باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو مجھ پر رسول الله صلی الله علیہ و سلم گزرے میں کہہ رہا تھا کہ الٰہی اگر میری موت آگئی ہے تو اب مجھے چین دے اور اگر ابھی دیر ہے تو مجھے صحت دے اور اگر امتحان ہے تو مجھے صبر دے ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم نے کیا کہا انہوں نے دوبارہ آپ پر پیش کردیا جو کہا تھا حضور نے اپنے پاؤں سے ان کو ٹھوکر لگائی ۲؎اور فرمایا الٰہی انہیں عافیت دے انہیں شفا دے،راوی کو شک ہے فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ بیماری نہ ہوئی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِن كَانَ متأخِّراً فَارْفَعْنِيْ وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ فَضَرَبَهٗ بِرِجْلِهٖ وَقَالَ: «اللّٰهُمَّ عَافِهٖ - أَوِ اشْفِهٖ » شَكَّ الرَّاوِي قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6107 ، باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل