چہرہ نور کا

حُسن و جمالِ مصطفٰے حُضُور سرورِ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات حُسن و کمال کا سَرچشمہ ہے۔ کائنات کے حُسن کا ہر ہر ذرّہ دہلیزِ مصطفےٰ کا ادنیٰ سا بھکاری ہے۔ زمانے کی تمام چمک دمک آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے دم قدم سے ہے۔ رَبِِّ کریم نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو وہ جمالِ بے مثال عطا فرمایا کہ اگر اُس کا ظہورِ کامل ہو جاتا تو اِنسانی آنکھ اُس کے جلووں کی تاب نہ لا سکتی۔([1])

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالَم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

                                                    (ذوق نعت،ص204)

قراٰن کریم میں ذِکْرِ حُسنِ مصطفٰے ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے حسن و جمال کو نہایت ہی خوبصورت اَنداز میں کبھی سِرَاجًا مُّنِیْرًا (چمکتا چراغ) سے تعبیر فرمایاکیونکہ جس طرح چراغ سے مکان کی تاریکی دور ہوتی ہے اسی طرح آپ کے وجودِ مسعودسے کُفْر و شِرْک کی تاریکی دور ہوئی اور تمام عالَم نورِ ایمان سے منوّر ہوگیا، ہاں جس طرح جس گھر میں چراغ ہو اس میں چور نہیں آتااسی طرح جس دل میں ان کی مَحبت کا چراغ روشن ہو شیطان اس کے ایمان کو چُرانے کے لئے نہیں آتااورجس طرح چراغ گھرکے اندھیرے کو دور کرتا ہے اسی طرح یہ چراغ دل کے اندھیرے کو دور کرتاہے۔ جی ہاں! جس گھر میں چراغ ہو وہاں بیٹھنے والےکا دل نہیں گھبراتا اور جس دل میں اس چراغ کی یادہو رَنْج و اَلَم اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔اور اگر سِرَاجًا مُّنِیْرًا سے مراد چمکادینے والا آفتاب ہو تومعنی یہ ہوگاکہ جس طرح سورج کا نور سارے عالَم میں پھیلا ہوا ہے اسی طرح ساراجہان آپ کے نور سے منوّر ہے اور جس طرح سورج چمک دمک میں بقیہ ستاروں سے ممتاز ہے اسی طرح آپ بھی فضائل و کمالات میں بقیّہ انبیا سے ممتاز ہیں۔ ([2])اورکبھی رب تعالیٰ نے   طٰہٰ  کا لقب دے کر آپ کو چودھویں کا چاند فرمایا، جی ہاں ’’ط‘‘ کے عدد نو ہیں اور” ہ“ کے عدد پانچ ہیں یعنی رب فرماتا ہے: اے چودھویں، کے چاند! ([3]) اور ربِّ کریم وعظیم نے ”  وَ النَّجْمِ ‘‘ سے جہاں آپ کو چمکتے تارے‘‘ کے لقب سے نوازا، ([4]) تو وہیں ’’  وَ الضُّحٰى فرما کر آپ کے رخِ انور کے حُسن کا چرچا فرمایا۔ ([5]) جہاں تک بات رہی ان پاک ہستیوں کی جوصبح وشام اس سراجِ مُنیر“ اور ”  طٰہٰ  “ کے دیدار سے مشرف ہوتے تھے، انہوں نے اپنے جذبات و احساسات واِدراکات کے مُطابِق ان کے حُسن کو بیان کیا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے حُسن کو کوئی بیان کرہی نہیں سکتا۔

کسی جا ہے طٰہٰ و  یٰسٓکہیں پر

لقب ہے سراجا منیرا تمہارا

                                            (قبالۂ بخشش،ص18)

