اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

رجبُ المرَجّب اسلامی سال کا ساتواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وصال یا عرس ہے، ان میں سے 39 کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رجب المرجب1438ھ اور1439ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا، مزید 15 کا تعارُف ملاحَظہ فرمائیے: صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)حضرت سیّدُنا عبداللہ ذُوالْبِجَادَيْن مُزَنی رضی اللہ عنہ یتیم تھے، چچانے پرورش کی، اسلام قبول کیا تو چچا نے ناراض ہوکر سب کچھ چھین لیا، بدن پر صرف دو چادریں تھیں اسی وجہ سے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ذُوالْبِجَادَيْن (دو چادروں والے) کا لقب عطا فرمایا، تلاوتِ قراٰن سے شغف رکھتے تھے، رجب 9ھ کو غزوۂ تبوک میں بخار کی وجہ سے فوت ہوئے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قبر میں اُتارا اور ان کے لئے قابلِ رشک دُعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ اِنِّي قَد اَمسَيْتُ عَنْه رَاضِياً فَارْضَ عَنْهُ یعنی اے اللہ! میں اس سے راضی ہو چکا ہوں، پس تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ (مسندِ بزار،ج5،ص122،حدیث:1706، المنتظم،ج 3،ص377، سیرتِ ابنِ ہشام، ص519) (2)حضرت سیّدُنا ابوعبدالرّحمٰن حارث بن ہِشَام مخزومی رضی اللہ عنہ فتحِ مکّہ کے دن ایمان لائے۔ آپ معزز، مکرم، شریف، بہادر، نِڈر، مجاہد، شہید اور صحابی ہیں۔ آپ کا شمار قبلِ اسلام اور بعدِ اسلام معززینِ مکّہ میں ہوتا ہے۔ آپ کی شہادت جنگِ یرموک میں رجب 15ہجری کو ہوئی۔ (اسد الغابۃ،ج1،ص514،515) اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام (3)طاؤسُ الفقراء حضرت سیّدُنا خواجہ ابونصر عبداللہ سراج طُوسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت طُوس (صوبہ خُراسان) ایران میں ہوئی اور یہیں رجب 378 ھ میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، زاہدِ زمانہ، شیخِ طریقت اور مصنّفِ کُتُب ہیں۔ علمِ تصوف کی پہلی کتاب ”اللمع“ آپ ہی کی تصنیف ہے۔(تاریخ الاسلام للذہبی،ج 8،ص452) (4)شمسُ الصوفیاء حضرت خواجہ سیّد قطبُ الدّین مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 430ھ کو ضلع چشت (صوبہ ہرات) افغانستان میں ہوئی اوریہیں یکم رجب 537 ھ کو وصال فرمایا۔ مزار دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم المرتبت شیخ، علم و تقویٰ کے جامع، قطبِ وقت، صاحبِ تصنیف اور اکابراولیا سے ہیں۔ منہاجُ العارفین آپ کی کتاب ہے۔(المصطفیٰ و المرتضیٰ، ص248، تحفۃ الابرار مترجم، ص57) (5)سلطانُ الفقراء سیّد نورُ الدّین نعمت اللہ ولی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 731ھ حلب شام میں ہوئی اور 22رجب 834 ھ کو ماہان (صوبہ کرمان) مشرقی ایران میں وصال فرمایا،یہاں عالیشان مزار ہے۔ ”قصیدہ شاہ نعمت اللہ“ حیرت انگیز انکشافات کا مجموعہ ہے۔(اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج 22،ص415) (6)مرشد شاہ ابوالمعالی حضرت سیّد محمد ابراہیم داؤد بندگی کرمانی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 919ھ سیت پور (تحصیل علی پور، ضلع مظفرگڑھ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ ولیِ کامل،متوکل، فیاض، صاحبِ مجاہدہ و کشف و کرامات اور گوشہ نشین جلیلُ القدر قادری بزرگ تھے۔ سینکڑوں غیر مسلموں کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ 27رجب 982ھ کو وصال فرمایا،مزار مبارک شیرگڑھ (نزد چونیاں) ضلع اوکاڑہ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے۔(مقاماتِ داؤدی، ص5 تا 11، وفیات الاخیار، ص38) (7)قطبِ زمانہ حضرت شیخ نظام الدّین فاروقی تھانیسری بلخی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت نویں صدی ہجری میں تھانیسر (دہلی) ہند میں ہوئی اور 28 رجب 1035یا 1036 ہجری کو بلخ (صوبہ بلخ) افغانستان میں وصال فرمایا۔ آپ شیخِ طریقت، ولیِ کامل اور صاحبِ تصنیف و کرامات تھے۔ (اقتباس الانوار، ص698) (8)شیخ المشائخ حضرت مخدوم محمد منعم پاک باز قادری ابوالعلائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت پچنا (نزد شیخ پور ضلع مونگیر صوبہ بہار) ہند میں ہوئی اور 11 رجب 1185ھ کو وصال فرمایا، مزار میتن گھاٹ پٹنہ (صوبہ بہار) ہند میں ہے۔ آپ عظیم شیخِ طریقت ہیں پاک و ہند، بنگلا دیش، برما اور سری لنکا میں آپ کے سلسلے کی خانقاہوں کی تعداد 200 ہے۔ (تذکرۃ الصالحین، ص 52 تا 54) (9)قطبِ زمانہ، حضرت سیّد احمد بن ادریس فاسی عرائشی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بارھویں صدی ہجری میں میسورا (مضافات فاس) المغرب (مراکش) میں ہوئی اور 21رجب 1253ھ کو شمالی یمن کے قریب شہر صبیا (صوبہ جازان) عرب شریف میں وصال فرمایا۔ آپ امام العلماء و الاولیاء، صاحب العلم و التدریس، بانیِ سلسلہ ادریسیہ احمدیہ اور اکابر اولیاء اللہ میں سے ہیں۔(العقد النفیس، ص3تا7، جامع کراماتِ اولیا،ج2،ص447) علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (01)امام الفقہاء حضرت سیّدُنا امام ابو الحسین احمد قُدُورِی بغدادی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 362ھ کو بغداد عراق میں ہوئی اور5 رجب 428ھ کو بغداد میں وصال فرمایا، مزار شارعِ منصور بغدادعراق میں ہے۔ آپ جید عالم، زاہدِ زمانہ، مجتہدِمقید (صاحبِ تخریج و ترجیح) اور محدثِ وقت تھے۔ تصانیف میں کتاب تجرید(7 جلدیں) اور مختصر القدوری مشہور ہیں۔ (حدائق الحنفیہ، ص216، الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ، ص40) (11)فخرُالاسلام امام ابوالحسن علی بَزدَوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت400ھ کو بزدوہ (نزد نخشب/قرشی) ازبکستان میں ہوئی۔ 5رجب482ھ کوکش (نزد نخشب/قرشی) میں وصال فرمایا۔ آپ شیخ الحنفیہ، عالمِ باعمل، ماہرِ علوم و فنون اور مجتہد فی المسائل ہیں۔ تصانیف میں اصولِ بزدوی (کنز الوصول الی معرفۃ الاصول) یادگار ہے۔ (حدائق الحنفیہ،ص228، اصول البزدوی،ص377) (12) مَلِک العلماء حضرت سیّدُنا علاءُ الدّین ابوبکر بن مسعود کاسانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت چھٹی صدی ہجری میں کاسان (موجودہ قازان) اُزبکستان میں ہوئی۔ 10رجب 587ھ کو حلب شام میں وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، عظیم فقیہِ حنفی،امامِ زمانہ،امیرِکاسان، استاذُالفقہاء اور صاحبِ تصنیف تھے۔ فقہِ حنفی کی بہترین کتاب ”بَدَائعُ الصَّنَائِع فی تَرْتِیْبِ الشَّرَائِع“ آپ کی تصنیف کردہ ہے۔ (حدائق الحنفیہ، ص256، الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ، ص69، بدائع الصنائع،ج 1،ص9) (13)شیخُ الاسلام امام محیُ الدّین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نَوَوِی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت631ھ میں نویٰ (مضافاتِ شہرِ حوران) شام میں ہوئی اور یہیں 24 رجب 676ھ کو وصال فرمایا۔ آپ محدثِ کبیر،فقیہ و مُحَرِّرِ فقہِ شافعی، ماہرِ علمِ لغت، زہد و تقویٰ کے جامع، تقریباً40کتب کے مصنّف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔پاک و ہندمیں آپ کی کتب ”ریاض الصالحین“ اور”شرح صحیح مسلم“ مشہور ہیں۔(دلیل الفالحین،ج 1،ص11تا 21) (14)صاحبِ بحرالرائق حضرت سیّدُنا شیخ اِبنِ نُجیم زین العابدین بن ابراہیم مصری حنفی خلوتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 926ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 8رجب المرجب970ھ کو وصال فرمایا۔ فقہ اور اصولِ فقہ سمیت تمام علوم کے جامع،استاذُالعلماء، مصنّفِ کتب اور مفتیِ اسلام تھے۔(البحر الرائق،ج 1،ص5،الطبقات السنیہ،ج 1،ص289) (15)بحرالعلوم علّامہ عبدالعلی محمد فرنگی محلی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت فرنگی محل لکھنو (یوپی) ہندمیں 1142ھ کو ہوئی اور12رجب 1225ھ کو وصال فرمایا، تدفین مدراس (جنوبی ہند) کی مسجد والا شاہی کے پہلو میں ہوئی۔ آپ بانیِ درسِ نظامی علّامہ نظامُ الدّین سہالوی کے لختِ جگر، جامعِ علومِ عقلیہ و نقلیہ، استاذُالعلماء، فَوَاتِحُ الرَّحَمُوْت بِشَرْحِ مُسَلَّمُ الثُّبُوْت سمیت کثیر کتب کے مصنف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔(تذکرہ علمائے فرنگی محلی، ص137تا141)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share