علماء پر تنقید کرنے والے

آج کل علمائے دین کے خلاف لکھنا اور بولنا ایک فیشن بنتا جارہا ہے۔ جس شخص کو کوئی پڑھتا سنتا نہ ہو، وہ علماء اور دینی اَحکام پر اعتراض شروع کردیتا ہے تاکہ کچھ تو ریٹنگ (Rating) اور مقبولیت ہاتھ آئے، لیکن حقیقت میں یہ بڑی محرومی ہے کہ وہ حضرات جن کی شان اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی اور جن کے دَرَجے بلند کئے، اُن بلند شان لوگوں کو چھوٹے ذہن کے لوگ نیچا دِکھانا چاہتے ہیں۔ علمائے کرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہایت مُحتاط رہنا چاہئے۔ فی الوقت حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر لکھنے بولنے والے اکثر و بیشتر افراد دین اوردینی معلومات سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ عُموماً اُنہوں نے قرآن، حدیث، فِقہ اور تصوُّف وغیرہا علومِ دینیہ کا یا تو اصلاً مُطالَعہ نہیں کیا ہوتا یا دو چار کتابیں یا انٹر نیٹ پر دو چار مضامین (Articles) پڑھے ہوتے ہیں۔ ایسی کم عِلمی کے ساتھ دین، علمائے دین اور دینی تعلیمات پر کلام کرنا سوائے بے باک اور خوفِ خدا سے عاری شخص کے اور کس کا کام ہوسکتا ہے؟ ایسے لوگ عُموماً چند علماء کی کسی بےعمَلی کی مثال دے کر لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ تھوڑی سی عقل استعمال کریں تو بات سمجھ آجاتی ہے کہ چند افراد کی بے عَمَلی کی وجہ سے تمام علماء پر طَعن و تشنیع کرنا حماقت و ظلم ہے۔ آخر دنیا کا کون سا شعبہ ہے جس میں چند افراد غَلَط نہیں ہوتے؟ تو کیا دنیا کے ہر شعبے کے تمام افراد کا اسی طرح مذاق اڑایا جاتا ہے؟ اور کیا اسی طرح انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن علمائے دین کے معاملے میں دین بیزار، سیکولر (Secular) اور لبرل (Liberal) طبقے کا ایک عرصے سے یہی وَطِیرہ بنا ہوا ہے حالانکہ خود ان لوگوں میں کتنی بڑی تعداد ایسی ہے جو نہایت گِھناؤنے کردار کی حامِل، غیر ملکی این جی اوز (NGOs) کے پیسوں پر پلتی اور ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مِشن میں لگی ہوتی ہے بلکہ علمائے کرام کے خلاف باتیں کرنا بھی اسی مکروہ ایجنڈے کا حصّہ ہے۔

علمائے کرام تو قرآن و حدیث کی تعلیم کی وجہ سے ربّانی یعنی ”رب والے، اللہ والے“ ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ(۷۹))(پ3،اٰلِ عمرٰن:79) تَرجَمۂ کنزُالعرفان:”اللہ والے ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور اس لئے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے ہو۔“ یعنی جو لوگ خدا کی کتاب جیسے قرآن سِکھاتے اور اس کا درس دیتے ہیں وہ ربانی علماء ہیں۔ اب غور فرمالیں کہ قرآن سِکھانے اور اس کا دَرس دینے کا کام علمائے دین کرتے ہیں یا دین سے بیزار لوگ؟ اور یہ بھی غور فرمالیں کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندے قرار دیتا ہے اُن سے دور اور متنفِّر کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ کس قُماش کے ہیں اور کس کو ماننے والے ہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ عِبادُالرّحمٰن یعنی بندگانِ رحمٰن کے خلاف کلام کرکے یہ لوگ بندگانِ شیطان میں داخل ہوجائیں۔

ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌۚ-یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَۚ-) (پ6، المآئدۃ:44) تَرجَمۂ کنزُ العرفان:”بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہِدایت اور نور ہے، فرمانبردار نبی اور ربَّانی علماء اور فُقَہاء یہودیوں کو اسی کے مطابق حکم دیتے تھے کیونکہ انہیں ( اللہ کی اس) کتاب کا محافِظ بنایا گیا تھا اور وہ اس کے خود گواہ تھے۔“ اِن آیات میں علمائے دین کی جو شان بیان فرمائی گئی ہے وہ ایک ایک لفظ سے واضح ہے:(۱)عُلَماء و فُقَہاء کا ذکر تعریف کے طور پر انبیاء علیہمُ السَّلام کے ساتھ کیا گیا چنانچہ فرمایا گیا کہ خدا کی کتاب کے مطابق حکم دینا انبیاء علیہمُ السَّلام اور علماء و فقہاء سب کا طریقہ ہے۔ (۲)بتایا گیا کہ کتابُ اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری علماء کو سونپی گئی ہے۔ (۳)ارشاد فرمایا کہ علمائے کرام خدا کی کتاب کی حقّانیت کے گواہ ہیں۔ ان صِفات کو بغور پڑھیں تو یہ بات بالکل واضِح ہے کہ یہ صِفات آج کے علمائے کرام میں بھی پائی جاتی ہیں جو قرآن و حدیث اور شرعی احکام پڑھتے پڑھاتے، بتاتے، سمجھاتے اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور یقیناً یہ علمائے ربانیین ہیں۔ سیکولر لوگوں کا ایک طَبَقہ تو اِن چیزوں کو سننا ہی گوارا نہیں کرتا خواہ وہ چیزیں قرآن ہی سے کیوں نہ بیان کی جائیں لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا طبقہ جو تھوڑا بہت دین کا نام لیتا ہے لیکن علماء کو بدنام کرنے میں پہلے گروہ کی طرح یا اس سے بھی بدتر ہوتا ہے وہ ایسی جگہ پر کہتا ہے کہ یہ تو ماضی کے علماء کے بارے میں ہے، آج کے علماء اس میں داخل نہیں۔ ان لوگوں کے فہم پر افسوس ہے کہ بے چارے ماضی کے خیالات میں گم، حال سے بے خبر اور مستقبِل سے مایوس رہتے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آج بھی لاکھوں کی تعداد میں علمائے کرام قرآن و حدیث کی تعلیم و تشریح، کتابُ اللہ کی تفسیر، کُتبِ دِینِیہ کی تصنیف، مَخلوق کی ہِدایت، دین کی وضاحت اور احکامِ شریعت کی تحقیق کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان ہی کی کاوِشوں سے دنیا میں اسلام پہنچ رہا ہے، غیر مسلم اسلام قبول کررہے ہیں، مسجدیں آباد ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو بتائیں دوسرا کون سا طبقہ ہے جو اسلام کی اِشاعت اور قرآن و سنّت کی خدمت کررہا ہے؟ الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) پر گھنٹوں بولنے والے اور پرنٹ مِیڈیا (Print Media) میں روزانہ لکھنے والے اور دیگر ناول، ڈرامے، افسانے، ادب، شاعری کی کتابیں تصنیف کرنے والے ذرا اپنا نامہ اعمال پیش کریں کہ ان کی کتنی زندگی اسلام کی دعوت اور قرآن و حدیث کی خدمت میں گزری ہے؟ حقیقتِ حال ہر شخص جانتا ہے لیکن افسوس کہ جنہوں نے قوم کو کنفیوز (Confuse) کرنے کے علاوہ شاید ہی کوئی کام کیا ہو وہ اُن علماء کے خلاف کام کرتے ہیں جن کی ساری زندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لیتے گزری ہے۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زِیاں جاتا رہا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دارالافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share