چاند سے بڑھ کر حسین اگرحضرتِ اَنَسرضي الله تعالى عنه نے یہ کہہ کر حُسنِ مصطفےٰ کو بیان کیا کہ ’’آپ کارنگ كمال روشن تها،گوىا آپ کا پسىنہ موتى ہے۔‘‘ ([6]) تو حضرتِ جابربن عبداللہ رضي الله تعالى عنه بھی بار بار آسمان کے چانداور مدینے کے چاند کو دیکھنے کےبعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے چاند سے زىادہ حسین معلوم ہوتے تھے۔([7])

حُسن تجھ سا کہیں دیکھا نہ سنا حضرتِ سیّدنا ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه مدحتِ مصطفےٰ میں کچھ یوں بولے: مىں نے کوئى شے نبیِّ مکرّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زىادہ خوبصورت نہ دىکھى، گوىا آفتاب ان کے چہرے مىں رواں ہے([8]) اور فرمایا: جب آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکراتے دىوارىں روشن ہو جاتىں اور دانتوں کا نور دھوپ کی کرنوں کی طرح ان پر پڑتا۔([9])

بعض صَحابۂ کرام رضي الله تعالى عنهم نے یہاں تک فرمایا: خوشى کے وَقْت چہرۂ مُبارَک اس قدر چمکتا کہ دىواروں کا عکس اس مىں نظر آتا۔([10]) حضرتِ سیّدُنا کَعْب بن مالک رضي الله تعالى عنه نے رُخِ مصطفےٰ کا نقشہ یوں کھینچا کہ جب آپ خوش ہوتے توایسےمعلوم ہوتا گویا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا رخِ انور چاند کا ٹکڑا ہے۔([11])

 کسى نے جب حضرت سیّدنا بَرَاء بن عازب رضي الله تعالى عنه سے پوچھا: کىا آپ کا چہرۂ مبارکہ تلوار کى مانند چمکتا تھا؟ فرماىا: نہىں! بلکہ چاند کى طرح چمکتا تھا۔([12])

حضرتِ سیّدَتُنا عائِشہ صدّیقہ رضي الله تعالى عنها کے ہاتھ سے  جب سوئی گرجاتی ہے اور ہر چند تلاش کے باوجود نہیں مل سکتی تو حضور ماہ ِمدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تشریف لاتے ہی رُخِ انورکی روشنی سے سارا کمرہ روشن ہو جاتا ہے اور سُوئی چمکنے لگ جاتی ہے۔([13])

سُوزنِ گم شدہ ملتی ہے تَبَسُّم سے تِرے

شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا

                                                                (ذوقِ نعت،ص25)

آنکھ بھر کر نہ دیکھ سکے آئیے حضرتِ سیّدَتُنا حلیمہ رضي الله تعالى عنها سے پہلی زیارت کے تاثرات بھی ملاحظہ کیجئے، فرماتی ہیں:حضور سیّدعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان کے حُسن و  جمال کی وجہ سے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، میں آہستہ سے ان کے قریب ہو گئی اور اپنا ہاتھ ان کے سینہ مُبَارَک پر رکھا تو آپ مسکرا تے ہوئے میری طرف دیکھنے لگے۔ حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں سےایک نور نکلا جو آسمان کی بلندیوں میں پھیل گیا۔([14])

حقیقت توحضرتِ عَمْرو بن عاص رضي الله تعالى عنه بیان فرماتے ہیں،چنانچِہ فرمایا: میرے نزدیک رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بڑھ کر کوئی حسین تَر نہیں تھا، میں حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقدّس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا، اگر کوئی مجھے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے محامدومحاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آنکھ بھرکر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ ([15])

کسے ہے دیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب

وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں

                                                                     (ذوقِ نعت،ص197)

نُبُوّت پر دلیل حضرتِ سیّدنا عبد الله بن رَوَاحہ رضي الله تعالى عنه نے فرمایا: اگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مُبارَکہ میں روشن نشانیاں (دیگرمعجزات) نہ بھی ہوتیں تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرۂ انور ہی آپ کے نبی ہونے کی خبردے دیتا۔([16])

