رسول کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جشنِ ولادت منانا کیسا؟

اگر صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے میلاد شریف کی محافل منعقد کر کے یومِ ولادت منانا ثابت نہیں تو کیا ایسا کرنا ناجائز ہوگا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جشنِ ولادت نہ تو حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منائی نہ ہی خلفائے راشدین میں کسی نے منائی لہٰذا یہ بدعت ہے اور حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے جس کا انجام جہنّم ہے۔ برائے کرم اس کا تسلّی بخش جواب عنایت فرمائیں ؟

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:  کسی کام کے ناجائز ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ یہ کام حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم یا صحابہ ٔکرامعلیہمُ الرِّضوان  نے نہیں کیا بلکہ مدار اس بات پر ہے کہ اس کام سے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا ہے یا نہیں ؟ اگر منع فرمایا ہے تو وہ کام ناجائز ہے اور منع نہیں فرمایا تو جائز ہے۔ کیونکہ فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔ یعنی ہر چیز مباح اورحلال ہے ہاں اگر کسی چیز کو شریعت منع کردے تو وہ منع ہے، یعنی ممانعت سے حرمت ثابت ہوگی نہ کہ نئے ہونے سے۔ یہ قاعدہ قرآنِ پاک اور احادیثِ صحیحہ و اقوالِ فقہا سے ثابت ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ( وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-)ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں توتمہیں بُری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھوگے کہ قرآن اُتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرماچکا ہے۔(پ7، المائدہ:101)

صدر الافاضل حضرت علّامہ مولانا سیّد محمد نعیمُ الدّین مُرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس اَمر کی شَرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا حرام وہ ہے جس کو اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف ہے تو کلفت میں نہ پڑو۔‘‘ (خزائن العرفان،ص224)

حدیثِ پاک میں ہے: ’’الحلال ما احل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفٰی عنہ‘‘ ترجمہ: حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جس پر  خاموشی فرمائی وہ معاف ہے۔  (ترمذی،ج3،ص280، حدیث:1732)

چونکہ محافلِ دینیہ منعقد کرکے عید میلاد منانے کی ممانعت قرآن و حدیث، اقوالِ فقہا نیز شریعت میں کہیں بھی وارد نہیں، لہٰذا جشنِ ولادت منانا بھی جائز ہے اور صدیوں سے علما نے اسے جائز اور مستحسن قرار دیا ہے۔

شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں: ’’ربیعُ الاوّل چونکہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کا مہینا ہے لہٰذا اس میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچّھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفلِ میلاد کی یہ برکت مجرّب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ کے میلاد مبارَک کو عید بناکر ایسے شخص پر شدّت کی جس کے دل میں مرض ہے۔‘‘ (المواہب اللدنیہ،ج 1،ص27)

شیخ عبدالحق محدّث دِہلویعلیہ رحمۃ اللہ القویفرماتے ہیں:’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محفلِ میلاد کا انعقاد تمام عالَم ِاسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خُصوصاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خُصوصی معمول ہے۔“

 (ماثبت بالسنہ،ص102)

امام جمالُ الدّین الکتانی لکھتے ہیں:’’حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت ہی معظّم، مقدّس اور محترم و مبارَک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پاک اتّباع کرنے والے کے لئے ذریعۂ نجات ہے جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو جہنّم سے محفوظ کرلیا۔ لہٰذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسبِ توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے۔“(سبل الہدیٰ والرشاد،ج1،ص364)

اور یہ کہنا کہ ’’ہرنیا کام گمراہی ہے‘‘ دُرست نہیں کیونکہ بدعت کی ابتدائی طور پر دو قسمیں ہیں بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیّئہ۔ بدعتِ حسنہ وہ نیا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہ ہو جیسے مَوْلِد شریف کے موقع پر محافلِ میلاد، جلوس، سالانہ قراءَت کی محافل کے پروگرام، ختم بخاری کی محافل وغیرہ۔

بدعتِ سیّئہ وہ ہے جو کسی سنّت کے خلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہوجیسے غیرِ عربی میں خُطبۂ جُمعہ و عیدین۔

 چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکلا اور ظاہر ہوا بدعت کہلاتا ہے پھر اس میں سے جو کچھ اصول کے موافق اور قواعد سنّت کے مطابق ہو اور کتاب و سنّت پر قیاس کیا گیا ہو بدعتِ حسنہ کہلاتا ہے اور جو ان اصول و قواعد کے خلاف ہو اسے بدعتِ ضلالت کہتے ہیں۔ اور کل بدعۃ ضلالۃ کا کلیہ اس دوسری قسم کے ساتھ خاص ہے۔‘‘ (اشعۃ اللمعات مترجم،ج1،ص422)

