ربِّ کریم  کا تحفہ

زمانے بَھر کا دستور ہے کہ لوگ تَحائف کی قدر کرتے ہیں، بِالخصوص جب تحفہ کسی بڑی شخصیت سے ملے تو اُسے سنبھال کر رکھا جاتا اور اپنی قسمت پر ناز کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ تحفوں کی قدر نہیں کرتے یا تحفہ دینے والے کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ایسے لوگ مُعاشرے میں اچّھی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ میں جس تحفے کی طرف توجّہ دلانا چاہتا ہوں وہ مخلوق کا نہیں بلکہ خالقِ کائنات اللہ پاک کا دیا ہوا ہے جو شبِِ معراج پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذریعے مسلمانوں کو عطا فرمایا گیا، اس تحفے کو آقائے دوجہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، حَجَّۃُ الْوَدَاع کے خطبے میں بھی لوگوں کو اس تحفے کی قدر کرنے کی تاکید فرمائی، اس تحفے کے ذریعے بندہ اپنے ربِِّ کریم کی رِضا، خوشنودی اور قُرب پانے میں کامیاب ہوسکتا ہے، یقیناً وہ تحفہ نماز ہی ہے، اعلانِ نَبُوّت کے گیارہویں سال اسلام میں سب اعمال سے پہلے نماز کو ہی فرض کیا گیا، حدیثِ پاک کے مطابق حضراتِ انبیائے کرام علیہمُ السَّلام اب بھی اپنی اپنی قبروں میں نمازیں ادا فرماتے ہیں، شبِ معراج جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجدِ اقصیٰ پہنچے تو وہاں پر بھی نماز کا ہی اہتمام کیا گیا، جب بھی کوئی اَہم مُعاملہ درپیش ہوتا تو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز پڑھتے، جسے ’’نمازِ حاجت‘‘ کہا جاتا ہے، سورج کو گہن لگتا تو نماز کی طرف مُتَوجّہ ہوتے، جب قَحْط سالی ہوئی اور پانی کی قِلّت کا مسئلہ لےکر لوگ بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے تو اس وقت بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کو نماز کی تعلیم دی، جسے ’’نمازِ اِسْتِسْقاء‘‘ کہا گیا، حضرت سیّدنا رَبیعہ بن کَعب اسلمی رضی اللہ عنہ نے جنّت میں ساتھ رہنے کی تمنّا کا اظہار کیا تو انہیں بھی نفل نماز کی کثرت کی تلقین فرمائی۔ آیاتِ قراٰنیہ ہوں یا احادیثِ کریمہ، صحابۂ کرام کے فرامین ہوں یا ائمۂ اسلام کے ارشادات! جابجا نماز کی اَہَمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی ایک بھاری تعداد کو اس تحفۂ خداوندی کی قدر نہیں ہے، فی زمانہ مسلمانوں کی اکثریت نماز سے دُور ہے اور جو پڑھتے ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد کو درست قراٰنِ پاک پڑھنا نہیں آتا، انہیں نماز کے ضروری مسائل سے واقفیت نہیں ہوتی۔ مخلوق کے تحفوں کی ناقدری کرنے والوں کو لوگ ناقدرے اور نالائق ٹھہراتے ہیں تو اندازہ کیجئے کہ جو اپنے پیدا کرنے والے مالک و مولیٰ اللہ کریم کی طرف سے ملے ہوئے تحفے کی قدر نہ کرے تو شریعت کی نگاہ میں وہ کتنا بڑا بدبخت اور نالائق ہوگا، بےنمازی جہاں نماز کے فضائل و برکات سے خود کو محروم کرتا ہے وہیں دنیا و آخرت میں ملنے والی کئی طرح کی سزاؤ ں کا بھی خود کو مستحق ٹھہرالیتا ہے۔ بے نمازی کے ساتھ کیا ہوگا؟ قِیامت کے دن سب سے پہلے تارکینِ نماز کے منہ کالے کئے جائیں گے، اللہ پاک انہیں اوندھا کرکے دوزخ میں ڈال دےگا، جان بُوجھ کر نماز چھوڑنے والے سے اللہ و رسول بَرِیُّ الذِّمّہ ہیں، اس کی عمر سے بَرکت چھین لی جاتی ہے، اس کے چہرے سے صالحین کی نشانی مٹ جاتی ہے، اس کی دعا آسمانوں کی طرف بلند نہیں ہوتی، نیکوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصّہ نہیں ہوتا، وہ ذلیل ہوکر مرے گا، بھوکا اور پیاسا مرے گا، قبر اس پر تنگ ہوگی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوجائیں گی، اس کی قبر میں آگ بھڑکائی جائے گی جس کے انگاروں پر وہ رات دن لوٹتا رہے گا، قبر ميں اس پر ايک اژدھا (بڑا سانپ) مُسلّط کرديا جائے گا، اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی: پہلی سطر یہ ہوگی: اے اللہ کے حُقوق ضائع کرنے والے! دوسری یہ ہوگی: اے اللہ کی ناراضی کے لئے مخصوص! اور تیسری سطر یہ ہوگی کہ جیسے تُو نے اللہ کے حُقوق دنیا میں ضائع کئے ہیں ایسے ہی تُو آج اللہ کی رحمت سے نااُمید ہوگا۔ جہنّم میں ایک وادی ہے جسے ’’لَمْلَم‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں سانپ رہتے ہیں ہر سانپ اُونٹ جتنا موٹا اور ایک ماہ کے سفر کے برابر طویل ہوگا وہ بے نمازی کو ڈَسے گا اس کا زہر ستّر سال تک بے نمازی کے جسم میں جوش مارتا رہے گا، پھر اس کا گوشت گل جائے گا۔ ( ماخوذ از بہارِ شریعت، مکاشفۃ القلوب) نماز کے فضائل و برکات ایک نظر میں نماز رِضائےالٰہی اور قُربِِ اِلٰہی کا ذریعہ ہے وزنِ اعمال کے وقت نمازی کے لئے حُجّت و دلیل ہے اس سے مسجدوں کی زینت اور آبادی ہے فرشتوں کی تمام عبادتوں کی جامع ہے یہ بے حیائیوں اور بَدکاریوں سے روکتی ہے بلائیں ٹالتی اور عذابِِ الٰہی سے نجات بخشتی ہے حلِّ مشکلات کا بہترین ذریعہ ہے غم کو سکون سے بدلتی ہے غرور و تکبُّر کو توڑتی ہے بندے کو خشیّتِ الٰہی (خوفِ خدا) سے زینت دیتی ہے افلاس و تنگدستی (غُربت) کو دُور کرتی ہے بندے کو اللہ پاک کے ذِکْر کا شرف دلاتی اور اس قابل بناتی ہے کہ وہ اَرْحَمُ الرّاحِمین بندے کا ذِکْر فرماتا ہے مسلمانوں کا ہتھیار اور ان کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے قبر کے اندھیرے کو روشنی سے بدلتی ہے بارگاہِ الٰہی میں نمازیوں کا ہر صبح و شام تذکرہ ہوتا ہے نمازیوں کو رحمت کے فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں نمازی کے لئے جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں نمازی اور ربِّ کریم کے درمیان سے پردے ہٹادیئے جاتے ہیں عوارفُ المعارف شریف میں ہے کہ نماز میں چار مختلف حالتیں ہیں: قیام، قُعود، رُکوع، سُجود اور چھ طرح کے ذکر ہیں: تلاوتِ قراٰن، تسبیح، حمدِ الٰہی، اِسْتِغفار، دعا اورنبی ِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرود شریف۔ یہ کُل دس چیزیں ہوئیں اور یہی دس چیزیں فرشتوں کی دس صَفوں میں تقسیم کی گئی ہیں، ان میں ہر صَف دس ہزار فرشتوں پر مشتمل ہے، لہٰذا نماز کی دو رکعتوں میں وہ کچھ موجود ہے جو ایک لاکھ فرشتوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔(ماخوذاز،ہماری نماز،تصنیف مفتی خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ)

میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: سچّی بات یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی مسجد بھرو تحریک ہے کہ مسجدیں بھرو، نمازی بنو! نمازی بناؤ! اور پیارےآقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عشق کی شَمْع اپنے دل میں روشن کرو اور اپنے آپ کو سنّتوں کے سانچوں میں ڈھالو۔

میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے کہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ پہلی صف میں ادا کیجئے اور دیگر مسلمانوں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوئے نمازی بنائیے اور اس تحفۂ خداوندی کی قَدْرکیجئے۔

عمل کا ہو جذبہ عطا یاالہٰی

گناہوں سے مجھ کو بچا یاالہٰی

میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت

ہو توفیق ایسی عطا یاالہٰی (وسائل بخشش(مرمم)،ص102)

Share