حضرتِ سیّدَتُنا عائشہ صدّىقہ رضي الله تعالى عنها فرماتى ہىں: آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا حُسن عالَم سے نرالا اور رنگِ بدن نہاىت روشن تھا، جو آپ کا وصف بیان کرتا وہ چودھوىں رات کے چاند سے تشبىہ دىتا اور آپ کا پسىنہ مبارک چمک اور صفائى مىں موتی کے مانند تھا۔([17])

آئیے حضرتِ سیّدُنا ابنِ عباس رضي الله تعالى عنہما کاارشاد پڑھیئے اور حُبِِّ مصطفےٰ سے اپنے دل کومنوّرکیجیے، چنانچہ فرماتے ہیں:حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سایہ نہ تھا آپ سورج کی روشنی میں کھڑے ہوتےتو آپ کے جسمِ انورکی روشنی سورج کی روشنی پر غالِب آجاتی اور اگر آپ چراغ کے پاس کھڑے ہوتے تو آپ کے جسمِ انورکی روشنی چراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔([18])

سرورِ کائنات، شاہِ موجودات  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک و بے مثال حسن و جمال کے بارے میں کہاں تک لکھا جائے!  اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہلکھتے ہیں:

لیکن رضاؔ نے ختمِ سُخن اس  پہ کردیا

خالِق کا بندہ خَلْق کا آقا کہوں تجھے

                                                                               (حدائقِ بخشش،ص175)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس جامعۃالمدینہ ،مدینۃالاولیاء ملتان



[1] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج2،ص8ماخوذاً

[2] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص125، ماخوذاً

[3] ۔۔۔ ایضاً، ص126

[4] ۔۔۔ نورالعرفان، ص839

[5] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص126 ماخوذاً

[6] ۔۔۔ مسلم، ص978، حدیث:6054 ماخوذاً

[7] ۔۔۔ ترمذی،ج 4،ص370، حدیث:2820

[8] ۔۔۔ ترمذی،ج5،ص369، حدیث:3668

[9] ۔۔۔ جامع معمر بن راشد ملحق بمصنف عبدالرزاق،ج 11،ص259، رقم:20490

[10] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص123

[11] ۔۔۔ بخاری،ج2،ص488، حدیث:3556 ماخوذاً

[12] ۔۔۔ ایضاً،حدیث:3552

[13] ۔۔۔ القول البدیع، ص302

[14] ۔۔۔ سيرت حلبیہ،ج1،ص132

[15] ۔۔۔ مسلم،ص71،حدیث:321 ملخصاً

[16] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج1،ص531 ماخوذاً

[17] ۔۔۔ دلائل النبوۃ ، ص360، رقم:554

[18] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج2،ص40

Share

چہرہ نور کا

(1)نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کاپہلاغزوہ

حضرتِ سیّدُنا امام محمد بن اسحاقرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَبْوَاء

یعنی حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نےسب سےپہلا غزوہ مقامِ اَبْوَا میں فرمایا۔

(بخاری،ج3،ص3۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5،ص463)

(2)راہِ خدا میں سب سے پہلے تیر کس نےچلایا؟

حضرتِ سیّدُنا جابر بن سَمُرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ

 یعنی اللہ کریم کی راہ میں سب سےپہلےتیر چلانے والے حضرتِ سیّدُنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔

(الاوائل للطبرانی،ص53،رقم:25، بخاری،ج3،ص115،حدیث:4326)

(3) راہِ خدا میں سب سے پہلے تلوارکس نےنکالی؟

حضرتِ سیّدُنا ہشام بن عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتےہیں : كَانَ الزُّبَيْرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

یعنیاللہ تعالیٰ کی  راہ میں سب سےپہلے تلوارنکالنے والے حضرتِ سیّدُنا زبیر بن عوّامرضی اللہ تعالٰی عنہہیں۔

(مصنف عبدا لرزاق،ج5،ص196،حدیث:9709)

(4)راہِ خدا میں   سب سے پہلے گھوڑادوڑانے والے

حضرتِ سیّدُنا قاسم بن عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَنْ عَدَا بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمِقْدَادُ  

