- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھا ۱؎بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسٰى اِلَّا أَنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6087 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت زربن حبیش سے فرماتے ہیں فرمایا علی رضی الله عنہ نے اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی صلی الله علیہ و سلم نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق ۱؎(مسلم)
وَعَنْ زَرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهٗ لَعَهِدَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6088 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خیبر کے دن فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ الله تعالٰی فتح دے گا ۱؎وہ الله اور رسول سے محبت کرتا ہے اور الله رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎پھر جب لوگوں نے صبح پائی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں سب حاضر ہوئے ہر ایک یہ آس لگائے کہ جھنڈا اسے دیا جاوے۳؎فرمایا علی ابن طالب کہاں ہیں لوگوں نے عرض کیا آنکھوں کے بیمار ہیں فرمایا انہیں بلاؤ ۴؎چنانچہ انہیں لایا گیا ۵؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا وہ ایسے اچھے ہوگئے گویا انہیں درد تھا ہی نہیں ۶؎حضور نے انہیں جھنڈا دیا تو علی نے عرض کیا یارسول الله کیا میں ان سے جنگ کروں حتی کہ وہ ہماری مثل ہو جاویں ۷؎فرمایا اپنے نرمی پر جاؤ حتی کہ ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں الله کے ان حقوق کی خبر دو جو ان پر لازم ہیں اسلام میں ۸؎خدا کی قسم الله تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے یہ تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تمہارے پاس سرخ اونٹ ہوں ۹؎(مسلم،بخاری) اور براء کی حدیث کہ حضور نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے قریب ہو میں تم سے بلوغ صغیر کے باب میں ذکر کردی گئی ۱۰؎
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهٖ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللّٰهُ عَلٰى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهٖ فَبَصَقَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتّٰى كَأَنْ لَّمْ يَكُنْ بِهٖ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتّٰى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلٰى رِسْلِكَ حَتّٰى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰهِ فِيهِ فَوَاللّٰهِ لَأَنْ يَّهْدِي اللّٰهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ أَنْ يَّكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ». وَذُكِرَ حَدِيثُ الْبَرَاءِ قَالَ لِعَلِيٍّ: « أَنْتَ مِنِّيْ وَأَنَا مِنْكَ» فِي بَابِ «بُلُوغِ الصَّغِيرِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6089 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں اور وہ ہر مؤمن کے ولی ہیں ۱؎
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6090 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی ہیں ۱؎(ترمذی،احمد)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6091 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں ۲؎اور میری طرف سے پیغام نہ دے گا مگر میں یا علی ۳؎(ترمذی)اور احمد نے ابو جنادہ سے روایت کی۔
وَعَن حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلَا يُؤَدِّيْ عَنِّيْ إِلَّا أَنَا وَعَلِيٌّ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ أَبِيْ جُنَادَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6092 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۱؎تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهٖ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِيْ وَبَيْنَ أَحَدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6093 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک چڑیا تھی ۱؎تو فرمایاالٰہی میرے پاس ایسے شخص کو لا جو ساری مخلوق سے تجھے پسند ہو کہ میرے ساتھ یہ چڑیا کھائے ۲؎تو ان کے پاس علی آئے آپ کے ساتھ کھائی (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِيَ هٰذَاالطَّيْرَ» فجَاءَہٗ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6094 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے ۱؎اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے ۲؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلَتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ «حَسَنٌ غَرِيبٌ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6095 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں علم کا گھر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور فرمایا کہ بعض محدثین نے یہ حدیث شریک سے روایت کی ہے اور اس میں صنابحی کا ذکر نہ کیا اور ہم یہ حدیث سوائے شریک کے کسی ثقہ سے نہیں پہچانتے ۲؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَالَ: رَوٰى بَعْضُهُمْ هٰذَاالْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلَا نَعْرِفُ هٰذَاالْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6096 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے طائف کے دن حضرت علی کو بلایا ان سے سرگوشی کی ۱؎تو لوگوں نے کہا کہ حضور کی سرگوشی اپنےچچازادے کے ساتھ بہت دراز ہوئی تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان سے میں نے سرگوشی نہیں کی لیکن الله نے سرگوشی کی ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا انْتَجَيْتُهٗ وَلَكِنَّ اللّٰهَ انْتَجَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6097 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا اے علی میرے اور تمہارے سوا کسی کو جائز نہیں کہ اس مسجد سے جنبی ہوکر گزرے ۱؎علی ابن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار ابن صراد سے کہا کہ اس حدیث کے معنی کیا ہیں فرمایا یہ مطلب ہے کہ میرے اور تمہارے سوا کسی کو حلال نہیں کہ جنابت میں مسجد کو راستہ بنائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هٰذَاالْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنٰى هٰذَاالْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهٗ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6098 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا جن میں جناب علی تھے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا حالانکہ آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے الٰہی مجھے موت نہ دینا حتی کہ تو مجھے علی کو دکھا دے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللّٰهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتّٰى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6099 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۱؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهٗ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6100 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جس نے علی کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا ۱؎(احمد)
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِيْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6101 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے ۱؎جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی ۲؎اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا ۳؎پھر فرمایا میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں ۴؎اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے ۵؎(احمد)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسٰى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتّٰى بَهَتُوا أُمَّهٗ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارٰى حَتّٰى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهٗ شَنَآنِي عَلٰى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6102 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت براء ابن عازب اور زید ابن ارقم سے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم خم تالاب پر اترے ۱؎تو جناب علی کا ہاتھ پکڑا فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں مؤمنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں سب نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا والی ہوں اس کی جان سے زیادہ ۲؎لوگ بولے ہاں تو فرمایا الٰہی جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی(دوست)ہیں ۳؎الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جوان سے دشمنی کرے تو اس کا دشمن رہ ۴؎جناب علی سے اس کے بعد حضرت عمر ملے بولے اےابوطالب کے فرزند مبارک ہو کہ تم نے صبح سویرا پایا اس طرح کہ تم ہر مؤمن مردوعورت کے مولٰی ہو ۵؎(احمد)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: « أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «اللّٰهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهٗ عُمَرُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلٰى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ. رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6103 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ جناب ابوبکر و عمر نے حضرت فاطمہ کا پیغام دیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ چھوٹی ہے ۱؎پھر ان کا پیغام جناب علی نے دیا حضور نے ان کا نکاح علی سے کردیا ۲؎(نسائی)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» ثُمَّ خَطَبَهَا عليٌّ فَزَوَّجَهَا مِنْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6104 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے تمام دروازوں کے بند کرنے کا حکم دیا سواء حضرت علی کے دروازے کے ۱؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6105 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی ۱؎میں آپ کی خدمت میں سویرے تڑکے آتا تھا عرض کرتا تھا آپ پر سلام اے الله کی نبی ۲؎تو اگر آپ کھکار دیتے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتا ورنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۳؎(نسائی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلٰى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلٰى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6106 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- 1
- 2