بلکہ حدیث پاک میں نئی اور اچّھی چیز ایجاد کرنے والے کو تو ثواب کی بشارت ہے۔ چنانچہ مسلم شریف میں ہے:مَنْ سَنَّ في الإسلامِ سنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أجْرُهَا، وَأجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورهمْ شَيءٌ، وَمَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيهِ وِزْرُهَا، وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أوْزَارِهمْ شَيءٌ‘‘ ترجمہ: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تمام کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ا ن کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اور جو شخص اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔(مسلم، ص394، حدیث:1017)

 جشنِ ولادت منانا بھی ایک اچّھا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہیں بلکہ عین قرآن و سنّت کے ضابطوں کے مطابِق ہے۔ رب تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا حکم خود قرآنِ پاک نے دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-) ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔(پ11، یونس :58)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:(  وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)) (پ30، والضحٰی:11) ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔  

خود حضورِ اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا یومِ میلا د روزہ رکھ کر مناتے چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا:’’اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (مسلم،ص455، حدیث:2750)

خلاصۂِ کلام یہ کہ شریعت کے دائرہ میں رہ کر خوشی منانا ، مختلف جائز طریقوں سے اِظہارِ مَسرّت کرنا اور محافلِ میلاد کا انعقاد کر کے ذکرِ مصطفےٰ کرتے ہوئے ان پر مسرت و مبارک لمحات کو یاد کرنا جو سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت ہے بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔مزید تفصیل کے لئے علمائے اہلِ سنّت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 کیا فتاویٰ رضویہ میں تاریخ ِولادت 8 ربیع الاول لکھی ہے؟

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگوں نے اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا حوالہ دےکر ایک اسٹیکر شائع کیا ہے جس میں درج ہے کہ آپ نے اپنے رسالے”نطق الہلال“ فتاویٰ رضویہ، جلد26  میں لکھا ہے کہ ولادتِ (پیدائش) نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 8ربیعُ الاوّل ہے اور وفاتِ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 12ربیع ُالاوّل ہے۔کیا واقعی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا یہی موقف ہے کہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت آٹھ ربیعُ الاوّل کو ہوئی؟

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مجدد دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان   علیہ رحمۃ الرحمٰن کی تحقیق یہی ہے کہ جشن ولادت بارہ ربیع الاوّل کو منایا جائے۔

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 411 پر ہے۔”اس(ولادت کی تاریخ کے بارے) میں اقوال بہت مختلف ہیں، دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات (7) قول ہیں مگر اشہر و اکثر و مأخوذ و معتبر بارہویں ہے۔  مکۂ معظّمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولِد اقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج (جیسا کہ مواھب لدنیہ اورمدارج نبوۃ میں ہے) اورخاص اس مکانِ جنّت نِشان میں اسی تاریخ میں مجلسِ میلادِ مقدّس ہوتی ہے۔“

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 427 پر ہے:’’شَرْعِ مُطہّر میں مشہور بینَ الجمہور ہونے کے لئے وقعتِ عظیم ہے (یعنی جوموقف اکثر علما کا ہووہ خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے)اور مشہور عندَ الجمہور 12ربیع ُالاوّل ہے‘‘ اور علِم ھَیْئَت و زیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8ربیعُ الاوّل ہے۔

 مزید فرماتے ہیں ’’ تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر وشام بلاد اسلام و ھندوستان میں بارہ ہی پر ہے اس پر عمل کیا جائے۔الخ“

جب کوئی محققِ وقت کسی مسئلہ پر قلم اٹھاتا ہے تو وہ اس مسئلہ سے متعلّق مختلف لوگوں کی آراء اور اقوال بھی نقل کرتا ہے اس مقام پر امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے اسی طرح کا طرزِعمل اختِیار کرتے ہوئے مختلف لوگوں کے موقف کوبھی بیان فرمایا اور علم زیج والوں کا قول بھی نقل کیا کہ وہ تمام کے تمام آٹھ ربیعُ الاوّل کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں۔

محض آدھی بات کو لےکر پروپیگنڈا کرنا اور اس بات کو چھوڑ دینا  کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جمہور کا موقف کس تاریخ کو قرار دیا ہے اور کس تاریخ کو جشنِ ولادت منانے کی تاکید کی ہے انصاف کے خلاف اور غلط روش ہے۔ خود امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے اپنے اشعارمیں بارہویں تاریخ ہی کو لے کر لمحات مسرّت ہونا بیان کیا اور برادرِ اعلیٰ حضرت نے تو ایک پورا کلام ہی ”بارہویں تاریخ“ کا قافیہ لے کر کہا ہےاور ان کا وصال امامِ اہلِ سنّت کی زندگی ہی میں ہوا اور امامِ اہلِ سنّت ان کے کلام کے پڑھنے کی تاکید کرتے رہے۔ پھر یہ کہنا اور ثاثّر دینا کہ12 تاریخ کو جشنِ ولادت منانا امامِ اہلِ سنّت  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی  مَنْشا کے خلاف ہے بہت بڑی زیادتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭   دارالافتاء اہل سنت نور العرفان ،کھارادر ،باب المدینہ کراچی

Share

رسول کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جشنِ ولادت منانا کیسا؟

مخصوص ایّام میں عورت کا ناخن کاٹنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت حیض و نفاس  کی حالت میں ناخن کاٹ سکتی ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر عورت حیض اور نِفاس سے پاک ہو گئی اور ابھی تک غسل نہیں کیا تو اس حالت میں اس کے لئے ناخن کاٹنا مکروہ ہے کہ یہ حیض و نفاس سے پاک ہونے کے وقت حدث والی ہوئی ہے، اور اس پر اس وقت غسل فرض ہوا ہے، اب اس حالت میں وہ جُنبی کی طرح  ہے، جیسے جنبی کے لئے حالتِ جنابت میں ناخن کاٹنا مکروہ ہے اس کے لئے بھی مکروہ ہے، اور اگر وہ حیض  و نِفاس سے پاک نہیں ہوئی تو اس حالت میں  ناخن  کاٹ سکتی ہے کیونکہ ابھی تک یہ حدث والی نہیں ہے اور اس پر غسل فرض نہیں ہے،اس حالت میں وہ اس معاملے میں پاک آدمی کی طرح ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب                                                                                                             مُصَدِّق

محمد نوید چشتی                                          ابوالصالح محمد قاسم القادری

کیا عورت بھی پیر ہو سکتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شَرْع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورت بھی پیر ہوسکتی ہے اور اس سے عورتیں بیعت ہوسکتی ہیں یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پیر کا مرد ہونا ضرور ہے لہذا سلف صالحین سے آج تک کوئی عورت پیر نہیں بنی اس لئے عورت کو پیری ،مریدی کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی کسی عورت کو یہ اجازت ہے کہ وہ کسی خاتون کی مریدنی بنے ،لہذاخواتین کو بھی چاہیے کسی جامع شرائط پیر ِکامل مرد سے بیعت ہوں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب                                                                                          مُصَدِّق

ابو حذیفہ شفیق رضاعطاری مدنی          ابوالصالح  محمد قاسم القادری

وقتِ نَماز شُرُوع ہونے کے بعد اگر عورت کو حیض آجائے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نَماز کا وقت شُرُوع ہوچکا ہو اور عورت کو حیض آجائے، تو کیا عورت پر پاک ہونے کے بعد اس وقت کی نماز قَضا کرنا لازم ہے؟ سائلہ:بنت ِ جنید عطّاری(راولپنڈی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نماز کا وقت داخل ہوچکا اور عورت نے ابھی تک نماز ادا نہ کی کہ اسے حیض یا نفاس آگیا تو پاک ہونے کے بعد عورت پراس نماز کی قضالازم نہیں،کیونکہ فرضیت ِ نماز کا سبب ِ حقیقی حکم ِ الہٰی اور سبب ِ ظاہری وقت ہے ،اس کے کسی بھی جُز میں نماز ادا کی جائے تو فرض ذمّہ سے ساقط ہو جاتا ہے ، ابتدائی وقت میں ہی نماز ادا کرنالازمی نہیں ،اس اختِیار کے سبب اگر کسی نے او ل وقت میں نماز ادا نہ کی یہاں تک کہ اسے ایسا عذر لاحق ہو گیا جس کی وجہ سے نماز ساقِط ہو جائے تو اس وقت کی نماز مُعاف اوراس کی قضابھی لازم نہیں ہوتی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابوالصالح محمد قاسم القادری

Share

Articles

Comments


Security Code