطّاری (بابُ المدینہ کراچی) سے ان کے بیٹے سلمان عطّاری ٭نظام الدّین قریشی سے ان کے بیٹے عثمان عطّاری (ٹنڈوالٰہ یار، بابُ الاسلام سندھ) ٭سعید عطّاری و برادران سے ان کے والد حاجی غلام سرور ٭حاجی محمد اسلم، محمد فاروق اور محمد زبیر سے ان کے والد غلام نبی (بابُ المدینہ کراچی) ٭محمد شاکر عطّاری اور نادر عطّاری سے ان کے والد محمد شبیر عطّاری ٭نگرانِ شریفی کابینہ محمد امجد عطّاری و برادران سے ان کے والد منیر مغل عطّاری (وزیرآباد) ٭محمد کلیم عطّاری و برادران سے ان کی ہمشیرہ (ملیر، بابُ المدینہ کراچی) ٭محمد رفیق سے ان کے بچّوں کی امّی (ضیاءکوٹ سیالکوٹ) ٭محمد ارشد عطّاری و برادران سے ان کی والدہ (مرکزالاولیاء لاہور) ٭مولانا قاری مشتاق چشتی صاحب (مہتمم جامعہ گلستانِ مہرِ علی شاہ) سے ان کی والدۂ ماجدہ (گجرات پنجاب پاکستان) ٭عبدالرّحمٰن سے ان کے والد عبدالرشید ٭محمد رمضان سے ان کی بیٹی (بابُ المدینہ کراچی) ٭زاہد حسین عطّاری سے ان کے بھائی یونس عطّاری (ہالہ، بابُ الاسلام سندھ) ٭نفیس عطّاری سے ان کے والد محمد طاہر عطّاری اور ٭عبدالرؤوف ہمدانی سہروردی اور فرحان سہروردی سے ان کے والد عبدالغفار سہروردی (زم زم نگر حیدرآباد) کے انتقال پر لواحقین سے تعزیت کی اور مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے مدنی پھول ارشاد فرماتے ہوئے دعائے مغفرت کی جبکہ ٭قاری محمد بشیر قادری صاحب اور ٭حاجی الطاف عطّاری کی عیادت فرمائی۔

مفتی قاسم صاحب کے والدصاحب کے انتقال پر تعزیت

شىخُ الحدىث والتفسىر مفتى ابوصالح محمد قاسم عطّاری کے والدِ محترم الحاج صوفى محمد عبدُاللہ مُرتضائی عطّاری 22جُمادَی الاُولیٰ 1440ھ بمطابق29جنوری2019ء کو تقریباً 75سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے صَوتی پیغام کے ذریعے تعزیت کرتے ہوئے کہا: سگِ مدىنہ محمد الىاس عطّاؔر قادرى رضوى عُفِیَ عَنْہُکى جانب سے شىخُ الحدىث والتفسىر مفتىِ اہلِ سنّت الحاج مفتى ابوصالح محمد قاسم قادری، محمد محسن مدنى، احمد رضا مدنى کى خدمتوں مىں: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

آپ کے والدِ محترم حضرت قبلہ الحاج صوفى محمد عبدُاللہ مُرتضائى کے انتقالِ پُرملال کى خبر ملى، اِنَّالِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔ (اس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دُعائے مغفرت کی اور ایصالِ ثواب کیلئے ایک مدنی پھول ارشاد فرمایا:) فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جسے موت کى ىاد خوف زدہ کرتى ہے، قبر اس کے لئے جنّت کاباغ بَن جائے گى۔(فردوس الاخبار،ج 1،ص357، حدیث:1441) ىقىناً وہ شخص انتہائى خوش نصىب ہے جو لمبى امىد سے بچتا ہو، جسے موت کى ىاد خوف زدہ کئے رہتى ہو، جو بُرے خاتمہ کے

ڈر، قبر کے اندھىرے اور اس کى گھبراہٹ سے سہما سہما رہتا ہو۔آہ!

اندھىرى قبر کا دل سے نہىں نکلتا ڈر کروں گا کىا جو تُو ناراض ہوگىا ىارب

اللہ کرىم ہمىشہ کے لئے ہم سب سے راضى ہو، آپ سب کو ىہ صدمۂ جاں کاہ برداشت کرنے کی ہمّت و حوصلہ عطا فرمائے، مىں تما م سوگواروں سے تعزىت کرتا ہوں، ہمّت رکھئے گا، صبر کىجئے گا۔ زہے نصىب! ابّو کے اىصالِ ثواب کے لئے ممکن ہو تو مل جُل کر مسجد کى ترکىب کرلى جائے آپ کے لئے بھی صدقۂ جارىہ ہوگا، اِنْ شَآءَ اللہ ابّو کا بھی بىڑا پار ہوگا۔ اگر ہوسکے تو تىنوں بھائی اپنی اپنی جىبوں سے گىارہ گىارہ (11،11) سو روپے کے مدنى رسائل اور ایک ایک سیٹ صِراطُ الجِنان کاابّو کے اىصالِ ثواب کے لئے مکتبۃُ المدىنہ سے لے کر تقسىم فرما لىں۔ ظاہر ہے ابّو نے خون پسىنے کى کمائى سے آپ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کىا اور پھر والدین کے اتنے احسانات ہىں کہ بندہ اس سے سَبُک دوش ہو ہى نہىں سکتا، یہ سب مدنی پھول میرے مشورے ہیں۔

