اپنے شوہر کا ساتھ دیں!

اسلام اور عورت

اپنے شوہر کا ساتھ دیں !

*ام میلاد عطّاریہ

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی2023

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نکاح کی صورت میں ایک بہترین اور مضبوط نظام عطا فرما کر میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس دیا ہے تاکہ افراط و تفریط سے پاک معاشرے کی بنیاد قائم رہے ، اس سلسلے میں جہاں مرد کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی بیوی کا خیال رکھے ، اس کے حُقوق ادا کرے اور اس کے ساتھ مل کراچھی زندگی گزارے وہیں خاتون کی ذمہ داری میں بھی یہ بات شامل کردی گئی ہے کہ وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آئے ، اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے اور اس کیلئے سکون کا سبب بنے ، نہ یہ کہ اپنے شوہر پر بے جا مطالبوں کا اتنا بوجھ ڈال دے کہ وہ پریشان ہوکر اللہ پاک کی نافرمانی کرنے پر مجبور ہوجائے جوکہ ہلاکت کا سبب ہے ، جیساکہ ایک حدیثِ پاک میں ہے : لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ اُس شخص کے علاوہ کسی دِین والے کا دین محفوظ نہ رہے گا جواپنے دین کو لےکر ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اور ایک سوراخ  ( غار )  سے دوسرے سوراخ کی طرف بھاگے ، اس وقت مَعِیْشَت کا حُصول اللہ پاک کو ناراض کئے بغیر نہ ہوگا ، جب یہ صورتِ حال ہوگی تو آدمی اپنے بیوی بچّوں کے ہاتھوں ہلاکت میں پڑجائے گا ، صحابَۂ کِرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! یہ کیسے ہوگا ؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : وہ اسے تنگیِ مَعِیْشَت پر عار  ( شرم )  دِلائیں گے ، اس وقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت کی جگہوں میں لے جائے گا۔ ( الزهد الکبیر للبیہقی ، ص183 ، حدیث : 439 )

اس حدیثِ پاک میں مَردوں کے ساتھ ساتھ ان عورتوں کے لئے بھی نصیحت ہے جو اپنے شوہروں کو اُن کی آمدنی پر طرح طرح کے کوسنے دیتی ہیں ، لہٰذا وہ اُن کی بے جا فرمائشیں پوری کرنے کے لئے حرام و حلال کی پروا نہیں کرتا اور ناجائز ذرائع اختیار کرکے اپنی قَبْر و آخرت کو داؤ پر لگادیتا ہے ، حدیثِ پاک میں ہے : لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی کو اِس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اُس نے  ( مال )  کہاں سے حاصِل کیا حرام سے یا حلال سے۔ ( بخاری ، 2 / 7 ، حدیث : 2059 )

حکیمُ الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اِس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی آخر زمانہ میں لوگ دِین سے بے پروا ہوجائیں گے ، پیٹ کی فِکر میں ہر طرح پھنس جائیں گے ، آمدنی بڑھانے ، مال جمع کرنے کی فکر کریں گے ، ہر حرام و حلال لینے پر دلیرہوجائیں گےجیسا کہ آج کل عام ہے۔ ( مراٰۃالمناجیح ، 4 / 229 )

اس لئے خواتین کو چاہئے کہ اپنے شوہروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ، ان پر زیادہ بوجھ نہ بنیں بلکہ ہر اعتبار سے ممکنہ صورت میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں ، نیز حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سیرتِ مبارکہ پر غور کریں کہ انہوں نے کس طرح مشکل سے مشکل وقت میں ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہر طرح سے مدد کرکے ایک مخلص ، با وفا ، خیرخواہ اور اطاعت گزار بیوی ہونے کا ثبوت دیا۔

اللہ پاک مسلمان خواتین کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا صدقہ عطا فرمائے اور ان کی سیرتِ مطہّرہ پر عمل کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت   دعوتِ اسلامی اسلامی بہن


Share

Articles

Comments


Security Code