یعنی راہِ خدا  میں سب سےپہلے گھوڑادوڑانے والے  حضرتِ سیّدُنا مقداد(بن اسود) رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ،ج19،ص526،رقم:36933)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی                               

Share

چہرہ نور کا

محبت و عشق دل اگر کسی کی جانب مائل ہوجائے تو اسے”مَحبّت“ کہا جاتا ہے اور یہی محبت اگر شدّت اختِیار کرلےتو ”عشق“ کہلاتی ہے۔ عشق دو طرح کا ہوتا ہے ،مجازی(یعنی انسانوں کا انسانوں  سے  عشق) اور حقیقی( یعنی محبتِ خداومصطفٰی عَزَّ  وَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )۔عشق مجازی اکثرراہ ِدوزخ پر لے جاتاجبکہ عشق حقیقی شاہراہ جنّت پر گامزن کرتا ہے ،عشق مجازی تباہ وبرباد کرتا ہے اور عشق حقیقی شاد وآباد کرتا ہے۔ عشق حقیقی میں  بڑی قوت ہوتی ہے ،یہ کبھی  سَخْت طوفان کا سامنا کرتا، کبھی فرعون کا مقابلہ کرتا،کبھی حکم ِالٰہی پرقربانی کے لئےسَر رکھ دیتا اور کبھی  بے خطر آگ میں کود پڑتا ہے جبکہ عقل  تکتی رہ جاتی ہے۔

بے خطرکُود پڑا آتشِ نَمرود میں عشق                       عقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی

عشقِ حقیقی کے ثمرات:عشقِ  حقیقی سے مراداللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبتِ کامل ہے ،یہ دولت بے بہا جس کے خزانۂ دل میں جمع  ہوجاتی ہے اُسے فانی کائنات سے بیگانہ کردیتی ہے ،وہ ہَمَہ وقت محبوب کے تصوروجلوؤں  میں گم رہتا ہے اور محبت ومعرفت  کی لذّت میں کھو کردنیا سے کنارہ کش ہوجاتا ہے،پھر  وہ  محبوب کی سنتا ،محبوب کی مانتا اور اُسی کی چاہت پر چلتا ہے حتَّی کہ محبوب کے نام پر جان تک قربان  کردیتا ہے۔

ایمانِ کامل کی بنیاد:عشقِ الٰہی  کے بعد سب سے بڑی  نعمت  عشق ِرسولہے اور حقیقت یہ ہے کہ  عشق رسول کے بغیر بندۂ مومن کا گزارا ہوہی نہیں سکتا۔مومن تبھی کامل مومن ہوتا ہے جب وہ ساری کائنات سے بڑھ کر سرورِ کائنات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت  کرے، خود اپنی زَبانِ حق ترجمان سے ارشاد فرمادیا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے والدین، اولاد، گھروالوں،تمام لوگوں ،اپنی جان اورمال سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔( مسلم،ص47،حدیث:168، 169۔سنن الکبری للنسائی،ج 6،ص534، حدیث:11744)

 عشقِ رسول کے فوائد:یہ محبت شدّت  اختِیار کرنے پرعشقِ  رسول کا روپ دھار لیتی ہے اور کامل ہونے پرعشقِ رسول کیا کرتا ہے؟ حضرت مولانا صوفی محمد اکرم رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَویکی زبانی سنیئے:عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اگر پورے طورپر دل میں جاگزیں ہوتو اتّباعِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ظہور ناگزیر بن جاتا ہے، احکامِ الٰہی کی تعمیل اور سیرتِ نبوی کی پیروی عاشق کے رگ و ریشہ میں سماجاتی ہے، دل و دماغ اور جسم و روح پر کتاب و سنّت کی حکومت قائم ہوجاتی ہے، مسلمان کی مُعاشرت سنور جاتی ہے، آخِرت نکھرتی ہے، تہذیب و ثقافت کے جلوے بکھرتے ہیں اور بے مایہ انسان میں وہ قوت رونما ہوتی ہے جس سے جہاں بینی و جہاں بانی کے جوہر کُھلتے ہیں۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں              یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

