سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر

نام ونسب حُضُورنبیِّ رَحْمت شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی’’محمد‘‘ہے۔ دیگرآسمانی کتابوں میں آپ کا نام ’’احمد‘‘ مذکورہے جبکہ قراٰن واَحادیث وسیرت کی کتب میں آپ کےسینکڑوں صفاتی نام ذِکْرکئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:’’مُزَّمِّل،مُدّثّر،رَءُوْف، رَحِیم،مُصطفٰے،مجتبیٰ،مرتضیٰ‘‘ وغیرہ جبکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلۂ قریش کےایک اعلیٰ خاندان بنو ہاشم سے تعلّق رکھتے تھے،والد ماجد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمِنہ ہے،والد کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بِن ہاشِم بن عبدِمَناف بِن قُصَی  بِن کِلاب بِن مُرّہ۔ والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بِن آمِنہ بنتِ وَہب بن عبدِ مَناف بِن زُہرہ بِن کِلاب بِن مُرّہ ۔کلاب بن مُرّہ پر جاکر آپ کے والدین کا نسب مِل جاتاہے۔ ولادت باسعادت آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت با سعادت12ربیع الاول بروز پیرمطابق20اپریل571ء کو ہوئی۔ اس تاریخ کو دنیا بھر میں مسلمان میلاد شریف مناتے ہیں۔پرورش  آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت سے پہلے ہی  والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا۔ عمر مُبَارک تقریباً 5 سال کی ہوئی تو والدہ ماجدہ بھی وصال فرماگئیں اور آپ کی پرورش دا داجان  حضرت عبدُ الْمُطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی۔ دو سال کے بعد دادا جان بھی پردہ فرماگئے اور پرورش کی ذمّہ داری آپ کے چچا ابوطالِب نے سنبھالی۔حلیمہ سعدیہ کی قسمت چمک اٹھی شرفائے  عرب کا دستور  کہ وہ اپنے بچّوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح کے  دیہاتوں میں بھیجتے تھے تاکہ  دیہات کی صاف ستھری آب وہوا میں ان کی  جسمانی صحت اچّھی ہو جائے  اور وہ فصیح عَرَبی زَبان بھی سیکھ جائیں۔اسی دستور کے موافق والدہ ماجدہ نے بچپن میں آپ کو حضرتِ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ان کےقبیلے بھیج دیاجہاں وہ  آپ کو دودھ پلاتی رہیں۔اس عرصے میں آپ سے کثیر برکات  کا ظہور ہوا۔مبارک بچپن بچپن میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جُھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا، چاند آپ کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ بچّوں کی عادت کے مُطابق کبھی بھی کپڑوں میں بول و براز نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ ایک معَیّن وَقْت پر رفع حاجَت فرماتے۔ عُمْرِ مُبَارک چند سال ہوئی تو باہر نکل کر بچّوں کو کھیلتادیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہ ہوتے، لڑکے کھیلنے کے لئے بلاتے تو فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔جوانی وکاروبار آپ کی جوانی سچائی، دیانتداری،وفاداری، عہدکی پابندی، رحم وسخاوت، دوستوں سے ہمدردی، عزیزوں کی غمخواری، غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری،الغرض تمام نیک خصلتوں کا مجموعہ تھی۔حِرْص، طَمع، دَغا، فریب، جُھوٹ، شراب نوشی،   ناچ گانا، لوٹ مار، چوری  اور فحش گوئی وغیرہ تمام بُری عادتوں،مذموم خصلتوں  اور عُیُوب ونَقائِص سے آپ کی ذاتِ گرامی پاک وصاف رہی۔ آپ کی راست بازی اور امانت ودیانت کا چرچا دُوردُور تک پہنچ چکاتھا ۔تجارت آپ کا خاندانی پیشہ تھا،13سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلی بار اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کاتجارتی سفر فرمایا  جبکہ23سال کی عمر میں بغرضِ تجارت حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال لے کر اُن کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملکِ شام کا دوسرا سفراختیارکیا۔نکاح واَزواجِ مُطہَّرَات آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےچارسےزائد نکاح فرمائے جو آپ کی خصوصیت ہے۔ پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر مایااور جب تک وہ حیات رہیں دوسرا نکاح نہ فرمایا۔آپ کی گیارہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کے اَسمائے گرامی یہ ہیں:(1)حضرتِ خدیجۃُ الکبریٰ(2)حضرتِ سَودَہ (3)حضرتِ عائشہ (4) حضرتِ حَفْصہ(5)حضرتِ اُمِّ سَلَمہ (6)حضرتِ اُمِّ حبیبہ(7)حضرتِ زینب بنتِ جَحش (8)حضرتِ زینب بنتِ خُز یمہ(9) حضرت ِمیمونہ(10)حضرتِ جُویریہ(11) حضرتِ صَفِیّہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔آپ کی تین باندیوں کے نام یہ ہیں:(1)حضرتِ مارِیہ قِبْطِیَّہ (2) حضرتِ رَیحانہ (3)حضرتِ نفیسہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔اولاد آپ کے تین شہزادے:(1)حضرت قاسم(2)حضرت عبدُاللہ(طیب وطاہر) اور (3)حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہماور چارشہزادیاں ہیں:(1)حضرتِ زینب (2) حضرتِ رُقیّہ(3)حضرتِ اُمّ کُلثوم (4)حضرتِ فاطمۃُ الزّہراء رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ ۔آپ کی تمام اولاد مبارک حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی البتہ حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہحضرتِ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔رشتہ دار چارمشہور چچا: (1) حضرتِ حمزہ (2)حضرتِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما(3) ابو طالِب (4)ابولہب۔چار پھوپھیاں: (1) حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (2) عاتِکہ(3)اُمیمہ (4)اُمّ حکیم۔ عبادت وریاضت و پہلی وحی 40 سال کی عمر میں آپ  مکۂ مکرمہ سے تقریباً تین میل دورغارِحرا میں تشریف لے جاتے اور رب تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔یہیں آپ پر پہلی وحی کانزول ہوا ۔اِعلانِ نبوت ودعوتِ اِسلام چالیس سال کی عمر میں ہی آپ نے اِعلانِ نُبوّت فرمایا، پھرتین سال تک پوشیدہ طورپر تبلیغِ اسلام کا فریضہ سَرانجام دیتے رہے، خواتین میں سب سے پہلے آپ کی زوجہ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،مَردوں میں سب سے پہلےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہاور بچوں میں سب سے پہلےحضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہاِسلام لائے، پھرحضرتِ عثمانِ غنی،حضرتِ زبیر بن عوام،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت طَلحہ بِن عُبَیْدُ اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمبھی دامَنِ اِسلام میں آگئے۔قریش کو دعوتِ اِسلام  تین سال کے بعدآپ نے رب تعالیٰ کے حکم سے اپنے قبیلے والوں کو دعوتِ اِسلام دی، عذاب الٰہی سے ڈرایا، لیکن انہوں نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ناراض ہوکر نہ صرف چلے گئے بلکہ آپ کے خلاف اَول فَول بکنے لگے۔اِعلانیہ دعوتِ اِسلام اورکفارکا ظلم وستم اِعلانِ نبوت کے چوتھے سال آپ اعلانیہ طور پر دِینِ اِسلام کی تبلیغ فرمانے لگے، شِرک وبُت پرستی کی کھلم کھلا بُرائی بیان فرمانے لگے  جس پر کفار آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے  نیز   آپ کو اور دیگر مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔شَعبِ ابی طالب میں محصوری  آپ  کے چچا حضرت حمزہ اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قبول اسلام سے دِینِ اسلام کو بہت تقویت ملی لیکن پھر بھی کفّارکی مخالفت ختم نہ ہوئی بلکہ دِن بَدِن  بڑھتی ہی گئی۔ کفارنے آپ کے خاندان والوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے ایک پہاڑ کی گھاٹی تک محصورکردیا جسے ’’شعبِ ابی طالب‘‘ کہا جاتا ہے۔یہاں آپ تین سال رہے اور آپ کوبڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔اہلِ مدینہ کا قبولِ اسلام حج کے موقع پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل کو دعوتِ اِسلام دیتے اورہرسال کچھ لوگ اِسلام قبول کرلیتے۔اعلانِ نبوت کےتیرہویں سال مدینے سے آئے ہوئے 72افراد نے اِسلام قبول کیا اور واپَس جاکر اپنے یہاں دعوتِ اِسلام دینا شُروع کردی اوررفتہ رفتہ  شمعِ اسلام کی روشنی مدینہ سے قُباتک گھر گھرپھیل گئی۔ہجرتِ مدینہ اعلانِ نبوت کے تیر ہویں سال سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینۂ منورہ جانے کی اجازت عطا فر مائی اور بعد میں  حضرتِ سیّدنا ابو بکر صدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ساتھ خود بھی  ہجرت کرکے  وہاں تشریف لے گئے۔ مدنی حیاتِ طیبہ ہجرت کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منوّرہ کو گیارہ سال شرفِ قیام بخشا، اِن سالوں پیش آنے والے مختلف اہم  واقعات کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے۔پہلا سال  مسجدِقُبا ومسجدِنبوی کی تعمیرکی گئی،پہلا جمعہ ادا فرمایا، اَذان واِقامت کی ابتدا ہوئی۔