- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس کام میں قریش کے تابع ہیں ان کے مسلم قریش کے مسلمانوں کے تابع ہیں اور ان کے کافر قریش کے کافروں کے تابع ۱؎(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هٰذَاالشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5979 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ بھلائی برائی میں قریش کے تابع ہیں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5980 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز قریش میں ہے جب تک کہ ان میں سے دو بھی رہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هٰذَاالْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5981 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ چیز قریش میں ہے کہ نہیں دشمنی کرے گا ان کی کوئی مگر اسے الله اس کے منہ کے بل اوندھا ڈال دے گا جب تک کہ دین قائم کریں ۱؎(بخاری)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هٰذَاالْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللّٰهُ عَلٰى وَجْهِهٖ مَا أَقَامُوا الدِّيْنَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5982 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا ۱؎جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلٰى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ».وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ أَويَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَاعَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5983 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غفار کی الله مغفرت کرے،سالم کو الله سلامت رکھے ۱؎اور عصیہ نے الله رسول کی نافرمانی کی ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللّٰهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللّٰهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5984 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قریش اور انصار اور جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار اور اشجع آپس میں دوست ہیں ۱؎ان کا الله رسول کے سوا کوئی دوست نہیں ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5985 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسلم اور غفار اور مزینہ جہینہ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر اور دونوں حلیفوں بنی اسد اور بنی غطفان سے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5986 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں تین وجہوں سے بنی تمیم سے محبت کرتا رہا جو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان کے متعلق فرماتے سنا،میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ یہ لوگ میری امت میں دجال پر سخت تر ہوں گے ۱؎فرمایا ان کے صدقے آئے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے صدقے ہیں۲؎اور جناب عائشہ کے پاس ان میں کی ایک لونڈی تھی تو فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: " مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهٗ يَقُولُ: « هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ:وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « هٰذِهٖ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: « اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5987 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت سعد سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا خدا اسے ذلیل کرے گا ۱؎(ترمذی)
عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5988 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الٰہی تو نے اگلے قریش کو تکلیف چکھائی ہے تو ان کے پچھلوں کو بخشش چکا ۱؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَللّٰهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5989 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابو عامر اشعری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسد اور اشعری لوگ بہترین قبیلے ہیں ۲؎وہ لوگ جنگ میں بھاگتے نہیں خیانت کرتے نہیں وہ مجھ سے ہیں میں ان سے ہوں۳؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5990 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ازد الله کا لشکر ہے زمین میں ۱؎لوگ انہیں پست کرنا چاہیں گے اور الله نہ چاہے گا مگر انہیں بلند کرنا ۲؎اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ کوئی کہے گا ہائے ہائے کاش کہ میرا باپ ازدی ہوتا اور ہائے کاش کہ میری ماں ازدیہ قبیلہ کی ہوتی۳؎(ترمذی)اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْأَزْدُ أَزْدُ اللّٰهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللّٰهُ إِلَّا أَنْ يَّرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ:يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًا وَيَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5991 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت عمران بن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ آپ تین قبیلوں کوناپسند کرتے تھے ثقیف اور بنی حنیفہ اور بنی امیہ ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهٗ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5992 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک ہلاک کرنے والا،عبدالله ابن عصمہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹا تو مختار ابن ابی عبید ہے ۱؎اور ہلاک کرنے والا حجاج ابن یوسف ہے ۲؎ہشام ابن حسان نے کہا کہ انہیں گنو جنہیں حجاج نے باندھ کر قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے ۳؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عِصْمَةَ يُقَالُ: الْكَذَّابُ هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ ألفٍ وَعِشْرِيْنَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5993 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی کہ جب حجاج نے عبدالله ابن زبیر کو قتل کیا تو بی بی اسماء نے کہا ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو خبر دی کہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہے اور ایک ہلاک کرنے والا جھوٹے کوتو ہم نے دیکھ لیا ۲؎لیکن مہلک کو تو میں تجھے نہیں خیال کرتی مگر وہ ہی۳؎اور پوری حدیث تیسری فصل میں آوے گی۔
وَرَوٰى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَنَّ فِي ثَقِيْفٍ كَذَّابًا وَمُبِيْرًا» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمَامُ الحَدِيثِ فِي الْفَصْلِ الثَّالِثِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5994 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو ثقیف کے تیروں نے جلا ڈالا۱؎حضور ان پر بد دعا کریں فرمایا الٰہی ثقیف کو ہدایت دے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللّٰهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: «اللّٰهُمَّ اهْدِ ثَقِيْفًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5995 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے عبدالرزاق سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎وہ مینا سے وہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ بنی قیس سے تھا ۲؎بولا یارسول الله حمیر پر لعنت کیجئے ۳؎حضور نے اس سے منہ پھیر لیا وہ آپ کے پاس دوسری طرف سے آیا آپ نے اس سے منہ پھیر لیا پھر وہ اور طرف سے آیا حضور نے اس سے منہ پھیر لیا پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا الله حمیر پر رحم کرے ۴؎ان کے منہ میں سلام ہے ان کے ہاتھوں میں کھانا ہے وہ امن اور ایمان والے ہیں ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں جانتے مگر عبدالرزاق کی حدیث سے اور ان مینا سے منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔
وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَہٗ رَجُلٌ أَحْسَبُهٗ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِلْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهٗ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنهُ ثمَّ جَاءَهٗ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللّٰهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ اِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُرْوَى عَنْ مَيْنَآءَ هٰذَاأَحَادِيثُ مَنَاكِيْرُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5996 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں کہ مجھ سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کس قبیلہ سے ہو ۱؎میں نے کہا کہ دوس سے ہوں فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسی چیز ہے جس میں بھلائی ہو ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرٰى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5997 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے۱؎میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی ۲؎فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللّٰهُ؟قَالَ:«تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5998 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- 1
- 2