حضرت سیّدتنا  اُمِّ حَرام بنتِ مِلْحان رضی اللہ عنہا

 سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جن جانثار صحابیات نے دینِ اسلام کیلئےعظیم خدمات انجام دیں اور اپنی جانیں قربان کیں ان میں سے ایک حضرت سیّدَتُنا اُمِّ حرام بنتِ مِلْحان رضی اللہ عنہابھی ہیں۔ مختصر تعارف آپ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضاعی خالہ،([1]) حضرت سیّدَتُنا امِّ سُلَیم رضی اللہ عنہا کی بہن اور حضرت سیّدنا اَنس رضی اللہ عنہکی سگی خالہ ہیں۔ آپ کا تعلّق قبیلۂ بنی نجّار سےہے۔([2]) نکاح واولاد آپ کا پہلا نکاح حضرت سیّدنا عَمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے آپ کےہاں دو بچّوں حضرت سیّدُنا قیس بن عَمرو رضی اللہ عنہما اور حضرت سیّدُنا عبد اللہ بن عَمرورضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی۔ حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ جنگِ بدر اور احد میں شریک رہے، جنگِ اُحد میں ان کی شہادت ہوگئی۔ حضرت امِّ حرام رضی اللہ عنہا کا دوسرا نکاح حضرت سیّدُنا عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے آپ کے ہاں محمد بن عبادہ کی ولادت ہوئی۔([3])

بشارت حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی حیاتِ مبارَکہ ہی میں آپ رضی اللہ عنہا کو شہادت کی بشارت عنایت فرمادی تھی چنانچہ حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:رسولُ اللہصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امِّ حرام بنتِ مِلْحان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ وہ حضورِاکرم کی خدمت میں کھانا پیش کرتیں۔ ایک بار رسولُ اللہصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمان کے یہاں تشریف لے گئےاور آرام فرمایا، کچھ دیر کے بعد مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو حضرت بی بی امِّ حرام نے عرض کی کہ یا رسولَ اﷲ!آپ کے مسکرانے کا کیا سبب ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ میں نے ابھی ابھی اپنی امّت کے کچھ مجاہدین کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ سمندر میں کشتیوں پر اس طرح بیٹھے ہوئے جہاد کے لئے جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا کرتے ہیں، حضرت امِّ حرام نے کہا کہ یارسولَ اﷲ! دعا فرمایئے کہ اﷲتعالیٰ مجھے ان مجاہدین میں شامل فرمائے،رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے آپ کیلئے دعا فرمائی اور پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمسو گئے اور دوبارہ پھر اسی طرح ہنستے ہوئے اُٹھے اور یہی خواب بیان فرمایا، تو اُمِّ حرام نے کہا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دعافرمایئے کہ میں ان مجاہدوں میں شامل رہوں ،تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ تم پہلے مجاہدین کی صف میں ہوگی۔([4]) جنگ قُبْرُص میں آپ کی شہادت کا واقعہ چونکہ غیب دان آقا مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپ کی شہادت کی خبر پہلے ہی دے چکے تھے چنانچہ 27ھ کو حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت سیّدنا امیرِمعاویہرضی اللہ عنہکے زیر سرپرستی ہونے والی بحری جنگ میں آپ نے اپنے شوہر حضرت سیّدنا عُبادہ بن صامِترضی اللہ عنہ کے ہمراہ قُبْرُص (Cyprus) کا بحری سفر اختیار کیا اورقُبْرُص کی فتح کے بعد واپسی میں آپ کی سواری کے لئے خچر لایا گیا جس پر آپ سوار ہوئیں اور اس سے گرنے کے سبب شہید ہوئیں۔ قُبْرُص میں شہادت سے سرفراز ہونے کے بعد آپ کو وہیں دفن کردیا گیا۔([5]) آپ کا مزار اور اہلِ قُبْرُص کا عقیدہ علّامہ عینی نے لکھا ہے کہ قُبْرُص کے لوگ آپ کے مزار کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور آپ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک نیک عورت کا مزار ہے۔([6])

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی



[1] ۔۔۔ نزھۃ القاری،ج4،ص44

[2] ۔۔۔ طبقاتِ ابن سعد،ج 8،ص320

[3] ۔۔۔ تہذیب التہذیب،ج 10،ص515، طبقات ابن سعد،ج3،ص376، طبقات ابن سعد،ج7،ص282

[4] ۔۔۔ بخاری،ج 2،ص275، حدیث:2877،2878

[5] ۔۔۔ اسد الغابۃ،ج 7،ص343

[6] ۔۔۔ عمدۃ القاری،ج 10،ص88، تحت الحدیث:2788

Share