دوسرا سال قبلہ تبدیل ہوایعنی بیتُ الْمقدّس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نَماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے،نمازِ عیدین و قربانی کا حکم دیاگیا۔ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ساتھ نکاح ہوا۔مسلمانوں کو غزوۂ بدر میں فتحِ مبین حاصل ہوئی۔ تیسرا سال  کفّار کے ساتھ غزوۂ اُحُد کا معرکہ درپیش آیا۔ ایک قول کے مطابِق اسی سال شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ چوتھا سال  صلوٰۃ ُالخوف کا حکم نازل ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ولادت ہوئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ سَلَمہ اور حضرتِ زینب بنتِ جَحش رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے نکاح فرمایا۔ نمازِ قصراور پردے کا حکم نازل ہوا۔ پانچواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرتِ جُویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ غزوۂ احزاب یعنی غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی مُصطَلق واقع ہوئے۔ تَیَمُّمْ کا حکم بھی اِسی سال نازل ہوا۔چھٹا سال صلح حُدیبیہ اوربیعتِ رِضوان واقع ہوئے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام کی دعوت پرمشتمل خُطوط روانہ فرمائے۔ حبشہ کے بادشاہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اِسلام قبول کیا ۔ اسی سال آپ پرجادو کیا گیا اور اس کے توڑ کیلئے سورۂ فَلَق وسورۂ نَاس نازل ہوئیں۔ساتواں سال غزوۂ خیبر اور غزوۂ ذاتُ الرّقاع واقع ہوئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ حبیبہ،حضرتِ صَفیہ اورحضرتِ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے نکاح فرمایا۔ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی نمازِعصرکیلئے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُعا سے سورج واپس پلٹا۔آٹھواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لختِ جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ولادت ہوئی، غزوۂ حنین واقع ہوا۔مکّۂ مکرّمہ فتح ہوا۔ نواں سال شاہِ حبشہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہکا وصال ہوگیا۔ مختلف  وُفود کی بارگاہِ رِسالت میں حاضِری ہوئی ۔ حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔غزوۂ تبوک واقع ہوا جس  کیلئے صحابہ ٔکرام علیہمُ الرِّضوان نے دِل کھول کر مالی معاونت کی ۔ دسواں سال اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لخت جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہکا وصال ہوگیا اور اسی سال آپ نے حج ادا فرمایا جسے حُجۃُ الوداع کہا جاتا ہے۔گیارہواں سال  ہجرت کے گیارہویں سال 12 ربیع الاول بروزپیر بمطابق 12جون632عیسوی کو63 سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وِصال ِظاہری ہوگیااور حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے(یعنی گھر)میں تدفین ہوئی ۔ (ماخوذ ازسیرت سیدالانبیاء، سیرت مصطفیٰ)

محبوبِ ربِّ عرْش ہے اس سبز  قُبّہ میں                       پہلو میں جلوہ گاہ عَتِیْق و عُمَر کی ہے

سَعْدَیْن کا قِران ہے پہلوئے  ماہ میں                           جُھرمَٹ کئے ہیں تارے تجلّی قَمَر کی ہے

                                                                                                                            (حدائقِ بخشش،ص220،219)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ذمّہ دار شعبہ فیضان حدیث،المدینۃالعلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر

عاشقانِ رسول  نے رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز کے ذکر کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ کتبِ سیرت میں ہمیں جہاں سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مُبارَک سیرت کے انوار نظر آتےہیں، وہیں آپ سے نسبت رکھنے والی اشیاء مثلاً برتن، نعلین (یعنی مبارک چپل)، استعمال کی دیگر اشیاء، خُدّام وغیرہ کا ذکر بھی ملتاہے۔ سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی خوش بخت اشیاء میں سے آپ کی  چند سواریوں کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے:بُرَاق یہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری کے ساتھ ساتھ آپ کا معجزہ بھی ہے۔ اِس انوکھی اور جنّتی سُواری پر  حضورِ پُرنور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  مشہور قول کے مُطابِق 27 رجب المرجب کو مکّہ سے بیتُ الْمقدّس تک سفر فرمایا (سیرتِ مصطفےٰ، ص736) اس کا رنگ سفید، (مصنف ابنِ ابی شیبہ،ج 7،ص422، حدیث:60) سینہ مثلِ یاقوت سرخ، اور پرندوں کی طرح دو بازو تھے۔ (سیرتِ حلبیہ،ج 1،ص521، اخبار مکہ للازرقی،ج 1،ص54)  برق کا مطلب ہے بجلی اِسے بجلی کی مانند تیز رفتار ہونے کی وجہ سے بُراق کہا جاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ یہ جانور گدھے سے قدرے بُلند اور خچّر سے قدرے چھوٹا ہے (یعنی درمیانہ قد ہے) اور جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہے وہاں اس کا قدم پڑتا ہے۔ (مسلم،ص87،حدیث:411)گھوڑےسرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گھوڑے پسند  تھے، (سبل الھدیٰ والرّشاد،ج7،ص400) آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری بننے کا شرف حاصل کرنے والے گھوڑوں کا مختصر ذکر کیا جاتاہے: (1)سَکْب: یہ پہلا گھوڑا تھا جو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ملکیت میں آیا۔ آپ نے اسے بنو فَزارہ کے ایک شخص سے  دس اَوْقِیہ میں خریدا تھا اور غزوۂ اُحُد میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اسی پر سوار ہوکر شرکت فرمائی تھی۔ (2)سَبْحَہ: امام ابنِ سیرین علیہ رحمۃ اللہ المُبِین فرماتے ہیں: یہ گھوڑی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک اَعْرابی سے خریدی تھی۔ اس گھوڑی پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دوڑمیں مقابلہ کیا اور یہ دوڑ میں آگے نکل گئی جس پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت مَسْرور ہوئے۔ (3) لِزَازْ: یہ گھوڑا آپ کو مُقَوْقِس (والیِ مصر) نے تحفہ میں دیا تھا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اسے اس کی سیاہ رنگت کی وجہ سے پسند فرماتے تھے۔ آپ اکثر اِسی پر سوار ہوکر غزوات میں تشریف لے جاتے۔ (4)بَحْرْ: یہ گھوڑا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یمن سے آئے ہوئے تاجروں سے خریدا تھا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس گھوڑے پر سوار ہوکر بارہا گُھڑدوڑ میں سَبْقت کی۔ (یعنی سب سے آگے رہے) (5)المُرْتَجِزْ: یہ وہی گھوڑا ہے جس کے بارے میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ خُزیمہ کی شہادت (گواہی) کو دو مردوں کی گواہی کے برابرقرار دیا تھا (6)ظَرِِبْ: یہ گھوڑا حضرتِ سیّدُنافروہ بن عمرو جذامی رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے آپ کو تحفہ دیا تھا(7)لُحَیْفْ: یہ آپ کو عامر بن مالِك عامِری نے تحفہ دیا تھا (8)وَرْدْ : یہ آپ کو تمیم داری رضی اللہ تعالٰی عنہنے تحفہ دیا تھا (9) مِرْوَاح: حضرت سیّدُنا مرداس بن مؤیلک بن واقد رضی اللہ تعالٰی عنہ وفد کی صورت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ گھوڑا تحفہ میں پیش کیا۔ کتب ِ سیرت میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مزید ان  گھوڑوں کے نام بھی ذکر کئے گئے  ہیں: (10)یَعْبُوْب (11)ذواللِمّہ (12)ذُوالْعُقّال (13)سِرحَان (14)طِرْف (15)مِرْتَجَل (16)سِجْل (17)مُلاوِح (18)مَنْدُوْب (19)نَجِیْب (20)یَعْسُوْب۔(زرقانی علی المواہب،ج 5،ص97 تا 105،سبل الھدیٰ والرّشاد فی سیرت خیر العباد،ج 7،ص414تا419،مدارج النبوۃ،ج3،ص624تا628،السیرۃ النبویہ لابن کثیر،ج 4،ص713) خچرحضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ملکیت میں درج ذیل6 خچّر تھے: (1)دُلْدُلْ:یہ سیاہی مائل سفید رنگ کا خچّر مُقَوْقِس (والی مصر) نے آپ کی بارگاہِ عالیہ میں تحفۃً پیش کیا تھا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سفر میں اس پر سوار ہوئے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد حضرتِ سیّدُنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ  اس پر سواری کرتے رہے اس کے بعد حضرتِ سیّدُنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ملا۔ (2)فِضّہ: یہ فروہ بن عمرو جذامی  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو پیش کیا تھا۔ (3)وہ خچر جو ایلہ کے بادشاہ ابنُ العَلماء نے آپ کو تحفہ میں دیا، یہ سفید رنگ کا تھا، اسے بھی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری بننے کا شرف حاصل ہوا۔ (4)وہ خچر جو شاہ ِحَبش نَجاشی نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تحفۃً پیش کیا۔ (5)وہ خچر جو دُومۃُ الجندل کے بادشاہ اٌکَیدر بن عبد الملک نے آپ کو تحفہ میں بھیجا۔ (6)وہ خچر جو شاہِ کسریٰ نے آپ کی بارگاہ میں تحفۃً پیش کیا۔ (زرقانی علی المواہب،ج5،ص106،مدارج النبوۃ،ج3،ص630،سبل الھدیٰ والرشاد ،ج 7،ص422) دراز گوش دراز گوش یعنی گدھا انبیا اور رسولوں کی سواری ہے اور سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ملکیت میں بھی دو دراز گوش تھے، (1)عُفَیْرْ جو کہ مٌقَوْقِس نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوتحفہ میں بھیجا تھااور دوسرے کا نام (2)یَعْفُوْرْ تھا۔ عاشقِ رسول دراز گوش یعفور نامی دراز گوش آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خیبر میں ملا تھا۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میرا نام یزید بن شِہاب ہے اور میرے باپ داداؤں میں ساٹھ ایسے گدھے گزرے ہیں جن پر نبیوں نے سواری فرمائی ہے۔ آپ بھی اللہ کے نبی ہیں لہٰذا میری تمنّا ہے کہ آپ کے بعد دوسرا کوئی میری پُشْت پر نہ بیٹھے۔ یعفور کی یہ تمنا اس طرح پوری ہوئی کہ وفات ِاقدس کے بعد یعفور شدّتِ غم سے نڈھال ہو کر ایک کنوئیں میں گر پڑا اور فوراً ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم یعفور کو بھیجا کرتے تھے کہ فلاں صَحابی کو بلا کر لاؤ تو یہ جاتا تھا اور صَحابی کے دروازہ کو اپنے سَر سے کھٹکھٹاتا تھا تو وہ صَحابی یعفور کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے بلایا ہے چنانچہ وہ فوراً ہی یعفور کے ساتھ دربارِ نبوی میں حاضِر ہوجایا کرتے تھے۔ (الشفا ،ج1،ص314 تفسیر روح البیان،پ14،النحل،تحت الاٰیۃ:8،ج 5،ص11، زرقانی علی المواہب،ج5،ص108) اونٹ(1)مُکْتَسَبْ:  یہ ابو جہل کا اونٹ تھا جو غزوۂ بدر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بطورِ غنیمت ملا۔ آپ اس پر جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میدانِ عَرَفات میں سُرْخ اونٹ پر جلوہ افروز ہوئے۔ (سیرتِ محمدیہ،ج 2،ص393، زرقانی علی المواہب،ج 5،ص111، سبل الھدیٰ والرّشاد،ج 7،ص429)  اونٹنیاں(1)قَصْویٰ: جسے حضرتِ سیّدُنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے چار سو درھم کے بدلے خریدا تھا۔ یہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ہی رہی۔ اسی پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مکّۂ معظّمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت فرمائی ۔ (2)عَضْبَاء: جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کبھی دوڑ میں کسی اونٹ سے پیچھے نہیں رہی تھی۔ ایک مرتبہ ایک اَعْرابی کے اُونٹ سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی، جس پر مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کا یہ حال جان لیا اور  ارشاد فرمایا: اللہ پر یہ حق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بُلند ہواسے پَست کردے۔ (بخاری،ج 2،ص274، حدیث:2872) عَضْباء نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور وفات پا گئی۔ بعض روایات کے مطابق قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی (3)جَدْعَا: اس پر سوار ہو کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حجۃُ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا  تھا۔ (4)صَھْبَاء: حجۃُ الوداع کے دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس اونٹنی پر سوار ہوکر رَمِی فرمائی تھی یعنی مِنیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں ماری تھیں۔ (تفسیرِ روح البیان،پ14،النحل،تحت الاٰیۃ:7،ج5،ص8، الانوار فی شمائل النبی المختار،ج1،ص604، سبل الھدیٰ والرّشاد ،ج7،ص428، زرقانی علی المواہب،ج 5،ص110) اس کے علاوہ علمائےکرام نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مزید ان اونٹنیوں کے نام ذِکْر فرمائے ہیں: (5)مہرا (6)اَطْلَال (7)اَطراف (8)بردہ (9)بُغُوم (10)برکہ (11)حَنَّاء (12)زمزم (13)رَیَّا (14)سَعْدِیہ (15)سُقْیا (16)سَمرا (17)شَقرا (18)عَجرہ (19)عُرَیْس (20)غَوثہ (21)قَمریہ(22)مروہ(23)مُہرہ (24)وُرشہ (25)یَسییریہ۔(زرقانی علی المواہب ،ج5،ص111)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code