          (صحابہ کرام کا عشق رسول،ص17)

سچے عاشقانِ رسول:سچّی بات ہے کہ عشقِ رسول  کی تاثیر بڑی حیرت انگیز ہے،یہ مشکلات میں بندۂ مومن کی بھرپور راہنمائی کرتا،روحانی بیماریوں کا شافی علاج کرتا، اندھیروں میں روشنی بکھیرتا،بھٹکے ہوئے آہوؤں  کوسوئے حرم لے جاتا اور مخلوق کو خالق سے ملاتا ہے ۔یہ عشق ِرسول ہی تو ہے جس نے  حضرات ِصَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو غلامی محبوب میں ایسا مُسْتَغْرق و مُنْہَمک کردیا کہ انہیں دنیا کی کسی شے اور نسبت سے کوئی غرض نہ رہی،وہ سب کچھ برداشت کرسکتے تھے مگرانہیں اپنے جانِ جاناں اور دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی شانِ اقدس میں ذَرَّہ بھربے اَدبی گوارہ نہیں  تھی،وہ اپنے آقا ومولا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر شے سے بے پناہ محبت کرتے تھے، بات  اگرشریعت مصطفٰی کی بالادستی  اور نفاذ کی ہوتی  تووہ نفوس قدسیہ اپنی ذوات تک کو بھی مستثنیٰ نہیں سمجھتے تھے،ہر حکِم نبوی کے سامنے سرِتسلیم خَم  تھا۔صحابہ کا اندازِ عشق یہ عشقِ رسول ہی تھاکہ رَحْمتِ عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وضو کا پانی یاجسِم اَطْہر سے جُدا ہونے والے بال حاصل کرنے میں بے حد کوشش کرتے،آپ کالُعابِِ دَہن ہاتھوں میں لے کر چہروں اور جسم  پر ملتے  تھے۔ مصطفٰی جانِ رَحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پوچھتے:مَایَحْمِلُکُمْ عَلَی ہٰذَا یعنی  کیا چیز تمہیں ایسا کرنے پر اُبھارتی ہے؟ تو”جان ہے عشقِ مصطفےٰ“ کے سچےّمصداق عرض کرتے:حُبُّ اللہِ وَرَسُوْلِہٖیعنی اللہ ورسول کی محبت ہم سے ایسا کرواتی ہے۔(مشکوٰۃ،ج2،ص216،حدیث:4990)اسی لئے تو کوئی صدیقِ اکبر،کوئی فاروقِ اعظم،کوئی غنی وباحیا اورکوئی شیرخدا ومشکل کشا بن گئے، الغرض اس نعمتِ عظمٰی کی بدولت  ہرصَحابی آسمانِ ہدایت کا دَرَخْشَنْدہ ستارہ بن گیا رضی اللہ تعالٰی عنہم  ۔عشقِ رسول انسانوں تک محدود نہیں عشقِ رسولسے  نہ صِرْف انسان مزیّن وآراستہ ہوئے بلکہ  دیگر مخلوقات بھی روشن ومنور ہوئیں،کتبِ احادیث و سیرت کے مُطَالعہ  سے  یہ بات عیاں ہے کہ جن واِنس ہوں یاحورومَلَک،شجر و حجرہوں یاچرندوپرند،چوپائے ہوں یا حشراتُ الارض الغرض مخلوق میںعاشقانِ رسول کی طویل فہرستیں ہیں،محبتِ رسول کے ایمان افروز واقعات ہیں،اُلفتِ رسول کی  لازوال داستانیں ہیں  اورچاہتِ رسول کی  خوبصورت یادیں ہیں  ۔

حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کیوں محبت کی جائے؟آخر کیا وجہ ہے کہ چہار دانگ عالَم میں حضورجانِ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے محبت وعشق  کا شہرہ ہے؟بات دراصل یہ ہے کہ کسی سے محبت وعشق کی جتنی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں  اور جتنے بھی اسباب ممکن ہیں وہ تمام بَدرجۂِ اتم  حضورنبیِّ آخرُالزّمان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات اقدس میں موجود ہیں ،حسن وجمال ہو یا زہدوتقوی،علم وحکمت ہو یا جودو سخا،شفقت ورحمت ہو یا حسنِ اخلاق،قوت وطاقت ہویا دادودہش ،عِلْم واَدب کی تعلیم ہو یا تربیَت وتنظیم کی راہنمائی ،دنیا وآخِرت کے مصائب کو دور کرنا ہو یاپھرعنایات واحسانات ہوں،یہ سب خوبیان وکمالات ذاتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں اپنی انتہا پر ہیں تو پھر کیوں نہ ہرمخلوق آپ  سے محبت کرے اورخود  کوعاشقانِ رسولمیں شامل کرے ۔عشقِ رسول کی نشانیاں پیارے اسلامی بھائیو!”عاشقِ رسول“کی کچھ علامات ونشانیاں ہوتی ہیں،ہمیں اپنے اندر ان نشانیوں کو تلاش کرنا چاہیے،وہ یہ ہیں :(1)عاشقِ رسول اپنے  محبوبِِ اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے انتہا تعظیم وتکریم کرتا ہے(2)وہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کثرت سے کرتا ہے(3)وہ اُن پر بکثرت دُرُود وسلام پڑھتا ہے (4)وہ  اپنے رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان وعظمت سن کر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ مزید شان سامنے آجائے (5)وہ اپنے مُقدّس ومُطہّر نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عیب سننا ہرگز گوارا نہیں کرتا ہے کیونکہ جب عیب زدہ محبوب کا عیب لوگ نہیں سنتے تو پھر جو ہستی  ہر طرح کے ظاہری وباطنی عیب سے مُنزّہ وپاک ہو تو اُس کا عیب کیسے سنا جاسکتا ہے(6)وہ اپنے محبوبِِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے(7)اپنے محبوبِ اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پیاروں یعنی صَحابہ واہلِ بیت سے محبت کرتا ہے (8)محبوبِِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نسبتوں سے پیار کرتا ہے (9)پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دشمنو ں سے نفرت وعداوت رکھتا ہے  اور (10)عاشقِ رسولاپنے محبوب رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت واتّباع کرتا ہے۔جان ہے عشقِ مصطفٰے حرفِ آخر یہ ہے کہ جس  مسلمان کے دل میں عشقِ رسول کی شمع روشن ہوجاتی ہے،وہ مَحبتِ رسول کے جام پی لیتا ہے ،شب وروزاسی محبت میں گزارتا ہے اورعشقِ رسول کی لازوال لذّت سے آشنا ہوجاتا ہے تو پھر بقولِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ وہ اپنی زَبان حال وقال سے یہی کہتا نظر آئے گا:

جان ہے عشقِ مصطفےٰ روز فُزوں کرے خدا                  جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں

(حدائق بخشش،ص94)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ تراجم ،المدینۃالعلمیہ ،باب المدینہ کراچی                                           

Share

چہرہ نور کا

حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی مبارَکہ  کا ہر گوشہ ہر طرح سے کامل و اکمل ہے جس طرح علم وحلم، عَفْو و دَرگزر، زہد و تقویٰ، عدل و انصاف وغیرہ میں آپ کا کوئی ثانی نہیں اسی طرح شجاعت و بہادری میں بھی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنی مثال نہیں رکھتے ۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شجاعت کا باب بھی ایک بحرِِزخّار (نہایت وسیع وعریض سمندر)ہے جس کے بیان کے لئے  دفتر درکار ہے۔ یہاں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شجاعت کے چند گوشوں کا ذکر ملاحظہ ہو:غزوات میں آپ کی شجاعت: غزوۂ احد: حضرت سیّدنا مِقْداد بن عَمْرو رضی اللہ تعالٰی عنہما غزوۂ احد کی داستان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مشرکین نے قتل و غارت کرکے ہمیں نقصان پہنچایا مگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے آپ ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے بلکہ دشمن کے سامنے کھڑے اپنی کمان سے تیر برسا  تے رہے۔ ایک بار آپ کے صَحابہ کا ایک گروہ آپ کی طرف آتا۔ دوسری بار (دشمن کے شدید حملہ کی جہ سے )آپ سے دور رہ جاتا۔  میں نے جب بھی آپ کو دیکھا آپ اپنی جگہ  پر  شجاعت کے ساتھ اپنی کمان سے کفّار پر تیر برسا رہے تھے۔ حتّٰی کہ مشرکین پیچھے ہٹ گئے۔(سبل الہدیٰ والرشاد،ج4،ص197) منقول ہے کہ جنگِ اُحُد میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ایک تلوار تھی جس پر یہ شعر لکھا تھا:

في الجبن عار وفي الإقبال مكرمة                                              والمرء بالجبن لا ينجو من القدر

یعنی  بزدلی میں عار (عیب) ہے اور بڑھنے  میں بزرگی ، آدمی   بزدلی  سے قضا و قدر(تقدیر) سے نہیں بچ سکتا۔(سیرتِ حلبیہ،ج2،ص303)

غزوۂ حنین: صَحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان  کا بیان ہے کہ جنگِ حنین میں بارہ ہزار مسلمانوں کا لشکر کفّار کے حملوں کی تاب نہ لا کر  پسپا ہو گیا تھا اور کفّار کی طرف سے لگاتار تیروں کی بارش ہورہی تھی۔ اس وقت رسول اﷲ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔آپ  ایک سفید خچر پر سوار تھے اور حضرتِ سیّدنا ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ تعالیٰ  عنہ خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکیلے ہی  لشکروں کے ہجوم کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے  اور یہ کلمات زبانِ اقدس پر جاری تھے:

اَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ         اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطّلب کا بیٹا ہوں۔ (بخاری ،ج3،ص111،حدیث:4317،سیرتِ مصطفیٰ،ص620،زرقانی،ج3،ص517)  جب کافر بہت نزدیک آگئے تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سواری سے اتر کر مٹّھی بھر خاک ان پر پھینک کر فرمایا: ”شَاهَتِ الْوُجُوهُ(یعنی کفّار کے چہرے بگڑیں) سب کی آنکھوں میں  مٹّی پہنچی اور  کفّار پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ ( مسلم،ص758حدیث:4619) غزوۂ بدر: حضرتِ سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں: غزوۂ بدر کے دن ہم نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پناہ میں اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم سب سے زیادہ دشمن کے قریب ہوتے تھے۔ اس دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لڑائی میں سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور تھے۔ (شرح السنۃ،ج7،ص47،حدیث:3592) پہلوانوں کو پچھاڑنے کے واقعات رُکَانہ کو پچھاڑنے کا واقعہ: عَرَب کا مشہورپہلوان رُکَانہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے سے گزرا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد!  اگر آپ مجھ سے کشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کی دعوتِ اسلام کو قبول کر لوں گا۔ حضور نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیرتک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد   خُداکی قسم! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کاکوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دم زدن(یعنی فوراََ) میں مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔(زرقانی،ج6،ص101) ابوالاسود پہلوان کو پچھاڑنے کا واقعہ: ابو الاسودجُمَحی اتنا بڑا طاقتور پہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں پاتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آکر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اس سے کشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس طاقتِ نبوّت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔ (زرقانی،ج6،ص103) یزید بن رُکَانہ کو پچھاڑنے کا واقعہ: رکانہ کا بیٹا یزید بن رُکَانہ بھی مانا ہوا پہلوان تھا یہ تین سو بکریاں لے کر بارگاہ نُبُوّت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد!   آپ مجھ سے کشتی لڑیئے۔ آپ تیار ہو گئے اور اس سے ہاتھ ملاتے ہی اس کو زمین پر پٹک دیا۔ پھر دوبارہ اس نے کشتی لڑنے کے لئے چیلنج دیا آپ نے دوسری مرتبہ بھی اس کی پیٹھ زمین پر لگا دی۔ پھرتیسری بار اس نے کشتی کے لئے للکارا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا چیلنج قبول فرما لیا اور کشتی لڑ کر اِس زورکے ساتھ اس کو زمین پر دے مارا کہ وہ چِت ہو گیا۔ کہنے لگا کہ اے محمد! سارا عرب گواہ ہے کہ آج تک کوئی پہلوان مجھ پر غالب نہیں آسکا، مگر آپ نے تین بار جس طرح مجھے کشتی میں پچھاڑا ہے اس سے میرا دل مان گیا کہ یقیناً آپ   اللہ کے نبی ہیں، یہ کہا اورکلمہ پڑھ کر دامنِ اسلام میں آ گیا۔(زرقانی،ج6،ص103)

جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں                       ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش،ص303)

 شجاعتِ مصطفےٰ بزبانِ صحابہ  فرمانِ شیرِِ خُدا: رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے مثال شجاعت کےبارےمیں  حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے بہادر صحابی کا یہ قول ہے کہ جب لڑائی خوب گرم ہو جاتی تھی اور جنگ کی شدت دیکھ کر بڑے بڑے بہادروں کی آنکھیں پتھرا کر سرخ پڑ جایا کرتی تھیں اس وقت میں ہم لوگ رسولُ اﷲ  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم سب لوگوں سے زیادہ آگے بڑھ کر اور دشمنوں کے بِالکل قریب پہنچ کر جنگ فرماتے تھے۔ ہم لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر وہ شخص شمار کیا جاتا تھا جو جنگ میں رسولُ اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قریب رہ کر دشمنوں سے لڑتا تھا۔ (الشفا،ج1،ص116) فرمانِ حضرت انس بن مالک: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں میں سب سے زیادہ حَسین، سب سے زیادہ سَخی اور سب سے زیادہ  بہادر تھے ایک رات اہلِ مدینہ نے کوئی خوفناک آواز سنی لوگ اس آواز کی طرف دوڑے تو انہوں نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آواز والی جگہ کی طرف سے واپس آتے ہوئے پایا کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان سے پہلے اس آواز کی طرف تشریف لے گئے تھے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھوڑے کی ننگی پُشت پر  سوار تھے، گلے میں تلوار لٹک رہی تھی اور فرمارہے تھے: ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے، ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ (الشفا،ج1،ص116) فرمانِ حضرت براء: اللہ پاک کی قسم جب لڑائی سخت زوروں پر ہوتی تھی تو ہم آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ ہم میں وہ سب سے زیادہ بہادر تھے ہم ان کے سہارے دشمن سے مقابلہ کرتے تھے۔  (شرح السنۃ،ج7،ص46،حدیث:3591) فرمانِ حضرت عبداﷲ بن عُمَر : حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ بہادر اور طاقتور میری آنکھوں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ (سننِ دارمی،ج1،ص44، رقم:59) فرمانِ حضرت عمران بن حَصِین: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب کسی لشکر کےمقابل ہوتے تو مسلمانوں میں سب سے پہلے حملہ کرتے۔ (مدارج النبوۃ مترجم،ج1،ص142) طاقتِ نبوّت: غزوۂ احزاب کے موقع پر صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان  جب خندق کھود رہے تھے ایک ایسی چٹان ظاہر ہو گئی جو کسی طرح کسی شخص سے بھی نہیں ٹوٹ سکی مگر جب آپ    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس  پر  پھاوڑا  مارا  تو وہ ریت کے بھر بھرے  ٹیلے کی طرح بکھر کر پاش پاش ہو گئی۔

(بخاری،ج3،ص51،حدیث:4101ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code