وہ بزرگانِ دین جن کایوم وصال/عرس ربیع الاول میں ہے

ربیعُ الْاوّل اسلامی سال کا تیسرامہینا ہے۔ اس میں جن صَحابۂ کرام، اَولیائے عِظام اور عُلَمائے اسلام کا وصال یا عُرس ہے، ان میں سے17کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الاوّل 1439ھ کے شمارے میں کیا گیا تھا۔ مزید کا تعارف ملاحظہ فرمائیے: صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوَان (1)نورِچشمِ رسول حضرتِ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ ذوالحجہ8ھ کو مدینۂ مُنَوَّرَہ میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیّدَتُنُامارِیہ قِبْطِیَّہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے اور 10ربیعُ الاول 10ھ کو وصال فرمایا۔جنّتُ البقیع میں دَفَن کئے گئے۔(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم،ج 4،ص10، البدایہ والنہایہ،ج 4،ص301) (2)حضرتِ سیّدُنا اُنَیْس بن مَرثَد غَنَوِی رضی اللہ تعالٰی عنہ صَحابیِ رسول ہیں۔ انھوں نےفتحِ مکَّہ اور غزوۂ حُنَین میں حصّہ لیا۔ ان کا وصال ربیعُ الاوّل 20ھ میں ہوا۔ ان کے دادا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حلیف تھے، ان کےدادا، والداوربھائی نےبھی اسلام قبول کیا۔(اسد الغابہ،ج 1،ص204،203، الاستیعاب،ج 1،ص202) اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام (3)شاگردِ امامِ اعظم حضرتِ سیّدُنا ابوسلیمان داؤد طائی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت کوفہ میں ہوئی اور 8ربیعُ الاوّل 165ھ کو بغداد شریف میں وصال فرمایا۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ میں ماہر، قُرّاء کے سَرتاج، مُحَدِّثِین کے رہبر، فقیہُ الفقہاء اور امامُ الاولیاء تھے۔(تاریخ الاسلام للذہبی،ج 4،ص357،362، مرآۃ الاسرار، ص278،276) (4)ولیِ شہیر حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافِی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 150ھ میں ”مرو“ خُراسان (ایران) میں ہوئی۔ 13ربیعُ الاوّل 227ھ کو بغداد میں وِصال فرمایا، مَزار شریف مَقْبَرَۂ قُریش (کاظمیہ شمالی بغداد) عِراق میں ہے۔ آپ عابد و زاہد، مُحِبِِّ عُلما و اولیا، بُلند دَرَجات کے مالِک اور اَکابِر اولیا سے ہیں۔ (تاریخ الاسلام للذہبی،ج5،ص540،544، الوافی بالوفیات،ج 10،ص92،91، المعارف، ص 228) (5)بانیِ سِلسلۂ صابریہ حضرت شیخ علاءُ الدِّین علی احمد صابر کلیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت ہرات (افغانستان) میں592 ھ کو ہوئی اور 13ربیعُ الاوّل690ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مَزار مُبارَک  کلیر شریف (ضلع سہارن پور، یوپی) ہند میں ہے۔ آپ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بھانجے، مرید، خلیفہ اور اَکابِر اولیائے ہند سے ہیں۔(فیضانِ صابر پاک، ص 41،3،1) (6)محبوبُ العُلَماء، اَسَدِ مِلّت و دین حضرت شاہ ابوالمَعالِی سیّد خیرُالدّین قادری کِرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ولادت 960ھ کو قصبہ شیر گڑھ (تحصیل رینالہ خوردضلع اوکاڑہ ) پاکستان میں ہوئی اور 16 ربیعُ الْاوّل 1024ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مَزار مُبارَک مَین بازار گوالمنڈی (نزد سٹی ریلوے اسٹیشن) مَرکزُالاولیاء لاہور میں مَرجَعِ خَلائق ہے۔ آپ سِلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت، عالمِ باعمل، مُصَنِّفِ کُتب، نعت گوشاعر اورامامُ الْمحدثین شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے دوست تھے۔ مُسْتَنَد کتاب ”تحفۂ قادریہ“ آپ کی تحریرکردہ ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان،ج 2،ص24،31، فتاویٰ رضویہ،ج28،ص429)  (7)غوثِ زماں حضرت پیر غلام محی الدّین صدّیقی غَزْنَوِی نقشبندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1320ھ غَزْنِی افغانستان میں ہوئی اور 12ربیع ُالاوّل 1395ھ کو وصال فرمایا، مزار  نیریاں شریف (ضلع پلندری) کشمیر میں ہے۔آپ مشہور اولیائے کرام سے ہیں۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص354،352، تذکرہ حضرت محدثِ دکن، ص460،457) علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (8)حافظُ الحدیث،  تَقِیُّ الدّین حضرت سیّدعبدُ الغنی مقدّسی حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 541ھ جمَّاعیل (نزد نابُ لُس، بیتُ المقدّس) فلسطین میں ہوئی۔   ربیعُ الاوّل 600ھ کو قاہرہ مِصْر میں وِصال فرمایا، تَدفِین قرافہ (جبلِ مقطم جنوبی قاہرہ) میں ہوئی۔ آپ تِلمِیذِ غوثِ اعظم، عالمِ باعمل، استاذُ العلماء، مُصنّفِ کُتبِ کثیرہ ،بارُعب اور پُروَقار شخصیت تھے۔ عُمْدَةُ الْاَحْكَامِ مِنْ كَلَامِ خَيْرِ الْاَنَام آپ کی مشہور کتاب ہے۔(رسائل رمضان در فضائل رمضان، ص104،100) (9)امامُ الْقُرّاءوَالْمُحَدِّثِین حضرتِ سیّدُنا امام شمسُ الدّین ابوالخیر محمد جَزْرِی شافِعی قادری  علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 751ھ کو محلہ قصاعین دِمَشق شام میں ہوئی اور 5ربیعُ الْاوّل 833ھ کوشیراز (محلہ اسکافین، صوبہ فارس) ایران میں وصال فرمایا ۔ آپ مُحَقِّقِِ  اسلام،  سلطانُ العلماء، قاضیُ الْقُضَاۃ، اَلْحِصْنُ الْحَصِیْن مِنْ کَلَامِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ور مُقَدّمَہ جَزْرِیَہ سمیت کئی کُتُب کے مُصَنِّف ہیں۔(بستان المحدثین، ص207، الحصن الحصین، ص 8، اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج1،ص462، 464) (10)ابوحنیفہ ثانِی حضرت امام سِراجُ الدّین عُمَر بن ابراہیم  بن نُجَیْم مِصری حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 926ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 6ربیع الاول 1005ھ کو وصال فرمایا۔ آپ   مفتیِ اسلام، بہترین فقیہ، اعلیٰ اوصاف و کمالات کے حامِل اور عِنْدَالْحُکَّام مُعَزَّز و مُکَرّّم تھے۔ اَلنَّهْرُ الْفَائِقُ شَرْحُ كَنْزِ الدَّقَائِق آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ (ہدیۃالعارفین،ج 5،ص796، خلاصۃ الاثر،ج 3،ص206، الاعلام للزرکلی،ج 5،ص39 ) (11)آفتابِِ پنجاب حضرت علّامہ عبدُالحکیم صدّیقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت989ھ کو ضِیاکوٹ (سیالکوٹ،پنجاب) پاکستان میں ہوئی اوریہیں 16ربیعُ الاوّل 1067ھ کو وِصال فرمایا۔ آپ استاذُالعلماء، عُلومِ عَقْلِیَہ ونَقْلِیَہ میں ماہِر، مُصَنِّفِ کُتب، مَجازِ طریقت، عَرَب وعَجَم میں شُہرت پانے والے، مَرْجَعِِ عُلَما اور علّامۂ دَہر تھے۔ درسِِ نِظامی کی کئی کُتُب پر آپ کے حَواشِی طَبْع شُدَہ ہیں۔(تذکرہ علمائے ہند، ص280، اردو دائرہ معارف اسلامیہ،ج 12،ص837،834 )(12)شیخِ مُحَقِّقْ حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحق مُحَدِّثِ دہلوی قادری علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کی ولادت 958ھ کو دہلی (ہند) میں ہوئی اوریہیں 21ربیعُ الاوّل 1052ھ کو وِصال فرمایا، مَزارمُبارک خانقاہِ قادریہ (نزد باغ مہدیاں بالمقابل قلعہ کہنہ) دہلی ہند میں ہے۔ آپ حافظِ قراٰن،امامُ الْمُحَدِّثِین فِی الْہند، علامۂ دَہر، قطبِ زَماں، کئی کُتُب کے مُصَنِّف اور شارِحِ اَحادیث ہیں۔ دَرجَن(12)سے زائد کُتُب میں مِشْکوٰۃ شریف کی دوشُرُوحات اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات (فارسی)اور لَمْعَاتُ التَّنْقِیْح(عربی) بھی شامل ہیں۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ مترجم،ص93،67، اخبار الاخیار مترجم، ص18،13،  شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی، ص90) (13) مُحَدِّثِ حِجازعلامہ محمد عابد سِندھی مدنی نقشبندی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1190ھ  کو سیہون شریف ضلع دادو (باب الاسلام سندھ) پاکستان میں ہوئی۔ 18ربیعُ الاوّل 1257ھ کو مدینۂ مُنَوَّرَہ میں وصال فرمایا، جنتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ آپ جامعِ علومِ عَقْلِیَہ و نَقْلِیَہ، عظیم فقیہ و مُحَدِّثْ ، رئیسُ العُلَماء مَذاہِبِِ اَرْبَعَہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی)میں ماہر اور کئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ تَصانِیف میں دُرِّمُخْتَار کی شَرح طَوَالِعُ الْاَنْوَارِ (آٹھ جلدیں) یادگار ہیں۔ (الرسائل الخمس، ص42،33، انوارعلمائے اہلسنت سندھ، ص772،767، حدائق الحنفیہ، ص490) (14)مُحَدِّثِ شام حضرتِ علّامہ سیّد محمد بَدْرُ الدّین حسنی مغربی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 1267ھ نَزْد دارُ الحدیث اَشرَفِیَہ عصرونِیَہ مارکیٹ دِمَشق شام میں ہوئی۔ یہیں 27ربیعُ الْاوّل 1354ھ کو وصال فرمایا، دِمَشق کے مشہور قبرستان بابُ الصّغیر میں تدفین ہوئی۔ آپ حافظ ِقراٰن، علامۂ دَہر، مُجَدِّدِ زمانہ، شیخُ الشُّیُوخ، مفتیِ دِیارِ شام، 35 سے زیادہ کُتُب کے مُصَنِّفْ، صوفیِ کامِل اور شام کی مؤثِّر شخصیت تھے۔(سیدی ضیاء الدین احمد القادری،ج 1،ص651،654)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃالعلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code