اللہ پاک آپ سب کو شاد و آباد رکھے، آپ کے فىضانِ علومِ دىنىہ سے اُمت مالا مال ہو، آپ سب کا ساىۂ عاطفت اہلِ سنّت پر دراز ہو، اللہ کرىم آپ سب پر اور آپ سب کے سارے گھرانے پر خوب فضل و کرم فرمائے، آپ کے والد صاحب بڑے مبارَک شخص تھے کہ جنہوں نے اپنے بىٹوں کو علمِ دىن کے زىور سے آراستہ کىا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔

بے حساب مغفرت کى دعا کا ملتجى ہوں، سارے سوگواروں کو ہوسکے تو مىرا سلام! اور سب کى خدمتوں مىں مىرا تعزىتى پىغام!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

علما و شخصیات کی جانب سے تعزیت مرحوم کے انتقال کی خبر ملنے پر دارُ الافتاء اہلِ سنّت (دعوتِ اسلامی) کے مفتیانِ کرام، مدنی علما،جامعۃ المدینہ کے اساتذہ، اراکینِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری، حاجی امین عطاری اور حاجی ابوماجدمحمد شاہد عطّاری مدنی،حاجی برکت علی عطاری، حاجی عقیل رضا عطّاری مدنی اور دعوتِ اسلامی کے کئی شعبہ جات کے ذمّہ داران نے بابُ المدینہ کراچی میں مفتی قاسم صاحب کی رہائش گاہ پر جاکر تعزیت کی اور مرحوم کو ایصالِ ثواب بھی کیا۔ نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری یونان کے سفر پر تھے، انہوں نے تحریری پیغام کے ذریعے تعزیت کی جبکہ نگرانِ پاکستان انتظامی کابینہ حاجی شاہد عطاری نے سردارآباد( فیصل آباد )میں مفتی صاحب کے گھر پر تعزیت کی نیز مرحوم کی قبر پر دعا کے لئے تشریف لے گئے جبکہ مفتی محمدعباس رضوی (یواے ای)مولانا عبدالرحمٰن شریف ازھری شافعی قادری (سری لنکا)، مفتی محمدرمضان سیالوی(خطیب داتا دربار، مرکزالاولیاء لاہور)، مولانا شمسُ الہدیٰ مصباحی (الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، ہند)، محمد بشیر فاروق قادری (سیلانی ویلفیئر،باب المدینہ کراچی)،رکنِ شوریٰ حاجی سید محمد لقمان عطاری، رکنِ شوریٰ حاجی رفیع العطاری اور دیگر کئی شخصیات نے صَوتی پیغامات اور فون کے ذریعے تعزیت کی۔نمازِ جنازہ و تدفین نمازِ جنازہ سردارآباد( فیصل آباد،پنجاب، پاکستان) میں ادا کی گئی، مرحوم کی وصیت تھی کہ میری نمازِ جنازہ ساداتِ کرام میں سے کوئی پڑھائے لہٰذا مولانا سیّد محمد ناظم لطیف ہاشمی عطاری مدنی نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جس میں دارالافتاء اہلِ سنّت (مرکز الاولیاء لاہور) کے مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدنی سمیت دیگر مفتیانِ کرام و علمائے کرام، رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری اور کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ تدفین کے بعد مفتی قاسم صاحب نے تلقین کی اور قبر پر اذان دی۔ ایصالِ ثواب مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ سمیت کئی مقامات پر قراٰن خوانی ہوئی۔ سوئم کے موقع پر مبلغِ دعوتِ اسلامی نے سنّتوں بھرا بیان کیاجومدنی چینل پربراہِ راست (Live)نشر بھی کیا گیا۔ ایمان افروز موت مرحوم کا معمول تھا کہ روزانہ رات 12 بجے اٹھ کر با وضو مصلے پر دوزانو بیٹھ کر حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود پاک پڑھا کرتے تھے،29 جنوری 2019، پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی اپنے معمول کے مطابق اٹھے اور جائے نماز پر دورد پاک پڑھنے بیٹھے، اس شب معمول سے کچھ زیادہ دیر تک درودِ پاک میں مصروف رہے اور تہجد کے وقت جائے نماز پر ہی آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔مفتی قاسم صاحب کی اپنے والد صاحب کے بارے میں تحریروالدِ محترم مولانا مہر محمد خان ہمدم رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے طالب، دعوتِ اسلامی کے مبلغ ، علماء و مشائخِ اہلِ سنت سے بہت محبت کرنے والے، امیرِ اہلِ سنّت سے بےپناہ محبت، دعوتِ اسلامی اوڑھنا بچھونا، اسلام کے شیدائی، انتہائی متصلب سنی،سنی علماء کے فتاویٰ کے مطابق عمل کا جذبہ رکھنے والے، تہجد گزار، شب بیدار، کثرت سے ذکر ِ الٰہی کرنے والے، عبادت کے شوقین، نیکیوں کے حریص، مطالعہ کے عادی اور اب مدنی چینل دیکھنے میں اکثر وقت گزارتے تھے۔



[1] ۔۔۔16ربیع الآخر 1440ھ/25دسمبر 2018ء منگل

[2] ۔۔۔11ربیع الآخر 1440ھ/ 20دسمبر 2018ء جمعرات

[3] ۔۔۔19ربیع الآخر1440ھ/28 دسمبر 2018ء جمعہ

[4] ۔۔۔16ربیع الآخر1440ھ/25دسمبر2018ءمنگل۔

Share

Articles

Comments


Security Code