باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو عرب سے خیانت کرے ۱؎وہ میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں پہچانتے مگر حصین ابن عمرو کی حدیث سے اور وہ محدثین کے نزدیک ایسے قوی نہیں ۳؎

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ اِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5999 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے ام جریر سے جو طلحہ ابن مالک کی لونڈی ہیں فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے مولا کو کہتے سنا کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کا نزدیک ہونا عرب کی ہلاکت ہے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ أُمِّ الْحَرِيرِ مَوْلَاةِ طَلْحَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ يَقُولَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6000 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلطنت قریش میں ہے اور قضاء انصار میں ۱؎اور اذان حبشہ میں ۲؎اور امانتداری ازدیعنی یمن میں ہے ۳؎اور ایک روایت میں یہ حدیث موقوف ہے۔ (ترمذی)اور فرمایا یہ بہت صحیح ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَلْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» يَعْنِي الْيَمَنَ. وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاأصح

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6001 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مطیع سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فتح مکہ میں فرماتے سنا کہ اس دن کے بعد قیامت تک کوئی قرشی باندھ کر قتل نہیں کیا جاوے گا ۲؎(مسلم)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا يُقْتَلُ قَرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَاالْيَوْمِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6002 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے ابو نوفل معاویہ ابن مسلم سے فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالله ابن زبیر کو مدینہ کی گھاٹی پر دیکھا ۱؎فرماتے ہیں کہ قریش اور لوگ ان پر گزرنے لگے حتی کہ ان پر عبدالله ابن عمر گزرے ۲؎تو ان پر رک گئے پھر بولے اے ابو خبیب تم پر سلام اے ابو خبیب تم پر سلام اے ابو خبیب ۳؎خدا کی قسم میں تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا خدا کی قسم میں تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا خدا کی قسم تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا۴؎خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں تم بہت روزہ نماز والے صلہ رحمی کرنے والے تھے ۵؎خدا کی قسم جس گروہ کے نزدیک تم برے ہو وہ برا گروہ ہے ۶؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اچھا گروہ ہے ۷؎پھر عبدالله ابن عمر چلے گئے پھر حجاج کو عبدالله کے ٹھہرنے اور ان کی گفتگو کی خبر پہنچی تو ان کی لاش پر آدمی بھیجا وہ اپنی شاخ سے اتارے گئے پھر یہود کے قبرستان میں ڈال دیئے گئے ۸؎پھر اس نے ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکر کو بلوایا انہوں نے آنے سے انکار کیا اس نے دوبارہ قاصد سے کہلا بھیجا کہ یا تو میرے پاس آجاؤ ورنہ تمہارے پاس اس کو بھیجوں گا جو تم کو بالوں سے کھینچے گا
۹
؎فرماتے ہیں کہ انہوں نے انکار ہی کیا بولیں خدا کی قسم میں تیرے پاس نہیں آؤں گی حتی کہ میرے پاس اسے بھیجے جو میرے بال پکڑ کر مجھے گھسیٹے ۱۰؎فرماتے ہیں وہ بولا میری جوتی ۱۱؎دکھاؤ اس نے اپنی جوتی لی پھر اکڑتا ہوا چلا ۱۲؎حتی کہ ان کے پاس پہنچ گیا بولا تم نے مجھے دیکھ لیا کہ میں نے الله کے دشمن سے کیسا سلوک کیا ہے آپ بولیں کہ میں نے تجھے دیکھا کہ تو نے انکی دنیا ان پر بگاڑ دی اور انہوں نے تجھ پر تیری آخرت بگاڑ دی۱۳؎مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو ان سے کہتا ہے کہ اے دو کمر بند والی کے بیٹے خدا کی قسم میں دو کمر بند والی ہوں ان میں سے ایک تو ۱۴؎اس سے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کھانا اور حضرت ابوبکر کا کھانا جانوروں سے اٹھاتی تھی ۱۵؎رہا دوسرا تو وہ ہی کمر بند ہے جس سے عورت بے نیاز نہیں ہوتی آگاہ رہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو خبر دی تھی کہ قبیلہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک فسادی ہلاکت والا جھوٹا تو ہم نے دیکھ لیا رہا فسادی تو میں تجھے نہیں سمجھی مگر وہی ۱۶؎راوی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سے اٹھ گیا انہیں کوئی جواب نہ دیا ۱۷؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي نَوْفَلٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلٰى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتّٰى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللّٰهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ شَرُّهَا لَأُمَّةُ سَوْءٍ - وَفِي رِوَايَةٍ لَأُمَّةُ خَيْرٍ - ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللّٰهِ وَقَوْلُهٗ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهٖ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰى أُمِّهٖ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهٗ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ. قَالَ: فَأَبَتْ وَقَالَتْ: وَاللّٰهِ لَا آتِيْكَ حَتّٰى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُني بِقُرُونِي. قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتِيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتّٰى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللّٰهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللّٰهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهٖ طَعَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنهُ أَمَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا: «أَنَّ فِي ثَقِيْفٍ كَذَّابًا وَمُبِيْرًا» . فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاه. قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6003 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر کے پاس ابن زبیر کے فتنہ کے زمانہ میں دو آدمی آئے ۱؎بولے کہ لوگ جو کر رہے ہیں وہ آپ دیکھتے ہیں اور آپ حضرت عمر کے بیٹے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابی ہیں آپ کو بغاوت سے کون چیز مانع ہے ۲؎فرمایا کہ مجھے مانع یہ ہے کہ الله نے مجھ پر میرے مسلمان بھائی کا خون حرام کردیا ۳؎وہ بولے کہ کیا الله نے یہ نہ فرمایا کہ ان سے جنگ کرو حتی کہ فتنہ نہ رہے ۴؎ابن عمر بولے کہ وہ جنگ تو ہم کرچکے حتی کہ فتنہ نہ رہا ۵؎اور دین الله کا ہوگیا اور تم لوگ چاہتے ہو کہ جنگ کرو حتی کہ فتنہ ہوجاوے اور دین غیر الله کا ہوجاوے ۶؎(بخاری)

وَعَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: إِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا مَا تَرٰى وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ؟ فَقَالَ: يَمْنَعُنِيْ أَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَیَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ. قَالَا: أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:قَدْ قَاتَلْنَا حَتّٰى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلّٰهِ وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتّٰى تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللّٰهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6004 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ طفیل ابن عمرو دوسی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎بولے کہ دوس تو ہلاک ہوگئے انہوں نے نافرمانی کی اور انکار کیا تو ان پر الله سے بددعا کریں لوگ سمجھے کہ حضور ان پر بددعا کریں گے مگر فرمایا الٰہی دوس کو ہدایت دے اور انہیں یہاں پہنچا دے۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللّٰهَ عَلَيْهِمْ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهٗ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6005 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین وجہ سے عرب سے محبت کرو ۱؎کیونکہ میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور جنتی لوگوں کی بولی عربی ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6006 ، باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان