سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

باتیں میرے حضور کی

سیرتِ مصطفےٰ (ولادت تا وصال مختصر)

اعجاز نوازعطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الاول 1440

نام ونسب حُضُورنبیِّ رَحْمت شفیعِ اُمَّت   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا نامِ نامی اسمِ گرامی’’محمد‘‘ہے۔ دیگرآسمانی کتابوں میں آپ کا نام ’’احمد‘‘ مذکورہے جبکہ قراٰن واَحادیث وسیرت کی کتب میں آپ کےسینکڑوں صفاتی نام ذِکْرکئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں : ’’مُزَّمِّل ، مُدّثّر ، رَءُوْف ، رَحِیم ، مُصطفٰے ، مجتبیٰ ، مرتضیٰ‘‘ وغیرہ جبکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   قبیلۂ قریش کےایک اعلیٰ خاندان بنو ہاشم سے تعلّق رکھتے تھے ، والد ماجد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمِنہ ہے ، والد کی طرف سے نسب یوں ہے : محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بِن ہاشِم بن عبدِمَناف بِن قُصَی  بِن کِلاب بِن مُرّہ۔ والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے : محمد بِن آمِنہ بنتِ وَہب بن عبدِ مَناف بِن زُہرہ بِن کِلاب بِن مُرّہ۔ کلاب بن مُرّہ پر جاکر آپ کے والدین کا نسب مِل جاتاہے۔ ولادت باسعادت آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی ولادت با سعادت12ربیع الاول بروز پیرمطابق20اپریل571ء کو ہوئی۔ اس تاریخ کو دنیا بھر میں مسلمان میلاد شریف مناتے ہیں۔ پرورش  آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی ولادت سے پہلے ہی  والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا۔ عمر مُبَارک تقریباً 5 سال کی ہوئی تو والدہ ماجدہ بھی وصال فرماگئیں اور آپ کی پرورش دا داجان  حضرت عبدُ الْمُطّلب   رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے کی۔ دو سال کے بعد دادا جان بھی پردہ فرماگئے اور پرورش کی ذمّہ داری آپ کے چچا ابوطالِب نے سنبھالی۔ حلیمہ سعدیہ کی قسمت چمک اٹھی شرفائے  عرب کا دستور  کہ وہ اپنے بچّوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح کے  دیہاتوں میں بھیجتے تھے تاکہ  دیہات کی صاف ستھری آب وہوا میں ان کی  جسمانی صحت اچّھی ہو جائے  اور وہ فصیح عَرَبی زَبان بھی سیکھ جائیں۔ اسی دستور کے موافق والدہ ماجدہ نے بچپن میں آپ کو حضرتِ حلیمہ سعدیہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے ساتھ ان کےقبیلے بھیج دیاجہاں وہ  آپ کو دودھ پلاتی رہیں۔ اس عرصے میں آپ سے کثیر برکات  کا ظہور ہوا۔ مبارک بچپن بچپن میں آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا جُھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا ، چاند آپ کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ بچّوں کی عادت کے مُطابق کبھی بھی کپڑوں میں بول و براز نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ ایک معَیّن وَقْت پر رفع حاجَت فرماتے۔ عُمْرِ مُبَارک چند سال ہوئی تو باہر نکل کر بچّوں کو کھیلتادیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہ ہوتے ، لڑکے کھیلنے کے لئے بلاتے تو فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔ جوانی وکاروبار آپ کی جوانی سچائی ، دیانتداری ، وفاداری ، عہدکی پابندی ، رحم وسخاوت ، دوستوں سے ہمدردی ، عزیزوں کی غمخواری ، غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری ، الغرض تمام نیک خصلتوں کا مجموعہ تھی۔ حِرْص ، طَمع ، دَغا ، فریب ، جُھوٹ ، شراب نوشی ، ناچ گانا ، لوٹ مار ، چوری  اور فحش گوئی وغیرہ تمام بُری عادتوں ، مذموم خصلتوں  اور عُیُوب ونَقائِص سے آپ کی ذاتِ گرامی پاک وصاف رہی۔ آپ کی راست بازی اور امانت ودیانت کا چرچا دُوردُور تک پہنچ چکاتھا ۔ تجارت آپ کا خاندانی پیشہ تھا ، 13سال کی عمر میں آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے پہلی بار اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کاتجارتی سفر فرمایا  جبکہ23سال کی عمر میں بغرضِ تجارت حضرتِ خدیجہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا مال لے کر اُن کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملکِ شام کا دوسرا سفراختیارکیا۔ نکاح واَزواجِ مُطہَّرَات آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےچارسےزائد نکاح فرمائے جو آپ کی خصوصیت ہے۔ پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے فر مایااور جب تک وہ حیات رہیں دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ آپ کی گیارہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کے اَسمائے گرامی یہ ہیں : (1)حضرتِ خدیجۃُ الکبریٰ(2)حضرتِ سَودَہ (3)حضرتِ عائشہ (4) حضرتِ حَفْصہ(5)حضرتِ اُمِّ سَلَمہ (6)حضرتِ اُمِّ حبیبہ(7)حضرتِ زینب بنتِ جَحش (8)حضرتِ زینب بنتِ خُز یمہ(9) حضرت ِمیمونہ(10)حضرتِ جُویریہ(11) حضرتِ صَفِیّہ     رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ  ۔ آپ کی تین باندیوں کے نام یہ ہیں : (1)حضرتِ مارِیہ قِبْطِیَّہ (2) حضرتِ رَیحانہ (3)حضرتِ نفیسہ     رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ  ۔ اولاد آپ کے تین شہزادے : (1)حضرت قاسم(2)حضرت عبدُاللہ(طیب وطاہر) اور (3)حضرت ابراہیم     رضی اللہ تعالٰی عنہم  اور چارشہزادیاں ہیں : (1)حضرتِ زینب (2) حضرتِ رُقیّہ(3)حضرتِ اُمّ کُلثوم (4)حضرتِ فاطمۃُ الزّہراء  رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ   ۔ آپ کی تمام اولاد مبارک حضرتِ خدیجہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے ہوئی البتہ حضرتِ ابراہیم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ ماریہ قبطیہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے شکم سے پیدا ہوئے۔ رشتہ دار چارمشہور چچا : (1) حضرتِ حمزہ (2)حضرتِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما(3) ابو طالِب (4)ابولہب۔ چار پھوپھیاں : (1) حضرتِ صفیہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  (2) عاتِکہ(3)اُمیمہ (4)اُمّ حکیم۔ عبادت وریاضت و پہلی وحی 40 سال کی عمر میں آپ  مکۂ مکرمہ سے تقریباً تین میل دورغارِحرا میں تشریف لے جاتے اور رب تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔ یہیں آپ پر پہلی وحی کانزول ہوا ۔ اِعلانِ نبوت ودعوتِ اِسلام چالیس سال کی عمر میں ہی آپ نے اِعلانِ نُبوّت فرمایا ، پھرتین سال تک پوشیدہ طورپر تبلیغِ اسلام کا فریضہ سَرانجام دیتے رہے ، خواتین میں سب سے پہلے آپ کی زوجہ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ، مَردوں میں سب سے پہلےحضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بچوں میں سب سے پہلےحضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِخدا  رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِسلام لائے ، پھرحضرتِ عثمانِ غنی ، حضرتِ زبیر بن عوام ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت طَلحہ بِن عُبَیْدُ اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہمبھی دامَنِ اِسلام میں آگئے۔ قریش کو دعوتِ اِسلام  تین سال کے بعدآپ نے رب تعالیٰ کے حکم سے اپنے قبیلے والوں کو دعوتِ اِسلام دی ، عذاب الٰہی سے ڈرایا ، لیکن انہوں نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ناراض ہوکر نہ صرف چلے گئے بلکہ آپ کے خلاف اَول فَول بکنے لگے۔ اِعلانیہ دعوتِ اِسلام اورکفارکا ظلم وستم اِعلانِ نبوت کے چوتھے سال آپ اعلانیہ طور پر دِینِ اِسلام کی تبلیغ فرمانے لگے ، شِرک وبُت پرستی کی کھلم کھلا بُرائی بیان فرمانے لگے  جس پر کفار آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے  نیز   آپ کو اور دیگر مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔ شَعبِ ابی طالب میں محصوری  آپ  کے چچا حضرت حمزہ اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قبول اسلام سے دِینِ اسلام کو بہت تقویت ملی لیکن پھر بھی کفّارکی مخالفت ختم نہ ہوئی بلکہ دِن بَدِن  بڑھتی ہی گئی۔ کفارنے آپ کے خاندان والوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے ایک پہاڑ کی گھاٹی تک محصورکردیا جسے ’’شعبِ ابی طالب‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ تین سال رہے اور آپ کوبڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اہلِ مدینہ کا قبولِ اسلام حج کے موقع پر آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل کو دعوتِ اِسلام دیتے اورہرسال کچھ لوگ اِسلام قبول کرلیتے۔ اعلانِ نبوت کےتیرہویں سال مدینے سے آئے ہوئے 72افراد نے اِسلام قبول کیا اور واپَس جاکر اپنے یہاں دعوتِ اِسلام دینا شُروع کردی اوررفتہ رفتہ  شمعِ اسلام کی روشنی مدینہ سے قُباتک گھر گھرپھیل گئی۔ ہجرتِ مدینہ اعلانِ نبوت کے تیر ہویں سال سرکارِ مدینہ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینۂ منورہ جانے کی اجازت عطا فر مائی اور بعد میں حضرتِ سیّدنا ابو بکر صدِّیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خود بھی  ہجرت کرکے  وہاں تشریف لے گئے۔ مدنی حیاتِ طیبہ ہجرت کے بعد آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مدینۂ منوّرہ کو گیارہ سال شرفِ قیام بخشا ، اِن سالوں پیش آنے والے مختلف اہم  واقعات کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے۔ پہلا سال  مسجدِقُبا ومسجدِنبوی کی تعمیرکی گئی ، پہلا جمعہ ادا فرمایا ، اَذان واِقامت کی ابتدا ہوئی۔ دوسرا سال قبلہ تبدیل ہوایعنی بیتُ الْمقدّس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نَماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ، رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے ، نمازِ عیدین و قربانی کا حکم دیاگیا۔ حضرت فاطمہ زہرہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکاح ہوا۔ مسلمانوں کو غزوۂ بدر میں فتحِ مبین حاصل ہوئی۔ تیسرا سال  کفّار کے ساتھ غزوۂ اُحُد کا معرکہ درپیش آیا۔ ایک قول کے مطابِق اسی سال شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ چوتھا سال  صلوٰۃ ُالخوف کا حکم نازل ہوا۔ حضرت امام حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے حضرتِ اُمِّ سَلَمہ اور حضرتِ زینب بنتِ جَحش رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے نکاح فرمایا۔ نمازِ قصراور پردے کا حکم نازل ہوا۔ پانچواں سال آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرتِ جُویریہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے نکاح فرمایا۔ غزوۂ احزاب یعنی غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی مُصطَلق واقع ہوئے۔ تَیَمُّمْ کا حکم بھی اِسی سال نازل ہوا۔ چھٹا سال صلح حُدیبیہ اوربیعتِ رِضوان واقع ہوئے۔ آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام کی دعوت پرمشتمل خُطوط روانہ فرمائے۔ حبشہ کے بادشاہ حضرت نَجاشی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِسلام قبول کیا ۔ اسی سال آپ پرجادو کیا گیا اور اس کے توڑ کیلئے سورۂ فَلَق وسورۂ نَاس نازل ہوئیں۔ ساتواں سال غزوۂ خیبر اور غزوۂ ذاتُ الرّقاع واقع ہوئے۔ آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرتِ اُمِّ حبیبہ ، حضرتِ صَفیہ اورحضرتِ میمونہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہن  سے نکاح فرمایا۔ حضرت علیُّ المرتضیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازِعصرکیلئے آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دُعا سے سورج واپس پلٹا۔ آٹھواں سال آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لختِ جگرحضرت ابراہیم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی ، غزوۂ حنین واقع ہوا۔ مکّۂ مکرّمہ فتح ہوا۔ نواں سال شاہِ حبشہ حضرت نَجاشی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا۔ مختلف  وُفود کی بارگاہِ رِسالت میں حاضِری ہوئی ۔ حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔ غزوۂ تبوک واقع ہوا جس  کیلئے صحابہ ٔکرام  علیہمُ الرِّضوان  نے دِل کھول کر مالی معاونت کی ۔ دسواں سال اللہ کے حبیب   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لخت جگرحضرت ابراہیم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا اور اسی سال آپ نے حج ادا فرمایا جسے حُجۃُ الوداع کہا جاتا ہے۔ گیارہواں سال  ہجرت کے گیارہویں سال 12 ربیع الاول بروزپیر بمطابق 12جون632عیسوی کو63 سال کی عمر میں آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا وِصال ِظاہری ہوگیااور حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ    رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے حجرے(یعنی گھر)میں تدفین ہوئی ۔      (ماخوذ ازسیرت سیدالانبیاء ، سیرت مصطفیٰ)

محبوبِ ربِّ عرْش ہے اس سبز  قُبّہ میں پہلو میں جلوہ گاہ عَتِیْق و عُمَر کی ہے

                                  سَعْدَیْن کا قِران ہے پہلوئے  ماہ میں جُھرمَٹ کئے ہیں تارے تجلّی قَمَر کی ہے

(حدائقِ بخشش ، ص220 ، 219)


Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

حُسن و جمالِ مصطفٰے حُضُور سرورِ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات حُسن و کمال کا سَرچشمہ ہے۔ کائنات کے حُسن کا ہر ہر ذرّہ دہلیزِ مصطفےٰ کا ادنیٰ سا بھکاری ہے۔ زمانے کی تمام چمک دمک آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے دم قدم سے ہے۔ رَبِِّ کریم نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو وہ جمالِ بے مثال عطا فرمایا کہ اگر اُس کا ظہورِ کامل ہو جاتا تو اِنسانی آنکھ اُس کے جلووں کی تاب نہ لا سکتی۔([1])

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالَم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

                                                    (ذوق نعت،ص204)

قراٰن کریم میں ذِکْرِ حُسنِ مصطفٰے ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے حسن و جمال کو نہایت ہی خوبصورت اَنداز میں کبھی سِرَاجًا مُّنِیْرًا (چمکتا چراغ) سے تعبیر فرمایاکیونکہ جس طرح چراغ سے مکان کی تاریکی دور ہوتی ہے اسی طرح آپ کے وجودِ مسعودسے کُفْر و شِرْک کی تاریکی دور ہوئی اور تمام عالَم نورِ ایمان سے منوّر ہوگیا، ہاں جس طرح جس گھر میں چراغ ہو اس میں چور نہیں آتااسی طرح جس دل میں ان کی مَحبت کا چراغ روشن ہو شیطان اس کے ایمان کو چُرانے کے لئے نہیں آتااورجس طرح چراغ گھرکے اندھیرے کو دور کرتا ہے اسی طرح یہ چراغ دل کے اندھیرے کو دور کرتاہے۔ جی ہاں! جس گھر میں چراغ ہو وہاں بیٹھنے والےکا دل نہیں گھبراتا اور جس دل میں اس چراغ کی یادہو رَنْج و اَلَم اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔اور اگر سِرَاجًا مُّنِیْرًا سے مراد چمکادینے والا آفتاب ہو تومعنی یہ ہوگاکہ جس طرح سورج کا نور سارے عالَم میں پھیلا ہوا ہے اسی طرح ساراجہان آپ کے نور سے منوّر ہے اور جس طرح سورج چمک دمک میں بقیہ ستاروں سے ممتاز ہے اسی طرح آپ بھی فضائل و کمالات میں بقیّہ انبیا سے ممتاز ہیں۔ ([2])اورکبھی رب تعالیٰ نے   طٰہٰ  کا لقب دے کر آپ کو چودھویں کا چاند فرمایا، جی ہاں ’’ط‘‘ کے عدد نو ہیں اور” ہ“ کے عدد پانچ ہیں یعنی رب فرماتا ہے: اے چودھویں، کے چاند! ([3]) اور ربِّ کریم وعظیم نے ”  وَ النَّجْمِ ‘‘ سے جہاں آپ کو چمکتے تارے‘‘ کے لقب سے نوازا، ([4]) تو وہیں ’’  وَ الضُّحٰى فرما کر آپ کے رخِ انور کے حُسن کا چرچا فرمایا۔ ([5]) جہاں تک بات رہی ان پاک ہستیوں کی جوصبح وشام اس سراجِ مُنیر“ اور ”  طٰہٰ  “ کے دیدار سے مشرف ہوتے تھے، انہوں نے اپنے جذبات و احساسات واِدراکات کے مُطابِق ان کے حُسن کو بیان کیا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے حُسن کو کوئی بیان کرہی نہیں سکتا۔

کسی جا ہے طٰہٰ و  یٰسٓکہیں پر

لقب ہے سراجا منیرا تمہارا

                                            (قبالۂ بخشش،ص18)

چاند سے بڑھ کر حسین اگرحضرتِ اَنَسرضي الله تعالى عنه نے یہ کہہ کر حُسنِ مصطفےٰ کو بیان کیا کہ ’’آپ کارنگ كمال روشن تها،گوىا آپ کا پسىنہ موتى ہے۔‘‘ ([6]) تو حضرتِ جابربن عبداللہ رضي الله تعالى عنه بھی بار بار آسمان کے چانداور مدینے کے چاند کو دیکھنے کےبعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے چاند سے زىادہ حسین معلوم ہوتے تھے۔([7])

حُسن تجھ سا کہیں دیکھا نہ سنا حضرتِ سیّدنا ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه مدحتِ مصطفےٰ میں کچھ یوں بولے: مىں نے کوئى شے نبیِّ مکرّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زىادہ خوبصورت نہ دىکھى، گوىا آفتاب ان کے چہرے مىں رواں ہے([8]) اور فرمایا: جب آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکراتے دىوارىں روشن ہو جاتىں اور دانتوں کا نور دھوپ کی کرنوں کی طرح ان پر پڑتا۔([9])

بعض صَحابۂ کرام رضي الله تعالى عنهم نے یہاں تک فرمایا: خوشى کے وَقْت چہرۂ مُبارَک اس قدر چمکتا کہ دىواروں کا عکس اس مىں نظر آتا۔([10]) حضرتِ سیّدُنا کَعْب بن مالک رضي الله تعالى عنه نے رُخِ مصطفےٰ کا نقشہ یوں کھینچا کہ جب آپ خوش ہوتے توایسےمعلوم ہوتا گویا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا رخِ انور چاند کا ٹکڑا ہے۔([11])

 کسى نے جب حضرت سیّدنا بَرَاء بن عازب رضي الله تعالى عنه سے پوچھا: کىا آپ کا چہرۂ مبارکہ تلوار کى مانند چمکتا تھا؟ فرماىا: نہىں! بلکہ چاند کى طرح چمکتا تھا۔([12])

حضرتِ سیّدَتُنا عائِشہ صدّیقہ رضي الله تعالى عنها کے ہاتھ سے  جب سوئی گرجاتی ہے اور ہر چند تلاش کے باوجود نہیں مل سکتی تو حضور ماہ ِمدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تشریف لاتے ہی رُخِ انورکی روشنی سے سارا کمرہ روشن ہو جاتا ہے اور سُوئی چمکنے لگ جاتی ہے۔([13])

سُوزنِ گم شدہ ملتی ہے تَبَسُّم سے تِرے

شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا

                                                                (ذوقِ نعت،ص25)

آنکھ بھر کر نہ دیکھ سکے آئیے حضرتِ سیّدَتُنا حلیمہ رضي الله تعالى عنها سے پہلی زیارت کے تاثرات بھی ملاحظہ کیجئے، فرماتی ہیں:حضور سیّدعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان کے حُسن و  جمال کی وجہ سے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، میں آہستہ سے ان کے قریب ہو گئی اور اپنا ہاتھ ان کے سینہ مُبَارَک پر رکھا تو آپ مسکرا تے ہوئے میری طرف دیکھنے لگے۔ حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں سےایک نور نکلا جو آسمان کی بلندیوں میں پھیل گیا۔([14])

حقیقت توحضرتِ عَمْرو بن عاص رضي الله تعالى عنه بیان فرماتے ہیں،چنانچِہ فرمایا: میرے نزدیک رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بڑھ کر کوئی حسین تَر نہیں تھا، میں حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقدّس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا، اگر کوئی مجھے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے محامدومحاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آنکھ بھرکر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ ([15])

کسے ہے دیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب

وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں

                                                                     (ذوقِ نعت،ص197)

نُبُوّت پر دلیل حضرتِ سیّدنا عبد الله بن رَوَاحہ رضي الله تعالى عنه نے فرمایا: اگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مُبارَکہ میں روشن نشانیاں (دیگرمعجزات) نہ بھی ہوتیں تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرۂ انور ہی آپ کے نبی ہونے کی خبردے دیتا۔([16])

حضرتِ سیّدَتُنا عائشہ صدّىقہ رضي الله تعالى عنها فرماتى ہىں: آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا حُسن عالَم سے نرالا اور رنگِ بدن نہاىت روشن تھا، جو آپ کا وصف بیان کرتا وہ چودھوىں رات کے چاند سے تشبىہ دىتا اور آپ کا پسىنہ مبارک چمک اور صفائى مىں موتی کے مانند تھا۔([17])

آئیے حضرتِ سیّدُنا ابنِ عباس رضي الله تعالى عنہما کاارشاد پڑھیئے اور حُبِِّ مصطفےٰ سے اپنے دل کومنوّرکیجیے، چنانچہ فرماتے ہیں:حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سایہ نہ تھا آپ سورج کی روشنی میں کھڑے ہوتےتو آپ کے جسمِ انورکی روشنی سورج کی روشنی پر غالِب آجاتی اور اگر آپ چراغ کے پاس کھڑے ہوتے تو آپ کے جسمِ انورکی روشنی چراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔([18])

سرورِ کائنات، شاہِ موجودات  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک و بے مثال حسن و جمال کے بارے میں کہاں تک لکھا جائے!  اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہلکھتے ہیں:

لیکن رضاؔ نے ختمِ سُخن اس  پہ کردیا

خالِق کا بندہ خَلْق کا آقا کہوں تجھے

                                                                               (حدائقِ بخشش،ص175)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس جامعۃالمدینہ ،مدینۃالاولیاء ملتان



[1] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج2،ص8ماخوذاً

[2] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص125، ماخوذاً

[3] ۔۔۔ ایضاً، ص126

[4] ۔۔۔ نورالعرفان، ص839

[5] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص126 ماخوذاً

[6] ۔۔۔ مسلم، ص978، حدیث:6054 ماخوذاً

[7] ۔۔۔ ترمذی،ج 4،ص370، حدیث:2820

[8] ۔۔۔ ترمذی،ج5،ص369، حدیث:3668

[9] ۔۔۔ جامع معمر بن راشد ملحق بمصنف عبدالرزاق،ج 11،ص259، رقم:20490

[10] ۔۔۔ الکلام الاوضح، ص123

[11] ۔۔۔ بخاری،ج2،ص488، حدیث:3556 ماخوذاً

[12] ۔۔۔ ایضاً،حدیث:3552

[13] ۔۔۔ القول البدیع، ص302

[14] ۔۔۔ سيرت حلبیہ،ج1،ص132

[15] ۔۔۔ مسلم،ص71،حدیث:321 ملخصاً

[16] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج1،ص531 ماخوذاً

[17] ۔۔۔ دلائل النبوۃ ، ص360، رقم:554

[18] ۔۔۔ سبل الہدی والرشاد،ج2،ص40


Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

(1)نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کاپہلاغزوہ

حضرتِ سیّدُنا امام محمد بن اسحاقرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَبْوَاء

یعنی حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نےسب سےپہلا غزوہ مقامِ اَبْوَا میں فرمایا۔

(بخاری،ج3،ص3۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5،ص463)

(2)راہِ خدا میں سب سے پہلے تیر کس نےچلایا؟

حضرتِ سیّدُنا جابر بن سَمُرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ

 یعنی اللہ کریم کی راہ میں سب سےپہلےتیر چلانے والے حضرتِ سیّدُنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔

(الاوائل للطبرانی،ص53،رقم:25، بخاری،ج3،ص115،حدیث:4326)

(3) راہِ خدا میں سب سے پہلے تلوارکس نےنکالی؟

حضرتِ سیّدُنا ہشام بن عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتےہیں : كَانَ الزُّبَيْرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

یعنیاللہ تعالیٰ کی  راہ میں سب سےپہلے تلوارنکالنے والے حضرتِ سیّدُنا زبیر بن عوّامرضی اللہ تعالٰی عنہہیں۔

(مصنف عبدا لرزاق،ج5،ص196،حدیث:9709)

(4)راہِ خدا میں   سب سے پہلے گھوڑادوڑانے والے

حضرتِ سیّدُنا قاسم بن عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: أَوَّلُ مَنْ عَدَا بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمِقْدَادُ  

یعنی راہِ خدا  میں سب سےپہلے گھوڑادوڑانے والے  حضرتِ سیّدُنا مقداد(بن اسود) رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ،ج19،ص526،رقم:36933)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی                               


Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

محبت و عشق دل اگر کسی کی جانب مائل ہوجائے تو اسے”مَحبّت“ کہا جاتا ہے اور یہی محبت اگر شدّت اختِیار کرلےتو ”عشق“ کہلاتی ہے۔ عشق دو طرح کا ہوتا ہے ،مجازی(یعنی انسانوں کا انسانوں  سے  عشق) اور حقیقی( یعنی محبتِ خداومصطفٰی عَزَّ  وَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )۔عشق مجازی اکثرراہ ِدوزخ پر لے جاتاجبکہ عشق حقیقی شاہراہ جنّت پر گامزن کرتا ہے ،عشق مجازی تباہ وبرباد کرتا ہے اور عشق حقیقی شاد وآباد کرتا ہے۔ عشق حقیقی میں  بڑی قوت ہوتی ہے ،یہ کبھی  سَخْت طوفان کا سامنا کرتا، کبھی فرعون کا مقابلہ کرتا،کبھی حکم ِالٰہی پرقربانی کے لئےسَر رکھ دیتا اور کبھی  بے خطر آگ میں کود پڑتا ہے جبکہ عقل  تکتی رہ جاتی ہے۔

بے خطرکُود پڑا آتشِ نَمرود میں عشق                       عقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی

عشقِ حقیقی کے ثمرات:عشقِ  حقیقی سے مراداللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبتِ کامل ہے ،یہ دولت بے بہا جس کے خزانۂ دل میں جمع  ہوجاتی ہے اُسے فانی کائنات سے بیگانہ کردیتی ہے ،وہ ہَمَہ وقت محبوب کے تصوروجلوؤں  میں گم رہتا ہے اور محبت ومعرفت  کی لذّت میں کھو کردنیا سے کنارہ کش ہوجاتا ہے،پھر  وہ  محبوب کی سنتا ،محبوب کی مانتا اور اُسی کی چاہت پر چلتا ہے حتَّی کہ محبوب کے نام پر جان تک قربان  کردیتا ہے۔

ایمانِ کامل کی بنیاد:عشقِ الٰہی  کے بعد سب سے بڑی  نعمت  عشق ِرسولہے اور حقیقت یہ ہے کہ  عشق رسول کے بغیر بندۂ مومن کا گزارا ہوہی نہیں سکتا۔مومن تبھی کامل مومن ہوتا ہے جب وہ ساری کائنات سے بڑھ کر سرورِ کائنات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت  کرے، خود اپنی زَبانِ حق ترجمان سے ارشاد فرمادیا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے والدین، اولاد، گھروالوں،تمام لوگوں ،اپنی جان اورمال سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔( مسلم،ص47،حدیث:168، 169۔سنن الکبری للنسائی،ج 6،ص534، حدیث:11744)

 عشقِ رسول کے فوائد:یہ محبت شدّت  اختِیار کرنے پرعشقِ  رسول کا روپ دھار لیتی ہے اور کامل ہونے پرعشقِ رسول کیا کرتا ہے؟ حضرت مولانا صوفی محمد اکرم رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَویکی زبانی سنیئے:عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اگر پورے طورپر دل میں جاگزیں ہوتو اتّباعِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ظہور ناگزیر بن جاتا ہے، احکامِ الٰہی کی تعمیل اور سیرتِ نبوی کی پیروی عاشق کے رگ و ریشہ میں سماجاتی ہے، دل و دماغ اور جسم و روح پر کتاب و سنّت کی حکومت قائم ہوجاتی ہے، مسلمان کی مُعاشرت سنور جاتی ہے، آخِرت نکھرتی ہے، تہذیب و ثقافت کے جلوے بکھرتے ہیں اور بے مایہ انسان میں وہ قوت رونما ہوتی ہے جس سے جہاں بینی و جہاں بانی کے جوہر کُھلتے ہیں۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں              یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

          (صحابہ کرام کا عشق رسول،ص17)

سچے عاشقانِ رسول:سچّی بات ہے کہ عشقِ رسول  کی تاثیر بڑی حیرت انگیز ہے،یہ مشکلات میں بندۂ مومن کی بھرپور راہنمائی کرتا،روحانی بیماریوں کا شافی علاج کرتا، اندھیروں میں روشنی بکھیرتا،بھٹکے ہوئے آہوؤں  کوسوئے حرم لے جاتا اور مخلوق کو خالق سے ملاتا ہے ۔یہ عشق ِرسول ہی تو ہے جس نے  حضرات ِصَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو غلامی محبوب میں ایسا مُسْتَغْرق و مُنْہَمک کردیا کہ انہیں دنیا کی کسی شے اور نسبت سے کوئی غرض نہ رہی،وہ سب کچھ برداشت کرسکتے تھے مگرانہیں اپنے جانِ جاناں اور دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی شانِ اقدس میں ذَرَّہ بھربے اَدبی گوارہ نہیں  تھی،وہ اپنے آقا ومولا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر شے سے بے پناہ محبت کرتے تھے، بات  اگرشریعت مصطفٰی کی بالادستی  اور نفاذ کی ہوتی  تووہ نفوس قدسیہ اپنی ذوات تک کو بھی مستثنیٰ نہیں سمجھتے تھے،ہر حکِم نبوی کے سامنے سرِتسلیم خَم  تھا۔صحابہ کا اندازِ عشق یہ عشقِ رسول ہی تھاکہ رَحْمتِ عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وضو کا پانی یاجسِم اَطْہر سے جُدا ہونے والے بال حاصل کرنے میں بے حد کوشش کرتے،آپ کالُعابِِ دَہن ہاتھوں میں لے کر چہروں اور جسم  پر ملتے  تھے۔ مصطفٰی جانِ رَحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پوچھتے:مَایَحْمِلُکُمْ عَلَی ہٰذَا یعنی  کیا چیز تمہیں ایسا کرنے پر اُبھارتی ہے؟ تو”جان ہے عشقِ مصطفےٰ“ کے سچےّمصداق عرض کرتے:حُبُّ اللہِ وَرَسُوْلِہٖیعنی اللہ ورسول کی محبت ہم سے ایسا کرواتی ہے۔(مشکوٰۃ،ج2،ص216،حدیث:4990)اسی لئے تو کوئی صدیقِ اکبر،کوئی فاروقِ اعظم،کوئی غنی وباحیا اورکوئی شیرخدا ومشکل کشا بن گئے، الغرض اس نعمتِ عظمٰی کی بدولت  ہرصَحابی آسمانِ ہدایت کا دَرَخْشَنْدہ ستارہ بن گیا رضی اللہ تعالٰی عنہم  ۔عشقِ رسول انسانوں تک محدود نہیں عشقِ رسولسے  نہ صِرْف انسان مزیّن وآراستہ ہوئے بلکہ  دیگر مخلوقات بھی روشن ومنور ہوئیں،کتبِ احادیث و سیرت کے مُطَالعہ  سے  یہ بات عیاں ہے کہ جن واِنس ہوں یاحورومَلَک،شجر و حجرہوں یاچرندوپرند،چوپائے ہوں یا حشراتُ الارض الغرض مخلوق میںعاشقانِ رسول کی طویل فہرستیں ہیں،محبتِ رسول کے ایمان افروز واقعات ہیں،اُلفتِ رسول کی  لازوال داستانیں ہیں  اورچاہتِ رسول کی  خوبصورت یادیں ہیں  ۔

حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کیوں محبت کی جائے؟آخر کیا وجہ ہے کہ چہار دانگ عالَم میں حضورجانِ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے محبت وعشق  کا شہرہ ہے؟بات دراصل یہ ہے کہ کسی سے محبت وعشق کی جتنی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں  اور جتنے بھی اسباب ممکن ہیں وہ تمام بَدرجۂِ اتم  حضورنبیِّ آخرُالزّمان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات اقدس میں موجود ہیں ،حسن وجمال ہو یا زہدوتقوی،علم وحکمت ہو یا جودو سخا،شفقت ورحمت ہو یا حسنِ اخلاق،قوت وطاقت ہویا دادودہش ،عِلْم واَدب کی تعلیم ہو یا تربیَت وتنظیم کی راہنمائی ،دنیا وآخِرت کے مصائب کو دور کرنا ہو یاپھرعنایات واحسانات ہوں،یہ سب خوبیان وکمالات ذاتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں اپنی انتہا پر ہیں تو پھر کیوں نہ ہرمخلوق آپ  سے محبت کرے اورخود  کوعاشقانِ رسولمیں شامل کرے ۔عشقِ رسول کی نشانیاں پیارے اسلامی بھائیو!”عاشقِ رسول“کی کچھ علامات ونشانیاں ہوتی ہیں،ہمیں اپنے اندر ان نشانیوں کو تلاش کرنا چاہیے،وہ یہ ہیں :(1)عاشقِ رسول اپنے  محبوبِِ اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے انتہا تعظیم وتکریم کرتا ہے(2)وہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کثرت سے کرتا ہے(3)وہ اُن پر بکثرت دُرُود وسلام پڑھتا ہے (4)وہ  اپنے رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان وعظمت سن کر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ مزید شان سامنے آجائے (5)وہ اپنے مُقدّس ومُطہّر نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عیب سننا ہرگز گوارا نہیں کرتا ہے کیونکہ جب عیب زدہ محبوب کا عیب لوگ نہیں سنتے تو پھر جو ہستی  ہر طرح کے ظاہری وباطنی عیب سے مُنزّہ وپاک ہو تو اُس کا عیب کیسے سنا جاسکتا ہے(6)وہ اپنے محبوبِِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے(7)اپنے محبوبِ اعظم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پیاروں یعنی صَحابہ واہلِ بیت سے محبت کرتا ہے (8)محبوبِِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نسبتوں سے پیار کرتا ہے (9)پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دشمنو ں سے نفرت وعداوت رکھتا ہے  اور (10)عاشقِ رسولاپنے محبوب رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت واتّباع کرتا ہے۔جان ہے عشقِ مصطفٰے حرفِ آخر یہ ہے کہ جس  مسلمان کے دل میں عشقِ رسول کی شمع روشن ہوجاتی ہے،وہ مَحبتِ رسول کے جام پی لیتا ہے ،شب وروزاسی محبت میں گزارتا ہے اورعشقِ رسول کی لازوال لذّت سے آشنا ہوجاتا ہے تو پھر بقولِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ وہ اپنی زَبان حال وقال سے یہی کہتا نظر آئے گا:

جان ہے عشقِ مصطفےٰ روز فُزوں کرے خدا                  جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں

(حدائق بخشش،ص94)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ تراجم ،المدینۃالعلمیہ ،باب المدینہ کراچی                                           


Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی مبارَکہ  کا ہر گوشہ ہر طرح سے کامل و اکمل ہے جس طرح علم وحلم، عَفْو و دَرگزر، زہد و تقویٰ، عدل و انصاف وغیرہ میں آپ کا کوئی ثانی نہیں اسی طرح شجاعت و بہادری میں بھی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنی مثال نہیں رکھتے ۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شجاعت کا باب بھی ایک بحرِِزخّار (نہایت وسیع وعریض سمندر)ہے جس کے بیان کے لئے  دفتر درکار ہے۔ یہاں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شجاعت کے چند گوشوں کا ذکر ملاحظہ ہو:غزوات میں آپ کی شجاعت: غزوۂ احد: حضرت سیّدنا مِقْداد بن عَمْرو رضی اللہ تعالٰی عنہما غزوۂ احد کی داستان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مشرکین نے قتل و غارت کرکے ہمیں نقصان پہنچایا مگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے آپ ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے بلکہ دشمن کے سامنے کھڑے اپنی کمان سے تیر برسا  تے رہے۔ ایک بار آپ کے صَحابہ کا ایک گروہ آپ کی طرف آتا۔ دوسری بار (دشمن کے شدید حملہ کی جہ سے )آپ سے دور رہ جاتا۔  میں نے جب بھی آپ کو دیکھا آپ اپنی جگہ  پر  شجاعت کے ساتھ اپنی کمان سے کفّار پر تیر برسا رہے تھے۔ حتّٰی کہ مشرکین پیچھے ہٹ گئے۔(سبل الہدیٰ والرشاد،ج4،ص197) منقول ہے کہ جنگِ اُحُد میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ایک تلوار تھی جس پر یہ شعر لکھا تھا:

في الجبن عار وفي الإقبال مكرمة                                              والمرء بالجبن لا ينجو من القدر

یعنی  بزدلی میں عار (عیب) ہے اور بڑھنے  میں بزرگی ، آدمی   بزدلی  سے قضا و قدر(تقدیر) سے نہیں بچ سکتا۔(سیرتِ حلبیہ،ج2،ص303)

غزوۂ حنین: صَحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان  کا بیان ہے کہ جنگِ حنین میں بارہ ہزار مسلمانوں کا لشکر کفّار کے حملوں کی تاب نہ لا کر  پسپا ہو گیا تھا اور کفّار کی طرف سے لگاتار تیروں کی بارش ہورہی تھی۔ اس وقت رسول اﷲ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔آپ  ایک سفید خچر پر سوار تھے اور حضرتِ سیّدنا ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ تعالیٰ  عنہ خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکیلے ہی  لشکروں کے ہجوم کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے  اور یہ کلمات زبانِ اقدس پر جاری تھے:

اَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ         اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطّلب کا بیٹا ہوں۔ (بخاری ،ج3،ص111،حدیث:4317،سیرتِ مصطفیٰ،ص620،زرقانی،ج3،ص517)  جب کافر بہت نزدیک آگئے تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سواری سے اتر کر مٹّھی بھر خاک ان پر پھینک کر فرمایا: ”شَاهَتِ الْوُجُوهُ(یعنی کفّار کے چہرے بگڑیں) سب کی آنکھوں میں  مٹّی پہنچی اور  کفّار پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ ( مسلم،ص758حدیث:4619) غزوۂ بدر: حضرتِ سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں: غزوۂ بدر کے دن ہم نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پناہ میں اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم سب سے زیادہ دشمن کے قریب ہوتے تھے۔ اس دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لڑائی میں سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور تھے۔ (شرح السنۃ،ج7،ص47،حدیث:3592) پہلوانوں کو پچھاڑنے کے واقعات رُکَانہ کو پچھاڑنے کا واقعہ: عَرَب کا مشہورپہلوان رُکَانہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے سے گزرا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد!  اگر آپ مجھ سے کشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کی دعوتِ اسلام کو قبول کر لوں گا۔ حضور نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیرتک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد   خُداکی قسم! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کاکوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دم زدن(یعنی فوراََ) میں مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔(زرقانی،ج6،ص101) ابوالاسود پہلوان کو پچھاڑنے کا واقعہ: ابو الاسودجُمَحی اتنا بڑا طاقتور پہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں پاتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آکر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اس سے کشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس طاقتِ نبوّت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔ (زرقانی،ج6،ص103) یزید بن رُکَانہ کو پچھاڑنے کا واقعہ: رکانہ کا بیٹا یزید بن رُکَانہ بھی مانا ہوا پہلوان تھا یہ تین سو بکریاں لے کر بارگاہ نُبُوّت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد!   آپ مجھ سے کشتی لڑیئے۔ آپ تیار ہو گئے اور اس سے ہاتھ ملاتے ہی اس کو زمین پر پٹک دیا۔ پھر دوبارہ اس نے کشتی لڑنے کے لئے چیلنج دیا آپ نے دوسری مرتبہ بھی اس کی پیٹھ زمین پر لگا دی۔ پھرتیسری بار اس نے کشتی کے لئے للکارا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا چیلنج قبول فرما لیا اور کشتی لڑ کر اِس زورکے ساتھ اس کو زمین پر دے مارا کہ وہ چِت ہو گیا۔ کہنے لگا کہ اے محمد! سارا عرب گواہ ہے کہ آج تک کوئی پہلوان مجھ پر غالب نہیں آسکا، مگر آپ نے تین بار جس طرح مجھے کشتی میں پچھاڑا ہے اس سے میرا دل مان گیا کہ یقیناً آپ   اللہ کے نبی ہیں، یہ کہا اورکلمہ پڑھ کر دامنِ اسلام میں آ گیا۔(زرقانی،ج6،ص103)

جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں                       ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش،ص303)

 شجاعتِ مصطفےٰ بزبانِ صحابہ  فرمانِ شیرِِ خُدا: رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے مثال شجاعت کےبارےمیں  حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے بہادر صحابی کا یہ قول ہے کہ جب لڑائی خوب گرم ہو جاتی تھی اور جنگ کی شدت دیکھ کر بڑے بڑے بہادروں کی آنکھیں پتھرا کر سرخ پڑ جایا کرتی تھیں اس وقت میں ہم لوگ رسولُ اﷲ  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم سب لوگوں سے زیادہ آگے بڑھ کر اور دشمنوں کے بِالکل قریب پہنچ کر جنگ فرماتے تھے۔ ہم لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر وہ شخص شمار کیا جاتا تھا جو جنگ میں رسولُ اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قریب رہ کر دشمنوں سے لڑتا تھا۔ (الشفا،ج1،ص116) فرمانِ حضرت انس بن مالک: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں میں سب سے زیادہ حَسین، سب سے زیادہ سَخی اور سب سے زیادہ  بہادر تھے ایک رات اہلِ مدینہ نے کوئی خوفناک آواز سنی لوگ اس آواز کی طرف دوڑے تو انہوں نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آواز والی جگہ کی طرف سے واپس آتے ہوئے پایا کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان سے پہلے اس آواز کی طرف تشریف لے گئے تھے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ابوطلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھوڑے کی ننگی پُشت پر  سوار تھے، گلے میں تلوار لٹک رہی تھی اور فرمارہے تھے: ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے، ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ (الشفا،ج1،ص116) فرمانِ حضرت براء: اللہ پاک کی قسم جب لڑائی سخت زوروں پر ہوتی تھی تو ہم آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ ہم میں وہ سب سے زیادہ بہادر تھے ہم ان کے سہارے دشمن سے مقابلہ کرتے تھے۔  (شرح السنۃ،ج7،ص46،حدیث:3591) فرمانِ حضرت عبداﷲ بن عُمَر : حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ بہادر اور طاقتور میری آنکھوں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ (سننِ دارمی،ج1،ص44، رقم:59) فرمانِ حضرت عمران بن حَصِین: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب کسی لشکر کےمقابل ہوتے تو مسلمانوں میں سب سے پہلے حملہ کرتے۔ (مدارج النبوۃ مترجم،ج1،ص142) طاقتِ نبوّت: غزوۂ احزاب کے موقع پر صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان  جب خندق کھود رہے تھے ایک ایسی چٹان ظاہر ہو گئی جو کسی طرح کسی شخص سے بھی نہیں ٹوٹ سکی مگر جب آپ    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس  پر  پھاوڑا  مارا  تو وہ ریت کے بھر بھرے  ٹیلے کی طرح بکھر کر پاش پاش ہو گئی۔

(بخاری،ج3،ص51،حدیث:4101ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی


Share

سیرتِ مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت تا وصال مختصر / چہرہ نور کا

باتیں میرے حضور کی

رسول اللہ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواریاں

بلال حسین عطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الاول 1440

عاشقانِ رسول  نے رسولِ کریم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز کے ذکر کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کتبِ سیرت میں ہمیں جہاں سرکارِ دوعالَم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مُبارَک سیرت کے انوار نظر آتےہیں ، وہیں آپ سے نسبت رکھنے والی اشیاء مثلاً برتن ، نعلین (یعنی مبارک چپل) ، استعمال کی دیگر اشیاء ، خُدّام وغیرہ کا ذکر بھی ملتاہے۔ سرکارِ دوعالم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نسبت رکھنے والی خوش بخت اشیاء میں سے آپ کی  چند سواریوں کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے : بُرَاق یہ سرکارِ مدینہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سواری کے ساتھ ساتھ آپ کا معجزہ بھی ہے۔ اِس انوکھی اور جنّتی سُواری پر  حضورِ پُرنور  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے  مشہور قول کے مُطابِق 27 رجب المرجب کو مکّہ سے بیتُ الْمقدّس تک سفر فرمایا (سیرتِ مصطفےٰ ، ص736) اس کا رنگ سفید ، (مصنف ابنِ ابی شیبہ ، 7 / 422 ، حدیث : 60) سینہ مثلِ یاقوت سرخ ، اور پرندوں کی طرح دو بازو تھے۔ (سیرتِ حلبیہ ، 1 / 521 ، اخبار مکہ للازرقی ، 1 / 54)  برق کا مطلب ہے بجلی اِسے بجلی کی مانند تیز رفتار ہونے کی وجہ سے بُراق کہا جاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ یہ جانور گدھے سے قدرے بُلند اور خچّر سے قدرے چھوٹا ہے (یعنی درمیانہ قد ہے) اور جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہے وہاں اس کا قدم پڑتا ہے۔ (مسلم ، ص87 ، حدیث : 411)گھوڑےسرکارِ مدینہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو گھوڑے پسند  تھے ، آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سواری بننے کا شرف حاصل کرنے والے گھوڑوں کا مختصر ذکر کیا جاتاہے : (1)سَکْب : یہ پہلا گھوڑا تھا جو آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ملکیت میں آیا۔ آپ نے اسے بنو فَزارہ کے ایک شخص سے  دس اَوْقِیہ میں خریدا تھا اور غزوۂ اُحُد میں آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی پر سوار ہوکر شرکت فرمائی تھی۔ (2)سَبْحَہ : امام ابنِ سیرین  علیہ رحمۃ اللہ المُبِین  فرماتے ہیں : یہ گھوڑی آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ایک اَعْرابی سے خریدی تھی۔ اس گھوڑی پر آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دوڑمیں مقابلہ کیا اور یہ دوڑ میں آگے نکل گئی جس پر آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  بہت مَسْرور ہوئے۔ (3) لِزَازْ : یہ گھوڑا آپ کو مُقَوْقِس (والیِ مصر) نے تحفہ میں دیا تھا۔ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اسے اس کی سیاہ رنگت کی وجہ سے پسند فرماتے تھے۔ آپ اکثر اِسی پر سوار ہوکر غزوات میں تشریف لے جاتے۔ (4)بَحْرْ : یہ گھوڑا آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے یمن سے آئے ہوئے تاجروں سے خریدا تھا۔ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس گھوڑے پر سوار ہوکر بارہا گُھڑدوڑ میں سَبْقت کی۔ (یعنی سب سے آگے رہے) (5)المُرْتَجِزْ : یہ وہی گھوڑا ہے جس کے بارے میں آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرتِ خُزیمہ کی شہادت (گواہی) کو دو مردوں کی گواہی کے برابرقرار دیا تھا (6)ظَرِبْ : یہ گھوڑا حضرتِ سیّدُنافروہ بن عمرو جذامی  رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے آپ کو تحفہ دیا تھا(7)لُحَیْفْ : یہ آپ کو عامر بن مالِك عامِری نے تحفہ دیا تھا (8)وَرْدْ : یہ آپ کو تمیم داری  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تحفہ دیا تھا (9) مِرْوَاح : حضرت سیّدُنا مرداس بن مؤیلک بن واقد  رضی اللہ تعالٰی عنہ  وفد کی صورت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو یہ گھوڑا تحفہ میں پیش کیا۔ کتب ِ سیرت میں آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے مزید ان  گھوڑوں کے نام بھی ذکر کئے گئے  ہیں : (10)یَعْبُوْب (11)ذواللِمّہ (12)ذُوالْعُقّال (13)سِرحَان (14)طِرْف (15)مِرْتَجَل (16)سِجْل (17)مُلاوِح (18)مَنْدُوْب (19)نَجِیْب (20)یَعْسُوْب۔ (زرقانی علی المواہب ، 5 / 97 تا 105 ، سبل الھدیٰ والرّشاد فی سیرت خیر العباد ، 7 / 414تا419 ، مدارج النبوۃ ، 3 / 624تا628 ، السیرۃ النبویہ لابن کثیر ، 4 / 713) خچرحضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ملکیت میں درج ذیل6 خچّر تھے : (1)دُلْدُلْ : یہ سیاہی مائل سفید رنگ کا خچّر مُقَوْقِس (والی مصر) نے آپ کی بارگاہِ عالیہ میں تحفۃً پیش کیا تھا۔ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سفر میں اس پر سوار ہوئے ، آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بعد حضرتِ سیّدُنا علی  رضی اللہ تعالٰی عنہ   اس پر سواری کرتے رہے اس کے بعد حضرتِ سیّدُنا امام حسن مجتبیٰ  رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو ملا۔ (2)فِضّہ : یہ فروہ بن عمرو جذامی   رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے آپ کو پیش کیا تھا۔ (3)وہ خچر جو ایلہ کے بادشاہ ابنُ العَلماء نے آپ کو تحفہ میں دیا ، یہ سفید رنگ کا تھا ، اسے بھی آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سواری بننے کا شرف حاصل ہوا۔ (4)وہ خچر جو شاہ ِحَبش نَجاشی نے آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو تحفۃً پیش کیا۔ (5)وہ خچر جو دُومۃُ الجندل کے بادشاہ اٌکَیدر بن عبد الملک نے آپ کو تحفہ میں بھیجا۔ (6)وہ خچر جو شاہِ کسریٰ نے آپ کی بارگاہ میں تحفۃً پیش کیا۔ (زرقانی علی المواہب ، 5 / 106 ، مدارج النبوۃ ، 3 / 630 ، سبل الھدیٰ والرشاد ، 7 / 422) دراز گوش دراز گوش یعنی گدھا انبیا اور رسولوں کی سواری ہے اور سرکار  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ملکیت میں بھی دو دراز گوش تھے ، (1)عُفَیْرْ جو کہ مٌقَوْقِس نے آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کوتحفہ میں بھیجا تھااور دوسرے کا نام (2)یَعْفُوْرْ تھا۔ عاشقِ رسول دراز گوش یعفور نامی دراز گوش آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو خیبر میں ملا تھا۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یا رسول اللہ! میرا نام یزید بن شِہاب ہے اور میرے باپ داداؤں میں ساٹھ ایسے گدھے گزرے ہیں جن پر نبیوں نے سواری فرمائی ہے۔ آپ بھی اللہ کے نبی ہیں لہٰذا میری تمنّا ہے کہ آپ کے بعد دوسرا کوئی میری پُشْت پر نہ بیٹھے۔ یعفور کی یہ تمنا اس طرح پوری ہوئی کہ وفات ِاقدس کے بعد یعفور شدّتِ غم سے نڈھال ہو کر ایک کنوئیں میں گر پڑا اور فوراً ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ سرکار  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  یعفور کو بھیجا کرتے تھے کہ فلاں صَحابی کو بلا کر لاؤ تو یہ جاتا تھا اور صَحابی کے دروازہ کو اپنے سَر سے کھٹکھٹاتا تھا تو وہ صَحابی یعفور کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ حضور  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مجھے بلایا ہے چنانچہ وہ فوراً ہی یعفور کے ساتھ دربارِ نبوی میں حاضِر ہوجایا کرتے تھے۔ (الشفا ، 1 / 314 تفسیر روح البیان ، پ14 ، النحل ، تحت الاٰیۃ : 8 ، 5 / 11 ، زرقانی علی المواہب5 / 108) اونٹ(1)مُکْتَسَبْ :  یہ ابو جہل کا اونٹ تھا جو غزوۂ بدر میں آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو بطورِ غنیمت ملا۔ آپ اس پر جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میدانِ عَرَفات میں سُرْخ اونٹ پر جلوہ افروز ہوئے۔ (سیرتِ محمدیہ ، 2 / 393 ، زرقانی علی المواہب ، 5 / 111 ، سبل الھدیٰ والرّشاد ، 7 / 429)  اونٹنیاں(1)قَصْویٰ : جسے حضرتِ سیّدُنا صدیقِ اکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے چار سو درھم کے بدلے خریدا تھا۔ یہ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پاس ہی رہی۔ اسی پر آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مکّۂ معظّمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت فرمائی ۔ (2)عَضْبَاء : جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کبھی دوڑ میں کسی اونٹ سے پیچھے نہیں رہی تھی۔ ایک مرتبہ ایک اَعْرابی کے اُونٹ سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی ، جس پر مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا۔ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مسلمانوں کا یہ حال جان لیا اور  ارشاد فرمایا : اللہ پر یہ حق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بُلند ہواسے پَست کردے۔ (بخاری ، 2 / 274 ، حدیث : 2872) عَضْباء نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا ، نہ پیا اور وفات پا گئی۔ بعض روایات کے مطابق قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی (3)جَدْعَا : اس پر سوار ہو کر آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حجۃُ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا  تھا۔ (4)صَھْبَاء : حجۃُ الوداع کے دن آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس اونٹنی پر سوار ہوکر رَمِی فرمائی تھی یعنی مِنیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں ماری تھیں۔ (تفسیرِ روح البیان ، پ14 ، النحل ، تحت الاٰیۃ : 7 ، 5 / 8 ، الانوار فی شمائل النبی المختار1 / 604 ، سبل الھدیٰ والرّشاد ، 7 / 428 ، زرقانی علی المواہب ، 5 / 110) اس کے علاوہ علمائےکرام نے آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مزید ان اونٹنیوں کے نام ذِکْر فرمائے ہیں : (5)مہرا (6)اَطْلَال (7)اَطراف (8)بردہ (9)بُغُوم (10)برکہ (11)حَنَّاء (12)زمزم (13)رَیَّا (14)سَعْدِیہ (15)سُقْیا (16)سَمرا (17)شَقرا (18)عَجرہ (19)عُرَیْس (20)غَوثہ (21)قَمریہ(22)مروہ(23)مُہرہ (24)وُرشہ (25)یَسییریہ۔ (زرقانی علی المواہب ، 5 / 111)


Share

Articles

Comments


Security Code