صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان

اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

*مولانا ابو ماجد محمد شاہد عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2023ء

شوَّالُ المکرّم اسلامی سال کا دسواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام ، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے ، ان میں سے85کا مختصر ذکر ” ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ شوَّالُ المکرّم1438ھ تا1443ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید 12کا تعارف ملاحظہ فرمائیے :

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان :

 ( 1 ) حضرت عبداللہ بن جَحْش قُرَشی اَسَدی رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پھوپھی زاد بھائی ، اُمُّ المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش کے بھائی ، قدیمُ الاسلام و بَدری صحابی اور مجاہد فِی سبیلِ اللہ تھے ، مکہ شریف سے حبشہ اور وہاں سے مدینہ ہجرت فرمائی ، مواخاتِ مدینہ میں حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی بنائے گئے ، ہجرت کے سترہ ماہ بعد سریہ عبداللہ بن جحش کے سپہ سالار مقرر ہوئے ، اس سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت سے خُمْس جدا فرمایا اور یہ اسلام میں پہلا خمس ہے ، غزوۂ اُحُد  ( 15شوال 3ھ )  میں شہید ہوئے اور اپنے ماموں سیّدالشہداء حضرت امیر حمزہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن کئے گئے۔ بوقت شہادت عمر 40 سال سے زائد تھی۔  )[1](

 ( 2 ) حضرت عَمْرو بن الجموح انصاری رضی اللہ عنہ بنی سَلَمَہ کے سردار ، معزز ، رئیس ، صاحب شرافت و سخاوت اور سفید و گھنگریالے بالوں والے تھے ، انصار میں سب سے آخر میں اسلام لائے ، پاؤں میں لنگڑاپن ہونے کی وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے ، غزوۂ اُحُد ( 15شوال 3ھ )  میں باصرار شریک ہوئے اور بے جگری سے لڑتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت خلاد سمیت شہید ہوگئے۔)[2](

اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام :

 ( 3 ) آئینۂ ہند حضرت اخی سراجُ الدین عثمان اودھی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت 656ھ میں اودھ یوپی ہند میں ہوئی اور وصال یکم شوال 758ھ میں ہوا ، مزار لکھنوتی بنگال میں ہے ، آپ عالمِ دین ، مدرس ، سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے شیخِ طریقت اور کئی کُتب کے مصنف ہیں۔ تصانیف میں ہدایۃُ النحو ، پنج گنج اور میزانُ الصرف کے نام ملتے ہیں۔)[3](

  ( 4 ) رہنمائے ملت حضرت سیّد علی بغدادی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت بغداد میں ہوئی ، والدِ گرامی حضرت سیّد محی الدین ابو نصر اور دیگر علمائے بغداد سے علم و عرفان حاصل کیا ، والدِ محترم سے خِرقۂ خلافت حاصل ہوا ، آپ کا وصال 23شوال 739ھ کو بغداد میں ہوا ، یہیں تدفین ہوئی۔)[4](

  ( 5 ) رہبر و رہنما حضرت میر محمد ہاشم قادری رحمۃُ اللہ علیہ خاندانِ غوثیت کی رزاقی شاخ کے چشم و چراغ ، عابد و زاہد اور مُتَّبِعِ شریعت تھے ، آپ1125ھ میں کشمیر تشریف لائے اور رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا ، 27شوال1135ھ کو وصال فرمایا ، مزار حول سری نگر کشمیر میں ہے۔)[5](  

 ( 6 ) حضرت شاہ بدرالدین اوحد قادری رحمۃُ اللہ علیہ 1115ھ میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1205ھ میں وصال فرمایا ، آپ عالمِ دین ، جامع مسجد فرخ نگر کے مدرس ، شیخِ طریقت تھے۔ محلہ رام نگر لکھنؤ  ( اترپردیش ہند )  میں تکیہ شاہ بدرالدین کے نام سے مزار ہے۔)[6](

 ( 7 ) خاتم الاسلاف حضرت سیّد شاہ محمد صادق مارہروی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت آستانہ عالیہ مارہرہ یوپی ہندمیں 7رمضان 1248ھ کو ہوئی اور24شوال 1326ھ کو سیتاپور میں وصال فرمایا ، تدفین شاہجہانپور روڈ نزد قینچی پُل سیتاپور میں ان کے اپنے باغ میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین ، قادری شیخِ طریقت ، مطبع صبحِ صادق سیتاپور کے مالک اور فعال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف اور سیتاپور میں کئی تعمیرات کروائیں۔  )[7](

 ( 8 ) حضرت خواجہ پیر سیّد نیاز علی شاہ گردیزی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1238ھ کوڈہنڈی کیاٹ ، راولاکوٹ کشمیر میں ہوئی اور 3شوال 1333ھ کوصال فرمایا۔ مزار سرسیداں ، باغ کشمیر میں ہے۔ آپ عالمِ دین ، شیخِ طریقت ، حُسنِ ظاہری و باطنی سے مالامال ، دو مدارس کے بانی ، استاذُالعلماء اور مرید و خلیفہ خواجہ شمس العارفین ہیں۔)[8](

علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام :

 ( 9 ) حضرت علّامہ شاہ ابوالخیر فاروقی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت موضع آستانۂ بھیرہ نزد ولید پور ، ضلع مئو ، یوپی ہند میں 1008ھ میں ہوئی اور یہیں 11شوال1059ھ کو وفات پائی ، گھر کے بیرونی صحن میں برگد کے درخت کے نیچے جس  چبوترے  پر بیٹھا کرتے تھے وہیں آپ کا مزار بنایا گیا۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر عالمِ دین ، ظاہری و باطنی معلومات سے آراستہ ، وَرع و تقویٰ کے جامع اور صاحبِ کرامت تھے۔)[9](

 ( 10 ) حضرت شیخ سیّد احمد بن ابوبکر بن سمیط حسینی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش5رجب1277ھ کو سمندری جزیرے اتساندرا ، بحرِ ہند افریقہ میں ہوئی اور وفات 13شوال 1343ھ  کو زنجبار افریقہ میں ہوئی۔ آپ جید عالم ، شیخِ طریقت ، مصنفِ کُتب اور زنجبار کے قاضی اور مفتی تھے ، افتا اور قضا کے علاوہ آپ تدریس بھی فرمایا کرتے تھے ، کئی جید علما آپ کے شاگرد ہیں۔ سلطنتِ عثمانیہ میں آپ کو اہم مقام حاصل تھا ، آپ نے کئی ممالک کا سفر کیا۔ آپ کا مزار زنجبار کی جامع مسجد کے ساتھ مشہور ہے۔ آپ کی 8کُتب میں سے ایک مَنْہَلُ الوُرَّاد بھی ہے۔   )[10](

 ( 11 ) عالمِ باعمل حضرت مولانا سیّد احمد حسن ابدالوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش حسن ابدال ، ضلع اٹک میں ہوئی اور 14 شوال 1356ھ کو وصال فرمایا ، تدفین بہاولپور میں ہوئی۔ آپ تلمیذ و مرید قبلۂ عالَم پیر مہر علی شاہ ، اچھے مدرس اور شریعت و طریقت کے جامع تھے ، آپ چالیس سال بہاولپور یونیورسٹی میں دینیات کے صدر مدرس رہے۔)[11](

 ( 12 ) مفسرِقراٰن حضرت مولانا محمد عبد القدیر حسرت صدیقی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت 27رجب 1288ھ اور وفات 18شوال 1388ھ کو حیدر آباد دکن  ( تلیگانہ ، ہند )  میں ہوئی ، آخری آرام گاہ صدیق گلشن بہادر پورہ میں ہے۔ آپ علومِ جدیدہ و قدیمہ کے ماہر ، علوم کے سمندر ، خوفِ خدا کے پیکر اور مجازِ طریقت تھے۔ تصانیف میں 6جلدوں پر مشتمل تفسیرِ صدیقی اہلِ علم میں معروف ہے۔ آپ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے پروفیسر اور شعبہ دینیات کے سربراہ تھے ، جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم بھی رہے۔)[12](

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ



[1] اسد الغابۃ ، 3 / 195 ، طبقات ابن سعد ، 3 / 65

[2] اسد الغابۃ ، 4 / 219

[3] آئینہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان احوال وآثار ، ص72تا214

[4] شرحِ شجرۂ قادریہ رضویہ عطّاریہ ، ص93

[5] تذکرۃ الانساب ، ص133

[6] ملت راجشاہی ، ص95 ، 96

[7] تاریخ خاندان برکات ، ص52تا56

[8] فوزالمقال فی خلفاءپیرسیال ، 1 / 427 تا 434

[9] تذکرہ علمائے بھیرہ ولیدپور ، ص53

[10] منہل الوراد ، الف تادال

[11] تذکرۂ علمائےاہل سنت ضلع اٹک ، ص 190

[12] تلمیذ اعلیٰ حضرت مفتی تقدس علی خان ، ص 34


Share